Express News:
2026-06-03@00:55:37 GMT

سندھ میں پی ٹی آئی، پی پی کا متبادل نہیں

اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT

کراچی کی نمائش چورنگی پر پی ٹی آئی کے جلسے کے بعد بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اندرون سندھ پیپلز پارٹی کا متبادل صرف پی ٹی آئی ہے جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ایک خیال یہ ہے کہ کراچی اور حیدرآباد ایم کیو ایم کے زیر اثر تھے جہاں سے اکثر قومی و صوبائی نشستوں پر ایم کیو ایم کے امیدوارکامیاب ہوتے آئے مگر 2015 میں متحدہ قومی موومنٹ نے اپنے بانی کے بعض ملک دشمن بیانات کے باعث اپنے بانی سے علیحدگی اختیار کرکے ایم کیو ایم پاکستان بنا لی تھی جس کی اس وقت سربراہی ڈاکٹر فاروق ستار کو دی گئی تھی جب کہ اس سے قبل سابق سٹی ناظم مصطفیٰ کمال اپنے بانی سے بغاوت کر کے اپنی پارٹی پی ایس پی بنا چکے تھے جو صرف اردو بولنے والوں کی نہیں تھی اور متحدہ کے بعض رہنما پی ایس پی میں شامل ہو گئے تھے۔

ایم کیو ایم نے متحدہ قومی موومنٹ اور ملک گیر سیاست کے بعد ایم کیو ایم حقیقی کے سربراہ آفاق احمد اور عامر خان نے حقیقی کو مہاجر قومی موومنٹ کا نام دے کر مہاجروں کی سیاست شروع کی جو اب تک جاری ہے مگر عامر خان کو بانی نے ایم کیو ایم میں واپسی پر قبول کر لیا تھا اور ڈاکٹر فاروق ستار متحدہ کے کنوینر کے طور پر قیادت کرتے رہے مگر بعد میں ان کی جگہ باہمی اختلافات کی وجہ سے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کوکنوینر بنایا گیا تو ڈاکٹر فاروق ستار نے اپنا گروپ بنا لیا تھا اور متحدہ مزید تقسیم ہو گئی تھی جس پر پیپلز پارٹی خوش تھی اور اردو بولنے والے بعض رہنما ایم کیو ایم چھوڑ کر پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے تھے۔

2018 کے الیکشن میں اردو بولنے والوں کا ووٹ تقسیم ہوا، جس میں پی ایس پی مکمل ناکام رہی جب کہ آفاق احمد کی ایم کیو ایم حقیقی ویسے بھی ناکام ہی ہوتی آئی تھی۔ 2018 کے الیکشن میں کراچی میں بالاتروں نے ایم کیو ایم پاکستان سے زیادہ نشستیں پی ٹی آئی کو دلائیں اور لیاری سے بلاول بھٹو کو بھی شکست ہوئی تھی اور سندھ اسمبلی میں پی ٹی آئی نے اپنا اپوزیشن لیڈر بنایا تھا۔ پی ٹی آئی کے بانی کراچی سے بھی جیتے تھے مگر انھوں نے اپنی نشست چھوڑ دی تھی۔

بانی پشاور سے بھی جیتے تھے اور ضمنی انتخاب میں پی ٹی آئی پشاور سے بانی کی چھوڑی گئی دونوں نشستوں پر پشاور سے ہاری مگر کراچی سے کامیاب ہوئی تھی۔ 2018 میں ایم کیو ایم چھوڑ کر پیپلز پارٹی میں جانے والا کوئی رہنما کامیاب نہیں ہوا تھا اور پھر بھی کراچی میں ایم کیو ایم پی ٹی آئی کے بعد دوسرے اور پی پی تیسرے نمبر پر لائی گئی تھی۔ پی ٹی آئی کے وزیر بننے سے پہلے اور بعد میں کراچی کے لیے بڑے وعدے کیے گئے تھے مگر کوئی ایک وعدہ پورا نہیں کیا اور کراچی کو مکمل نظرانداز کیا تھا۔

2018 کے الیکشن میں پی ٹی آئی نے اندرون سندھ سے جو امیدوار کھڑے کیے تھے ان میں جیکب آباد سے محمد میاں سومرو اور صرف دو صوبائی ارکان منتخب ہوئے تھے۔ محمد میاں کے چچا الٰہی بخش سومرو پہلے بھی رکن قومی اسمبلی جیکب آباد سے منتخب ہوئے تھے اور محمد میاں کی والدہ جیکب آباد کی ضلعی ناظمہ رہی تھیں اور اس حلقے میں ووٹ پی ٹی آئی کا نہیں سومرو کا تھا۔ جیکب آباد اور گھوٹکی سے پی ٹی آئی کے جو دو رکن منتخب ہوئے تھے ان کا بھی اپنا ووٹ تھا اور بعد میں یہ دونوں بھی پی ٹی آئی چھوڑ کر پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے تھے۔

کراچی میں کے پی سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد رہتے ہیں جو پی ٹی آئی کے حامی ہیں اورکراچی میں پی ٹی آئی کے حالیہ جلسے میں کے پی کے لوگ زیادہ تھے جو پہلے اے این پی کے حامی تھے۔کراچی میں بلاشبہ پی ٹی آئی نے ایم کیو ایم کا ووٹ توڑا تھا اور ایم کیو ایم میں باہمی تقسیم بھی تھی۔ ایم کیو ایم کے رہنماؤں کی باہمی مفاد پرستی اور بدنامی کی وجہ سے ایم کیو ایم کو شدید نقصان پہنچا اور اردو بولنے والوں کا ووٹ پی ٹی آئی کی طرف راغب ہوا ہے۔

کراچی اور حیدرآباد میں پی ٹی آئی کا ووٹ بینک ضرور ہے مگر اندرون سندھ اس کا ووٹ بینک برائے نام ہے۔ مسلم لیگ ن کی طرح پی ٹی آئی نے بھی اپنے اقتدار میں سندھ پر کوئی توجہ نہیں دی صرف پیپلز پارٹی نے کراچی سے زیادہ توجہ حیدرآباد اور اندرون سندھ پر دی جس کی وجہ سے پیپلز پارٹی کو سندھ، مسلم لیگ (ن) کو پنجاب اور پی ٹی آئی کو کے پی سے انتخابی کامیابی کی وجہ تینوں پارٹیوں پر خصوصی توجہ ہے اور تینوں اپنے صوبوں سے زیادہ نشستیں جیت کر زیادہ تر اپنے صوبوں میں ہی مقبول ہیں اور ملک کا سب سے بڑا اور کما کر دینے والا شہر کراچی توجہ سے محروم ہے اور انھیں کراچی کے مسائل سے زیادہ اپنے اپنے صوبوں کی فکر اور وہیں ان کی توجہ زیادہ ہے۔

جے یو آئی (ف) اندرون سندھ پیپلز پارٹی کے بعد دوسری بڑی سیاسی پارٹی ہے جس کے پاس اندرون سندھ کے شہروں کے علاوہ دیہی علاقوں میں بھی مذہبی ووٹ ہے اور اس کے اندرون سندھ لاتعداد مدارس اور مساجد بھی جے یو آئی کے علما کے پاس ہیں۔ پیپلز پارٹی نے اندرون سندھ پیر پگاڑا کی مسلم لیگ (ف) کو سب سے زیادہ سیاسی نقصان پہنچایا اور پیر پگاڑا مرحوم کے بعد (ف) لیگ کے رہنما پی پی میں شامل ہوئے اور 2024 میں پی پی کے ٹکٹ پر ہی منتخب ہوئے تھے۔ 2024 کے الیکشن میں جے یو آئی (ف) نے اندرون سندھ زیادہ امیدوار کھڑے کیے جنھوں نے لاکھوں ووٹ حاصل کیے۔

جے یو آئی دیو بندی مسلک کی جماعت ہے مگر پہلی بار دیگر مسالک کے رہنماؤں نے جے یو آئی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا مگر کامیاب تو نہیں ہوئے مگر انھوں نے اندرون سندھ جے یو آئی کا ووٹ بڑھا کر اسے اندرون سندھ پیپلز پارٹی کا متبادل ضرور بنا دیا اور مولانا فضل الرحمن نے بھی خود اندرون سندھ کو ترجیح دی اورکامیاب انتخابی جلسے کیے تھے اور وہ ویسے بھی اندرون سندھ جا کر بڑے جلسے کرتے رہتے ہیں جہاں ان کا پکا مذہبی ووٹ ہے اور پی پی سے مایوس لوگ جے یو آئی کو پی پی کا سیاسی متبادل قرار دے رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: منتخب ہوئے تھے کے الیکشن میں میں پی ٹی آئی پیپلز پارٹی پی ٹی آئی کے ایم کیو ایم اردو بولنے کراچی میں جیکب آباد جے یو آئی سے زیادہ تھا اور ہے مگر اور پی کی وجہ ہے اور کے بعد کا ووٹ سے بھی

پڑھیں:

سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب

سٹی 42: گلگت بلتستان انتخابات کے سلسلے میں اسکردو میں پاکستان پیپلز پارٹی کے جلسے سے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کا منصوبہ دنیا کا سب سے بڑا ہاؤسنگ پراجیکٹ ہے، جبکہ حقیقی ترقی امیروں کو مزید مراعات دینے کے بجائے غریبوں کو روزگار اور مواقع فراہم کرنے سے ممکن ہے۔

 بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو ان کے آئینی اور جمہوری حقوق دینا ملکی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کو 18ویں ترمیم جیسے اختیارات دینے کی حامی ہے اور اسلام آباد کو یہاں کے عوام کے حقِ ملکیت کو تسلیم کرنا ہوگا۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

 چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ تھر کول منصوبے میں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو دی گئیں، جو ان کی جماعت کے عوام دوست وژن کا عملی ثبوت ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گلگت بلتستان کے دوروں کے حوالے سے وہ دیگر تمام سیاسی رہنماؤں سے زیادہ مرتبہ یہاں آ چکے ہیں۔

 خطاب کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے ملکی دفاعی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں شروع ہوا جبکہ میزائل پروگرام کو شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے آگے بڑھایا۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے پاکستان میں غیر ملکی فوجی اڈوں کی موجودگی کا خاتمہ کیا تھا۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

 سماجی بہبود کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ہر صورت محفوظ رکھا جائے گا اور آئندہ بجٹ میں اس پروگرام کے فنڈز میں اضافے کی کوشش کی جائے گی۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی غریب اور پسماندہ طبقات کی نمائندہ جماعت ہے اور عوامی فلاح کے منصوبوں کو جاری رکھے گی۔

 علاقائی اور عالمی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی اور جنگوں کے اثرات پوری مسلم دنیا اور عالمی معیشت پر مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے امن کے قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگوں کے خاتمے اور استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں کامیاب ہوں گی۔

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

 انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ امن، جمہوریت اور عوامی حقوق کی سیاست پر یقین رکھتی ہے اور آئندہ بھی عوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔

 بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آپ نے فیصلہ کرنا ہے ، عوام دوست یا عوام دشمن حکومت بنانی ہے ،ہماری غریب دوست اور ان کی عوام دشمن سیاست ہے ، میں نے سیلاب متاثرہ عوام کے لیے گھر بنا کر دیکھائے ۔ انھوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو روزگار دیں ،دوسری جماعتوں کی کوشش ہوتی ہے کہ کیسے لوگوں کو بے روز گار کریں ۔

 آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان

 گلگت بلتستان میں انتخابی مہم کے سلسلے میں اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی طاقت کی بدولت آج کوئی بھی ملک پاکستان کی جانب میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو ایٹمی پروگرام کا تحفہ دیا، جبکہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے میزائل پروگرام کو آگے بڑھایا اور ملکی دفاع کو مزید مضبوط بنایا۔

لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز

 بلاول بھٹو زرداری نے سابق فوجی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مشرف دور میں غیر ملکی طاقتوں کو پاکستان کی سرزمین پر اڈے قائم کرنے کی اجازت دی گئی تھی، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ایسے تمام اڈوں کو بند کروا کر غیر ملکی افواج کو واپس بھیج دیا۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ان کی جماعت پاکستان کو ہر شعبے میں مضبوط اور خودمختار دیکھنا چاہتی ہے۔ ان کے بقول پاکستان پیپلز پارٹی واحد سیاسی جماعت ہے جو ملک کو مزید مستحکم اور عوامی فلاح کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔

 انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوام کو معاشی ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں اور اسی سوچ کے تحت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) متعارف کرایا گیا، جس کے ذریعے غریب اور مستحق خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بی آئی ایس پی اسلام آباد یا کسی ایک علاقے کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کے عوام کا پروگرام ہے، تاہم بعض سیاسی عناصر اسے ختم کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

 انہوں نے اعلان کیا کہ چاہے گلگت بلتستان کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کامیاب ہوں یا نہ ہوں، وزیراعظم آئندہ بجٹ میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز میں اضافے کا اعلان کریں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد کو ریلیف فراہم کیا جا سکے،انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پیپلز پارٹی آئندہ بھی عوامی فلاح، معاشی استحکام اور قومی خودمختاری کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے