ایران میں موجود پاکستانی شہریوں اور طلبہ کیلئے وزارت خارجہ میں کوآرڈینیشن و مانیٹرنگ سیل قائم
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
ایران میں موجود پاکستانی شہریوں اور طلبہ کیلئے وزارت خارجہ میں کوآرڈینیشن و مانیٹرنگ سیل قائم WhatsAppFacebookTwitter 0 14 January, 2026 سب نیوز
تہران (آئی پی ایس )ایران میں موجود پاکستانی شہریوں وطلبا کے لیے وزارت خارجہ میں کوآرڈینیشن و مانیٹرنگ سیل قائم کردیا گیا۔ترجمان دفترخارجہ کے مطابق کوآرڈینیشن ومانیٹرنگ سیل ایران کی صورتحال کے حوالے سے پاکستانیوں کیلئے کام کر رہا ہے۔
دوسری جانب ایران میں تعینات پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو کا کہنا ہے کہ ایران میں موبائل اور لینڈلائن فونز سے بین الاقوامی کالزکی سہولت بحال ہوگئی ہے۔مدثر ٹیپو کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی کالزکی بحالی سے پاکستانی شہری اپنے اہلخانہ اور عزیز واقارب سے رابطہ کرسکیں گے۔مدثر ٹیپو کے مطابق ایران میں موجود پاکستانی شہریوں کے لیے یہ پیشرفت نہایت اہم اور مفید ہے، پاکستانی شہری اپنے اہلخانہ سے رابطہ کریں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربلدیاتی انتخابات سے متعلق پنجاب حکومت کی ٹائم لائن پر عمل نہ کرنے پر نوٹس بلدیاتی انتخابات سے متعلق پنجاب حکومت کی ٹائم لائن پر عمل نہ کرنے پر نوٹس وزیراعظم شہباز شریف اور امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی میں ٹیلیفونک رابطہ ملکی سول سروس کو عالمی سطح سے ہم آہنگ کرنے کیلئے اصلاحات ناگزیر ہیں ، وزیراعظم جماعت اسلامی نے وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی اداروں کا صدارتی آرڈیننس اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 20جنوری کو طلب کرنے کا فیصلہ زرداری، نواز اور عمران کے ناموں پر نمبر پلیٹس کی نیلامی کا باضابطہ اعلانCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ایران میں موجود پاکستانی شہریوں
پڑھیں:
حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کیلئےحاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سٹاک مارکیٹ میں مندی، انڈیکس ایک لاکھ 70 ہزار پوائنٹس کی حد کھو بیٹھا
دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔
سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔
دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔
ٹرمپ کو بغیر سوچے سمجھے جارحیت کی قیمت چکانا پڑے گی: عباس عراقچی
حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔
پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت کا اعلان
وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔