امریکا کا پاکستان سمیت 75 ممالک کیلیے ’ویزا پروسیسنگ‘ معطل کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
ایران کے ساتھ کشیدگی اور ممکنہ حملوں کے دوران امریکا نے 75 ممالک کے لیے ویزا پروسیسنگ کو معطل کردیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس بات کا اعلان امریکی وزارت خارجہ کے ایک بیان میں کیا گیا جس کا اطلاق 20 جنوری سے ہوگا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام امریکی امیگریشن قوانین اور حفاظتی جائزوں کو سخت کرنے کے ایک وسیع پروگرام کا حصہ ہے۔
امریکی وزارتِ خارجہ نے اس فیصلے کی تفصیلات جاری نہیں کیں لیکن محکمہ کے اندرونی میمو میں کچھ واضح احکامات دیئے گئے ہیں۔
جن میں امریکی سفارت اور قونصل خانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ موجودہ قوانین کے تحت ویزوں کو مسترد کریں جب تک کہ نئے جائزے مکمل نہیں ہوں گے۔
ابتدائی رپورٹس کے مطابق یہ معطلی خاص طور پر امیگرینٹ ویزوں (ایسے ویزے جو مستقل رہائش یا مستقل داخلے کا راستہ ہیں) پر لاگو ہوتی ہے۔
غیر امیگرینٹ ویزوں جیسے سیاحت، کاروبار یا تعلیم کے ویزے کے بارے میں ابھی واضح ہدایات سامنے نہیں آئی ہیں۔
متاثرہ ممالک میں ایران، روس، افغانستان، صومالیہ، برازیل، نائیجیریا، تھائی لینڈ،عراق، مصر، یمن، ایتھوپیا، سوڈان وغیرہ شامل ہیں۔
چند آزاد ذرائع کا دعویٰ ہے کہ غیر حتمی فہرست میں پاکستان، بنگلا دیش، نیپال، عراق، اردن، مراکو، لبنان، سریا، یوگنڈا، اریٹیریا، غانا، جیورجیا، اور کئی افریقی و ایشیائی ملک بھی شامل ہیں۔
امریکی وزارت خارجہ نے تاحال متاثرہ ممالک کی مکمل فہرست جاری نہیں کی ہے تاہم وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ درستگی کے ساتھ امیگریشن کی جانچ اور سکریننگ کے طریقہ کار کا دوبارہ جائزہ لینے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ خاص طور پر ایسے درخواست دہندگان کے بارے میں جنہیں ممکنہ طور پر مستقبل میں امریکی عوامی فائدوں یا ویلفیئر پروگراموں پر منحصر قرار دیا جا سکتا ہے۔
امریکی وزارت خارجہ کے حکام نے واضح کیا ہے کہ اس معطلی کے دوران قونصلر افسران کو موجودہ قوانین کے تحت ویزا درخواستیں مسترد کرنے اور نئے جائزے کے مکمل ہونے تک مزید درخواستیں قبول نہ کرنے کا اختیار ہے۔
یاد رہے کہ ویزا پروسیسنگ کی معطلی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ حکومت میں جاری سخت امیگریشن پالیسیوں کا تسلسل ہے۔
صدر ٹرمپ نے گزشتہ سال بھی مختلف ممالک کے خلاف امیگریشن پابندیاں اور سخت اسکریننگ قوانین نافذ کیے تھے۔
جن میں پبلک چارج یعنی وہ درخواست دہندگان جو ممکن ہے کہ امریکی ویلفیئر پروگراموں پر انحصار کریں کے بارے میں سخت فیصلے شامل کیے۔
یہ نئی پابندی خاص طور پر ان ممالک کے شہریوں کے لیے حیران کن ہو سکتی ہے جن کے لوگوں کو پہلے ویزا حاصل کرنے میں نسبتاً آسانی ہوتی تھی۔
جیسے برازیل یا تھائی لینڈ، جبکہ ایران، افغانستان اور صومالیہ جیسے ممالک پہلے ہی سخت چیلنجز کا سامنا کر رہے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: امریکی وزارت
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔