ایف سی اہلکار کی بحالی کا کیس، سپریم کورٹ نے فرنٹیئر کور کی درخواست خارج کردی
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
سپریم کورٹ آف پاکستان نے فرنٹیئر کور (ایف سی) خیبرپختونخوا کی جانب سے ایف سی اہلکار حنظلہ کی ملازمت بحالی کے خلاف دائر درخواست خارج کر دی۔
یہ سماعت جسٹس عائشہ ملک کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔
ایف سی کا مؤقف: فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کی بنیاد پر برطرفیسماعت کے دوران ایف سی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اہلکار کو فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کی روشنی میں ملازمت سے برطرف کیا گیا کیونکہ ایسا کنڈکٹ کسی ڈسپلن فورس میں قابل قبول نہیں ہو سکتا۔
عدالت کے ریمارکس: بغیر انکوائری برطرفی ناانصافیجسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ اہلکار کو اپنا دفاع پیش کرنے کا موقع دیے بغیر ہی نوکری سے برخاست کر دیا گیا، جو انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ادارے نے اہلکار کے خلاف ریگولر انکوائری بھی نہیں کی۔ بغیر سنے سزا دینا ناانصافی ہے۔ بے گناہی ثابت کرنے کا موقع دینا ہر شہری کا حق ہے۔
ٹربیونل کے فیصلے کی توثیقعدالت نے قرار دیا کہ فیڈرل سروس ٹربیونل نے بھی انہی وجوہات کی بنیاد پر اہلکار کو ریلیف دیا تھا اور تمام مراعات کے ساتھ ملازمت بحال کی تھی۔
سپریم کورٹ کا فیصلہسپریم کورٹ نے ایف سی کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیڈرل سروس ٹربیونل کے فیصلے کو برقرار رکھا اور اہلکار کی بحالی کے فیصلے میں کوئی قانونی سقم نہیں پایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سپریم کورٹ آف پاکستان فرنٹیئر کور.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سپریم کورٹ آف پاکستان فرنٹیئر کور سپریم کورٹ ایف سی
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔