ایران پر امریکی حملہ قریب، چند گھنٹوں میں کارروائی کا امکان، برطانوی خبر رساں ادارے کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کسی بھی وقت شروع ہو سکتی ہے، جب کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، فوجی نقل و حرکت اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت بیانات نے حملے کے خدشات کو مزید تقویت دے دی ہے۔
رائٹرز نے باخبر مگر نام ظاہر نہ کرنے والے مغربی اور یورپی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران پر امریکی حملہ قریب دکھائی دے رہا ہے اور یہ کارروائی آئندہ 24 گھنٹوں یا حتیٰ کہ چند گھنٹوں میں بھی ہو سکتی ہے۔ ایک مغربی فوجی عہدیدار کے مطابق تمام اشارے اس بات کی جانب ہیں کہ امریکی حملہ ناگزیر ہے، تاہم یہ بھی کہا گیا کہ موجودہ امریکی انتظامیہ غیر یقینی فضا قائم رکھنا اپنی حکمتِ عملی کا حصہ سمجھتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں ایران کے خلاف متعدد سخت بیانات دیے ہیں۔ ایران اس وقت شدید عوامی احتجاج کی لپیٹ میں ہے، جو دسمبر کے اواخر میں مہنگائی اور ایرانی ریال کی قدر میں شدید کمی کے باعث شروع ہوا۔ تہران کا مؤقف ہے کہ ان مظاہروں کے دوران ہونے والی ہلاکتوں اور بےامنی کے پیچھے امریکا اور اسرائیل کا ہاتھ ہے۔
رائٹرز کے مطابق 2 یورپی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی فوجی مداخلت اگلے 24 گھنٹوں میں ہو سکتی ہے، جب کہ ایک اسرائیلی عہدیدار نے بھی عندیہ دیا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران پر حملے کا فیصلہ کر چکے ہیں، اگرچہ ممکنہ کارروائی کی نوعیت اور دائرہ کار تاحال واضح نہیں۔
ادھر امریکا نے ممکنہ ایرانی جوابی کارروائی کے پیشِ نظر مشرقِ وسطیٰ میں واقع اپنے فوجی اڈوں سے کچھ عملے کو نکالنا شروع کر دیا ہے۔ امریکی حکام نے خطے میں موجود اپنے شہریوں کو بھی احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔
منگل کے روز صدر ٹرمپ نے ایرانی مظاہرین سے ریاستی اداروں کا کنٹرول سنبھالنے کی اپیل کی تھی، جب کہ اس سے قبل وہ یہ کہہ چکے ہیں کہ مدد راستے میں ہے۔ اس سے پہلے امریکی محکمہ خارجہ نے ایران میں موجود تمام امریکی شہریوں کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کا مشورہ دیا تھا۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ فوجی تصادم نہیں چاہتا، تاہم وہ جنگ کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر بات چیت منصفانہ، باعزت اور برابری کی بنیاد پر ہو تو تہران مذاکرات کے لیے بھی تیار ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ بیان کے مطابق اس یونٹ سے وابستہ ایک مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ اڈے کے فضائی ٹریفک کنٹرول ٹاور کو بھی نقصان پہنچا۔ پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جارح کو سزا دینے کے سلسلے کی کڑی ہے اور امریکی فوج کی ان کارروائیوں کا جواب ہے، جن میں جمعرات کی صبح امام حسینؑ کے روضے کی جانب جانے والے زائرین کے راستے کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق امریکی حملے میں عراق کی سرحد پر واقع شلمچہ بارڈر کراسنگ پر دو افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔
سپاہ پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں برطانیہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کیخلاف استعمال ہونے والا برطانوی اڈہ جائز ہدف تصور ہو گا۔ بیان کے مطابق امریکی فوج نے گزشتہ روز بحرِ ہند میں موجود اپنے بحری بیڑے کے کروز میزائل ختم ہونے کے بعد برطانیہ کے فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ بیان کے اختتام پر برطانیہ کی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ خطے کے عوام کی مشکلات کی بنیادی ذمہ دار ہے اور اسلامی ممالک کی تقسیم، قتلِ عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام، فلسطین پر قبضے کی منصوبہ بندی اور اسرائیل کے قیام میں اس کا کردار تاریخ کا حصہ ہے۔ بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ برطانیہ نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل آج ہی ایرانی وزارتِ خارجہ نے برطانوی حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی تھی، جس کے تحت امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی حملوں کی تیاری کے لیے برطانوی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے استعمال کی اجازت دی گئی۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ان حملوں کی تیاری یا ان پر عمل درآمد میں کسی بھی قسم کا تعاون جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت کے مترادف ہوگا۔