کراچی میں مضرِ صحت گوشت فروخت کرنے والے گروہ کا اہم کارندہ میمن گوٹھ سے گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
کراچی:
شہر قائد میں مضرِ صحت گوشت فروخت کرنے والے گروہ کے اہم کارندے کو میمن گوٹھ پولیس نے بروقت کارروائی میں گرفتار کرلیا۔
ترجمان ملیر پولیس کے مطابق میمن گوٹھ پولیس نے خفیہ اطلاع کی بنیاد پر فوری کارروائی کرتے ہوئے میمن گوٹھ کے مختلف علاقوں میں چھاپے مار کر ایک ملزم کو گرفتار کیا۔ گرفتار ملزم کے قبضے سے مردہ جانور برآمد کیا گیا یہ گوشت شہریوں سمیت مختلف ہوٹلوں کو فروخت کرنے کی تیاری کی جا رہی تھی۔
پولیس نے مضرِ صحت گوشت کی ترسیل میں استعمال ہونے والی پِک اَپ سوزوکی کو بھی ضابطے کے تحت تحویل میں لے لیا۔
گرفتار ملزم کی شناخت فیض محمد ولد شفیع کے نام سے ہوئی ہے۔ گرفتار ملزم اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ مردہ جانوروں کا گوشت مختلف علاقوں میں شہریوں اور ہوٹلوں کو فروخت کرنے میں ملوث تھا۔
گرفتار ملزم کا نام پولیس کی مطلوبہ فہرست میں بھی شامل تھا۔ملوث نیٹ ورک کے دیگر کارندوں کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔پولیس نے ضابطے کے تحت مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش کا آغاز کر دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گرفتار ملزم میمن گوٹھ پولیس نے
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔