وفاقی آئینی عدالت: وفاق کی کے پی نارکوٹکس ایکٹ 2019 کو کالعدم قرار دینے کی استدعا، کیس کی سماعت 21 جنوری تک ملتوی
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
وفاقی آئینی عدالت میں خیبر پختونخوا کنٹرول آف نارکوٹکس سبسٹنس ایکٹ 2019 کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی۔
وفاقی حکومت نے عدالت سے استدعا کر رکھی ہے کہ کے پی نارکوٹکس ایکٹ 2019 کو غیر آئینی قرار دے کر کالعدم کیا جائے۔
کیس کی سماعت جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس کریم خان آغا پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے کی۔
خیبر پختونخوا حکومت کا دائرہ اختیار پر اعتراضسماعت کے دوران خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے آئینی عدالت کے دائرہ اختیار پر اعتراض اٹھایا گیا۔
یہ بھی پڑھیے وفاقی آئینی عدالت: صدر، وزیراعظم اور آرمی چیف کیخلاف آرٹیکل 6 کی کارروائی کے لیے درخواست دائر
کے پی حکومت کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے مؤقف اختیار کیا کہ صوبائی حکومت کی قانون سازی کے خلاف براہ راست آئینی عدالت میں درخواست قابلِ سماعت نہیں۔ صوبائی حکومت کے خلاف معاملہ سننے کا مجاز فورم ہائیکورٹ ہے۔
وفاقی حکومت کا مؤقفاینٹی نارکوٹکس فورس کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 137، 90 اور 97 وفاقی حکومت کے اختیارات واضح کرتے ہیں۔ اس وقت معاملہ دو اسمبلیوں کا نہیں بلکہ دو حکومتوں کے درمیان تنازع ہے۔ اس لیے آئینی عدالت اس کیس کی سماعت کی مجاز ہے۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ یہ عدالت اس کیس کو سننے کا اختیار رکھتی ہے۔
دلائل سننے کے بعد وفاقی آئینی عدالت نے کیس کی مزید سماعت 21 جنوری تک ملتوی کر دی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
خیبر پختونخوا کنٹرول آف نارکوٹکس سبسٹنس ایکٹ 2019 وفاقی آئینی عدالت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: وفاقی آئینی عدالت خیبر پختونخوا آئینی عدالت ایکٹ 2019 کیس کی
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔