پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 21 جنوری کو طلب کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
اسلام آباد: ( نیوزڈیسک) پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 21 جنوری کو طلب کرنے کا فیصلہ، وزارت پارلیمانی امور نے سمری صدر مملکت کو ارسال کر دی۔
مشترکہ اجلاس 21 جنوری کو صبح ساڑھے 10 بجے طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا، مشترکہ اجلاس میں مجموعی طور پر 29 بل منظوری کیلئے پیش ہوں گے۔
18 نجی 11 حکومتی بل منظوری کے لئے پیش ہوں گے، 24 بل صدر کی منظوری کے بغیر واپس کئے گئے جو مشترکہ اجلاس میں پیش ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق پانچ نئے بل اجلاس میں پیش کئے جائیں گے جن میں جرنلسٹ پروٹیکشن بل، گھریلو تشدد بل اور مختلف جامعات کے نجی و سرکاری بل شامل ہیں۔
قومی کمیشن برائے انسانی حقوق میں ترمیم بل سمیت دیگر اہم بل بھی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کئے جائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔