اسلام آباد:ملک کے مختلف علاقوں میں آئندہ ہفتہ وقفے وقفے سے بارش اور برفباری کا امکان ہے جس کے حوالے سے این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمر جنسیز آپریشن سینٹر نے گلگت بلتستان، بالائی خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں ممکنہ شدید سردی کی لہر کا الرٹ جاری کر دیا۔

محکمہ موسمیات کے مطابق مغربی ہواؤں کا سلسلہ کل سے بالائی علاقوں میں پہنچے گا اور 20 جنوری سے اس سلسلہ کی شدت میں اضافہ ہوگا۔

مغربی ہواؤں کا یہ سلسلہ 21 جنوری سے مختلف علاقوں کو لپپٹ میں لے گا، کل سے 19 جنوری کے دوران گلگت بلتستان اور کشمیر میں بارش اور برفباری کا امکان ہے۔ خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں میں بھی بارش اور برفباری کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق 18 سے 20 جنوری کے دوران مری اور گلیات میں بارش اور برفباری کا امکان ہے، 20 سے 23 جنوری کے دوران اسلام آباد میں بارش جبکہ پنجاب کے مختلف اضلاع مری، گلیات میں بارش اور برفباری کا امکان ہے۔

اسی طرح، 23 جنوری کو خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں میں دوبارہ بارش اور برفباری کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق 21 سے 23 جنوری کے دوران بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بارش اور برفباری کا امکان ہے جبکہ 22 سے 23 جنوری کے دوران سندھ کے مختلف مقامات پر بارش کا امکان ہے۔

بارش اور برفباری سے بالائی علاقوں میں آمدورفت متاثر ہونے کا خدشہ ہے جبکہ بالائی خیبر پختونخوا اور کشمیر میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے۔ پنجاب، بالائی سندھ اور خیبر پختونخوا میں بارش کے باعث دھند میں کمی کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات نے ہدایت کی ہے کہ شہری خراب موسم میں غیر ضروروی سفر سے اجتناب کریں۔

دوسری جانب، این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمر جنسیز آپریشن سینٹر نے بھی اس متعلق الرٹ جاری کیا ہے۔ ترجمان کے مطابق آئندہ دنوں میں جنوری کے آخر تک رات اور صبح کے اوقات میں شدید سرد موسم متوقع ہے۔ بالائی علاقوں میں درمیانے سے شدید درجے کی برفباری کا امکان ہے جس کے باعث رابطہ سڑکیں، ٹرانسپورٹ اور بجلی کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔

پہاڑی علاقوں میں ممکنہ برفباری کے باعث برفانی تودے گرنے اور پھسلن کے خطرات میں اضافہ ہوسکتا ہے لہٰذا عوام سے احتیاط کی اپیل کی گئی ہے۔ شدید سردی اور برفباری بچوں، بزرگوں اوربیمار افراد کی صحت کو متاثر کر سکتی ہے۔

میدانی علاقوں میں سرد و خشک موسم اور بعض مقامات پر کورا/ پالا پڑنے کا امکان ہے جبکہ فصلوں اور باغات کو نقصان کا خدشہ ہے۔ پہاڑی علاقوں میں غیر ضروری سفر سے گریز اور برفباری والے علاقوں میں گاڑی کے ٹائیروں پر حفاظتی زنجیر کے استعمال کی ہدایت کی گئی ہے۔

شدید سرد موسم کے دوران گرم کپڑوں اور ہیٹر کا محفوظ استعمال کریں، بچوں، بزرگوں اور بیمار افراد کا خصوصی خیال رکھیں۔ صوبائی اداروں اور ضلعی اتنظامیہ کو پہاڑی علاقوں میں ممکنہ برفباری کے پیش نظر پیشگی اقدامات اور ضروری مشینری کی دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

سیاحتی مقامات پر دستیاب وسائل بالخصوص رہائشی مقامات کی دستیابی کو مد نظر رکھتے ہوئے آمدورفت کے لیے اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ موسم سے متعلق مستند معلومات کے لیے ٹی وی، ریڈیو، تصدیق شدہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ موبائل ایپ سے راہنمائی لیں۔

این ڈی ایم اے تمام ممکنہ خطرات اور موسمی صورتحال کے حوالے سے متعلقہ اداروں کو پیشگی آگاہی اور ضروری اقدامات کے لیے ہدایات جاری کر رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: میں بارش اور برفباری کا امکان ہے بالائی علاقوں میں جنوری کے دوران خیبر پختونخوا محکمہ موسمیات ڈی ایم اے کی گئی ہے ہدایت کی کے مختلف کے مطابق

پڑھیں:

سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے

سکھر:

سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔

مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔

دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔

سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔

سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔

صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔

سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔

انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔

سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری