ملک میں آئندہ ہفتے بارش اور برفباری کا امکان، شدید سردی کی لہر کا الرٹ بھی جاری
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
ملک کے مختلف علاقوں میں آئندہ ہفتہ وقفے وقفے سے بارش اور برفباری کا امکان ہے جس کے حوالے سے این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمر جنسیز آپریشن سینٹر نے گلگت بلتستان، بالائی خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں ممکنہ شدید سردی کی لہر کا الرٹ جاری کر دیا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق مغربی ہواؤں کا سلسلہ کل سے بالائی علاقوں میں پہنچے گا اور 20 جنوری سے اس سلسلہ کی شدت میں اضافہ ہوگا۔
مغربی ہواؤں کا یہ سلسلہ 21 جنوری سے مختلف علاقوں کو لپپٹ میں لے گا، کل سے 19 جنوری کے دوران گلگت بلتستان اور کشمیر میں بارش اور برفباری کا امکان ہے۔ خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں میں بھی بارش اور برفباری کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق 18 سے 20 جنوری کے دوران مری اور گلیات میں بارش اور برفباری کا امکان ہے، 20 سے 23 جنوری کے دوران اسلام آباد میں بارش جبکہ پنجاب کے مختلف اضلاع مری، گلیات میں بارش اور برفباری کا امکان ہے۔
اسی طرح، 23 جنوری کو خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں میں دوبارہ بارش اور برفباری کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق 21 سے 23 جنوری کے دوران بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بارش اور برفباری کا امکان ہے جبکہ 22 سے 23 جنوری کے دوران سندھ کے مختلف مقامات پر بارش کا امکان ہے۔
بارش اور برفباری سے بالائی علاقوں میں آمدورفت متاثر ہونے کا خدشہ ہے جبکہ بالائی خیبر پختونخوا اور کشمیر میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے۔ پنجاب، بالائی سندھ اور خیبر پختونخوا میں بارش کے باعث دھند میں کمی کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات نے ہدایت کی ہے کہ شہری خراب موسم میں غیر ضروروی سفر سے اجتناب کریں۔
دوسری جانب، این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمر جنسیز آپریشن سینٹر نے بھی اس متعلق الرٹ جاری کیا ہے۔ ترجمان کے مطابق آئندہ دنوں میں جنوری کے آخر تک رات اور صبح کے اوقات میں شدید سرد موسم متوقع ہے۔ بالائی علاقوں میں درمیانے سے شدید درجے کی برفباری کا امکان ہے جس کے باعث رابطہ سڑکیں، ٹرانسپورٹ اور بجلی کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔
پہاڑی علاقوں میں ممکنہ برفباری کے باعث برفانی تودے گرنے اور پھسلن کے خطرات میں اضافہ ہوسکتا ہے لہٰذا عوام سے احتیاط کی اپیل کی گئی ہے۔ شدید سردی اور برفباری بچوں، بزرگوں اوربیمار افراد کی صحت کو متاثر کر سکتی ہے۔
میدانی علاقوں میں سرد و خشک موسم اور بعض مقامات پر کورا/ پالا پڑنے کا امکان ہے جبکہ فصلوں اور باغات کو نقصان کا خدشہ ہے۔ پہاڑی علاقوں میں غیر ضروری سفر سے گریز اور برفباری والے علاقوں میں گاڑی کے ٹائیروں پر حفاظتی زنجیر کے استعمال کی ہدایت کی گئی ہے۔
شدید سرد موسم کے دوران گرم کپڑوں اور ہیٹر کا محفوظ استعمال کریں، بچوں، بزرگوں اور بیمار افراد کا خصوصی خیال رکھیں۔ صوبائی اداروں اور ضلعی اتنظامیہ کو پہاڑی علاقوں میں ممکنہ برفباری کے پیش نظر پیشگی اقدامات اور ضروری مشینری کی دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سیاحتی مقامات پر دستیاب وسائل بالخصوص رہائشی مقامات کی دستیابی کو مد نظر رکھتے ہوئے آمدورفت کے لیے اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ موسم سے متعلق مستند معلومات کے لیے ٹی وی، ریڈیو، تصدیق شدہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ موبائل ایپ سے راہنمائی لیں۔
این ڈی ایم اے تمام ممکنہ خطرات اور موسمی صورتحال کے حوالے سے متعلقہ اداروں کو پیشگی آگاہی اور ضروری اقدامات کے لیے ہدایات جاری کر رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میں بارش اور برفباری کا امکان ہے بالائی علاقوں میں جنوری کے دوران خیبر پختونخوا محکمہ موسمیات ڈی ایم اے کی گئی ہے ہدایت کی کے مختلف کے مطابق
پڑھیں:
گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا، متعدد شاہراہیں، پل اور رابطہ سڑکیں بہہ جانے سے ہزاروں افراد، جن میں سیاح بھی شامل ہیں، مختلف علاقوں میں پھنس گئے۔
محکمہ موسمیات نے 26 جولائی تک گلگت بلتستان میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے گلیشیائی جھیلیں پھٹنے سے اچانک سیلاب آنے کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پورا ہفتہ موسلا دھار مون سون بارشیں، محکمہ موسمیات کا ملک گیرالرٹ، شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کا انتباہ
گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق قراقرم شاہراہ داسو سے ہنزہ اور نگر تک کئی مقامات پر بند ہے، جبکہ بابوسر روڈ، بلتستان روڈ، نلتر شاہراہ، غذر۔شندور روڈ، استور ویلی روڈ اور دیگر اہم راستے بھی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ناقابلِ استعمال ہوگئے ہیں۔
مسلسل سیلابی صورتحال کے باعث امدادی اور بحالی کی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ کئی علاقے پل اور رابطہ سڑکیں تباہ ہونے کے بعد ملک کے دیگر حصوں سے منقطع ہو گئے ہیں۔
روندو سب ڈویژن کے تورمک نالہ میں شدید سیلاب سے کم از کم تین اہم پل، جن میں ملان پل بھی شامل ہے، بہہ گئے۔ خرمانگ، گانچھے اور شگر اضلاع میں سڑکوں، پلوں، زرعی زمینوں، فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ ہراموش میں معلق پل اور بجلی گھر متاثر ہوئے ہیں۔
استور، تانگیر، تھور اور ضلع دیامر کے دیگر علاقوں میں بجلی، پانی اور مواصلاتی نظام معطل ہو گیا ہے۔ پینے کے پانی کی اسکیمیں، آبپاشی کے نہری نظام اور حفاظتی پشتے بھی تباہ ہو گئے، جبکہ کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں کی پیشگوئی، گلیشیئر پھٹنے اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری
استور، تھور ویلی، تانگیر اور دیگر علاقوں میں درجنوں خاندان سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بے گھر ہو گئے ہیں۔
ضلع غذر میں متعدد مقامات پر سڑکیں بند، مقامی سطح پر سیلابی صورتحال اور دو گھروں کو جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ احتیاطی تدابیر کے تحت حساس علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
ہنزہ نگر دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے سے گلگت کے جوتل علاقے میں آٹھ گھروں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جبکہ یاسین ویلی، شیلی آباد، امیت اور دیگر علاقوں میں دریا کے کٹاؤ سے زرعی اراضی اور درختوں کو نقصان پہنچا ہے۔ غذر۔شندور اور غذر۔گلگت سڑکیں بھی تاحال بند ہیں۔
حکام نے شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے اور انہیں خیمے، راشن، ادویات اور صاف پانی فراہم کیا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 6 سے 10 اپریل کے دوران بارشیں اور ژالہ باری، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری
وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کے کام تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو چوبیس گھنٹے الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے خوراک، صحت، پینے کے پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور تباہ شدہ سڑکوں، پلوں اور بنیادی ڈھانچے کی فوری بحالی کے لیے بھاری مشینری استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کی حکومت متاثرہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر متاثرین کی بحالی اور ہر ممکن امداد فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے اسلام آباد میں قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ بھی کیا، جہاں چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے انہیں بتایا کہ گلگت بلتستان میں گلیشیئرز کی جدید سائنسی طریقوں سے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر گلیشیئر کو منفرد شناختی کوڈ دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ خطرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔
وزیراعلیٰ امجد حسین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب ایک حقیقت بن چکے ہیں اور گلگت بلتستان ان سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے، جہاں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون پر زور دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش تباہی سیلاب گلگت بلتستان