جوڈیشل کمیشن نے پشاور ہائیکورٹ کے 6 ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنے کی منظوری دیدی
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
جوڈیشل کمیشن نے پشاور ہائیکورٹ کے 6 ایڈیشنل ججز کو مستقل کر نے کی منظوری دے دی۔ چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت پشاورہائیکورٹ کے 10 ایڈیشنل ججز کی مستقلی کے لیے جوڈیشل کمیشن اجلاس ہوا جس میں موجود ارکان نے متفقہ طور پر 6 ججوں کو مستقل اور 4ججوں کی مدت میں 6 ماہ توسیع کی منظوری دی۔ اس کے علاوہ پشاورہائیکورٹ کے جسٹس محمد طارق آفریدی، جسٹس عبدالفیاض اور جسٹس فرح جمشید کی مستقلی پر غور کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ایڈیشنل جج جسٹس انعام اللہ خان، ایڈیشنل جج جسٹس فرح جمشید، ایڈیشنل جج جسٹس ثابت اللہ اور ایڈیشنل جج جسٹس اورنگزیب کی مدت میں 6ماہ کی توسیع کی گئی۔ ذرائع نے بتایا کہ ایڈیشنل جج جسٹس صادق علی، ایڈیشنل جج جسٹس مدثر امیر، ایڈیشنل جج جسٹس محمد طارق آفریدی اور ایڈیشنل جج جسٹس عبدالفیاض کو مستقل جج بنانےکی منظوری دی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہےکہ ایڈیشنل جج جسٹس اصلاح الدین اور ایڈیشنل جج جسٹس قاضی جواد احسان اللہ کو بھی مستقل جج بنانےکی منظوری دی گئی۔ ذرائع کے مطابق جوڈیشل کمیشن اجلاس میں پی ٹی آئی ارکان بیرسٹرعلی ظفر اور بیرسٹر گوہر شریک نہیں ہوئے جب کہ خیبرپختونخوا کے وزیر قانون آفتاب عالم آفریدی بھی اجلاس میں نہیں آئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ایڈیشنل جج جسٹس جوڈیشل کمیشن کی منظوری دی کو مستقل
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔