data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ امریکی حملے کے خدشات کے پیش نظر امریکی فوجی اہلکاروں نے قطر کے العدید ایئر بیس سے انخلا کا عمل شروع کر دیا ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق خطے میں بگڑتی صورتحال کے باعث امریکی صدر نے مشرقِ وسطیٰ میں تعینات فوجیوں کی تعداد کم کرنے کا فیصلہ کیا، جس کے بعد امریکی افواج کو قطر کے العدید ایئر بیس چھوڑنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔ ان ہدایات کے بعد فوجیوں نے اڈے سے روانگی شروع کر دی ہے۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ نے بھی قطر میں واقع امریکی فوجی اڈے سے اپنے اہلکاروں کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق العدید ایئر بیس مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کا سب سے بڑا فوجی مرکز ہے، جہاں 10 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں۔

واضح رہے کہ ایران پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ اگر امریکا نے حملہ کیا تو خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ اس حوالے سے ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کے اتحادی ممالک کو پیغام دے دیا ہے اور ان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ واشنگٹن کو ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی سے روکیں۔

ویب ڈیسک مقصود بھٹی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: امریکی فوجی

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی