اسلام آباد(آئی این پی )عالمی بینک نے پاکستان کی رواں مالی سال معاشی شرحِ نمو 3 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے اورجون 2025 کے مقابلے میں پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ کے تخمینے میں 0.1 فیصد کمی کر دی ہے۔عالمی بینک کی عالمی معاشی امکانات سے متعلق تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرحِ نمو کے تخمینے میں 0.

1 فیصد کمی کی گئی ہے جس کے بعد موجودہ مالی سال میں معاشی شرحِ نمو 3 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، اس سے قبل حکومتی سطح پر اقتصادی ترقی کا ہدف 4.2 فیصد مقرر کیا گیا تھا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2026-27 ءکے دوران پاکستان کی معاشی شرحِ نمو 3.4 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔عالمی بینک کے مطابق حالیہ سیلاب کے بعد زرعی شعبے کی بحالی سے معیشت کو سہارا ملنے کی توقع ہے جبکہ تعمیرِ نو اور بحالی کے منصوبوں سے معاشی سرگرمیوں میں بہتری آ سکتی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غذائی اشیا کی قیمتوں میں کمی کے باعث مہنگائی کی شرح میں بتدریج کمی کا امکان ہے، شرحِ سود میں کمی کے باوجود مانیٹری پالیسی کو محتاط قرار دیا گیا ہے تاکہ مالی استحکام برقرار رکھا جا سکے۔عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ امریکی ٹیرف میں اضافے سے پاکستان کی برآمدات متاثر ہونے کا خدشہ ہے جبکہ درآمدات میں ممکنہ اضافے کے باعث کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے، ترسیلاتِ زر کے معمول پر آنے سے بیرونی مالی دباﺅ بڑھنے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور بینک قرضوں میں اضافے کے آثار نظر آ رہے ہیں جو مجموعی معاشی سرگرمیوں کے لیے مثبت سمجھے جا رہے ہیں، عالمی سطح پر، 2026 ءمیں عالمی معاشی شرحِ نمو 2.6 فیصد رہنے کا امکان ہے جبکہ 2027 ءمیں یہ بڑھ کر 2.7 فیصد تک جا سکتی ہے۔ 

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: پاکستان کی عالمی بینک فیصد رہنے کا امکان گیا ہے

پڑھیں:

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔

متعلقہ مضامین

  • جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ