افغانستان میں غربت اور جبر، طالبان کے خلاف بغاوت کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
کابل: افغانستان میں بڑھتی ہوئی غربت، بیروزگاری اور سیاسی بحران کے باعث طالبان حکومت کے خلاف عوامی غصے میں اضافے اور ممکنہ بغاوت کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
افغان میڈیا افغان انٹرنیشنل کے مطابق سابق افغان وزیر انوارالحق احادی نے خبردار کیا ہے کہ طالبان کی جانب سے جابرانہ حکمرانی، معاشی بدحالی اور عوامی مسائل کو نظر انداز کرنے کے باعث ملک میں عدم استحکام بڑھ رہا ہے۔
انوارالحق احادی کا کہنا تھا کہ افغان عوام شدید معاشی مشکلات کا شکار ہیں اور طالبان سے اقتصادی بحران اور روزگار کے مسائل پر جوابدہی کی توقع رکھتے ہیں، مگر حکومت کی تمام توجہ اقتدار کو مضبوط بنانے پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںطالبان حکومت نے پہلی مرتبہ بھارت میں اپنا اعلیٰ سفارتی نمائندہ مقرر کر دیا
دوسری جانب یونیسف کے مطابق افغانستان میں تقریباً نصف بچے شدید غذائی غربت کا شکار ہیں، جبکہ ورلڈ بینک کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک میں ہر چار میں سے ایک نوجوان بیروزگار ہے۔
افغان خواتین کی تنظیم روا (RAWA) نے افغانستان کو خواتین کے لیے دنیا کا بدترین ملک قرار دیا ہے، جہاں تعلیم، روزگار اور بنیادی حقوق تک رسائی نہ ہونے کے برابر ہے۔
افغان مبصرین کے مطابق طالبان کی جابرانہ طرزِ حکمرانی نے عوام اور حکومت کے درمیان فاصلہ مزید بڑھا دیا ہے، جس کے نتیجے میں معاشی تباہی اور خطے میں عدم استحکام کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے خطاب کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے تک فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کوششیں، عوام کی غیرمتزلزل حمایت کے ساتھ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کو یقینی بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی، پاکستان میں جہاں بھی دہشت گردوں کا انفرا اسٹرکچر ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بنے گا، اسے ختم کرنے کے لیے اپنے غیرمتزلزل عزم پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے پراکسی عناصر مسلسل بلوچستان میں بدامنی، عدم استحکام اور امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم مسلح افواج عوام کی یک جہتی اور ثابت قدمی کے ساتھ ان مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بلوچستان کو پاکستان کا فخر قرار دیا اور کہا کہ یہ صوبہ بے پناہ قدرتی وسائل، محب وطن، باصلاحیت اور باہمت عوام سے مالا مال ہے، جو بلوچستان کی اصل طاقت ہیں۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے عوام دوست اور جامع منصوبوں پر عمل پیرا ہیں، جن کا مقصد صوبے کی تقدیر بدلنا ہے۔
انہوں نے قومی یک جہتی کے فروغ میں سول سوسائٹی، جامعات، میڈیا اور نوجوانوں کے مثبت کردار کو سراہا اور کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے کے لیے قومی اتحاد، استقلال اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق جی ایچ کیو میں تقریب کے اختتام پر شرکا کے ساتھ تفصیلی سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں شرکا نے پاکستان کے استحکام، ترقی، امن اور خودمختاری کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔