ہیوی ٹریفک: انسانی جانوں کا زیاں کب تک؟
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260115-03-3
ہیوی ٹریفک حادثات کے نتیجے میں شہریوں کی ہلاکتیں روز کا معمول بن گئی ہیں، گزشتہ روز کراچی کے ضلع کیماڑی کے مختلف علاقوں میں آدھے گھنٹے کے دوران ہیوی ٹریفک نے دو افراد کی زندگیوں کے چراغ گل کر دیے۔ شہر میں تواتر کے ساتھ ہونے والے اس نوع کے واقعات کی بنیادی وجہ ڈرائیوروں کی غفلت اور لاپروائی کے ساتھ ساتھ شہر کے سڑکوں کی خستہ حالی اور انتظامیہ کی نااہلی بھی ہے۔ دن کے اوقات میں ہیوی ٹریفک کے داخلے پر پابندی کے باوجود اس کی پابندی نہیں کی جارہی، ایسا لگتا ہے کہ حکومت قانون پر عمل درآمد کرانے میں سنجیدہ نہیں، گزشتہ سال 345 دن میں ہیوی ٹریفک حادثات میں 244 افراد اپنی قیمتی جانیں گنواں بیٹھے ہیں مگر حکومت اور انتظامیہ ٹس سے مس ہونے کو تیار نہیں، حکومت کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ صرف بیانات اور نوٹیفکیشن کے اجراء سے حادثات کی روک تھام ممکن نہیں اس کے لیے عملی ٹھوس اور سنجیدہ اقدمات کرنے ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہیوی ٹریفک
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔