سندھ میں پی ٹی آئی، پی پی کا متبادل نہیں
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
کراچی کی نمائش چورنگی پر پی ٹی آئی کے جلسے کے بعد بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اندرون سندھ پیپلز پارٹی کا متبادل صرف پی ٹی آئی ہے جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ایک خیال یہ ہے کہ کراچی اور حیدرآباد ایم کیو ایم کے زیر اثر تھے جہاں سے اکثر قومی و صوبائی نشستوں پر ایم کیو ایم کے امیدوارکامیاب ہوتے آئے مگر 2015 میں متحدہ قومی موومنٹ نے اپنے بانی کے بعض ملک دشمن بیانات کے باعث اپنے بانی سے علیحدگی اختیار کرکے ایم کیو ایم پاکستان بنا لی تھی جس کی اس وقت سربراہی ڈاکٹر فاروق ستار کو دی گئی تھی جب کہ اس سے قبل سابق سٹی ناظم مصطفیٰ کمال اپنے بانی سے بغاوت کر کے اپنی پارٹی پی ایس پی بنا چکے تھے جو صرف اردو بولنے والوں کی نہیں تھی اور متحدہ کے بعض رہنما پی ایس پی میں شامل ہو گئے تھے۔
ایم کیو ایم نے متحدہ قومی موومنٹ اور ملک گیر سیاست کے بعد ایم کیو ایم حقیقی کے سربراہ آفاق احمد اور عامر خان نے حقیقی کو مہاجر قومی موومنٹ کا نام دے کر مہاجروں کی سیاست شروع کی جو اب تک جاری ہے مگر عامر خان کو بانی نے ایم کیو ایم میں واپسی پر قبول کر لیا تھا اور ڈاکٹر فاروق ستار متحدہ کے کنوینر کے طور پر قیادت کرتے رہے مگر بعد میں ان کی جگہ باہمی اختلافات کی وجہ سے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کوکنوینر بنایا گیا تو ڈاکٹر فاروق ستار نے اپنا گروپ بنا لیا تھا اور متحدہ مزید تقسیم ہو گئی تھی جس پر پیپلز پارٹی خوش تھی اور اردو بولنے والے بعض رہنما ایم کیو ایم چھوڑ کر پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے تھے۔
2018 کے الیکشن میں اردو بولنے والوں کا ووٹ تقسیم ہوا، جس میں پی ایس پی مکمل ناکام رہی جب کہ آفاق احمد کی ایم کیو ایم حقیقی ویسے بھی ناکام ہی ہوتی آئی تھی۔ 2018 کے الیکشن میں کراچی میں بالاتروں نے ایم کیو ایم پاکستان سے زیادہ نشستیں پی ٹی آئی کو دلائیں اور لیاری سے بلاول بھٹو کو بھی شکست ہوئی تھی اور سندھ اسمبلی میں پی ٹی آئی نے اپنا اپوزیشن لیڈر بنایا تھا۔ پی ٹی آئی کے بانی کراچی سے بھی جیتے تھے مگر انھوں نے اپنی نشست چھوڑ دی تھی۔
بانی پشاور سے بھی جیتے تھے اور ضمنی انتخاب میں پی ٹی آئی پشاور سے بانی کی چھوڑی گئی دونوں نشستوں پر پشاور سے ہاری مگر کراچی سے کامیاب ہوئی تھی۔ 2018 میں ایم کیو ایم چھوڑ کر پیپلز پارٹی میں جانے والا کوئی رہنما کامیاب نہیں ہوا تھا اور پھر بھی کراچی میں ایم کیو ایم پی ٹی آئی کے بعد دوسرے اور پی پی تیسرے نمبر پر لائی گئی تھی۔ پی ٹی آئی کے وزیر بننے سے پہلے اور بعد میں کراچی کے لیے بڑے وعدے کیے گئے تھے مگر کوئی ایک وعدہ پورا نہیں کیا اور کراچی کو مکمل نظرانداز کیا تھا۔
2018 کے الیکشن میں پی ٹی آئی نے اندرون سندھ سے جو امیدوار کھڑے کیے تھے ان میں جیکب آباد سے محمد میاں سومرو اور صرف دو صوبائی ارکان منتخب ہوئے تھے۔ محمد میاں کے چچا الٰہی بخش سومرو پہلے بھی رکن قومی اسمبلی جیکب آباد سے منتخب ہوئے تھے اور محمد میاں کی والدہ جیکب آباد کی ضلعی ناظمہ رہی تھیں اور اس حلقے میں ووٹ پی ٹی آئی کا نہیں سومرو کا تھا۔ جیکب آباد اور گھوٹکی سے پی ٹی آئی کے جو دو رکن منتخب ہوئے تھے ان کا بھی اپنا ووٹ تھا اور بعد میں یہ دونوں بھی پی ٹی آئی چھوڑ کر پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے تھے۔
کراچی میں کے پی سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد رہتے ہیں جو پی ٹی آئی کے حامی ہیں اورکراچی میں پی ٹی آئی کے حالیہ جلسے میں کے پی کے لوگ زیادہ تھے جو پہلے اے این پی کے حامی تھے۔کراچی میں بلاشبہ پی ٹی آئی نے ایم کیو ایم کا ووٹ توڑا تھا اور ایم کیو ایم میں باہمی تقسیم بھی تھی۔ ایم کیو ایم کے رہنماؤں کی باہمی مفاد پرستی اور بدنامی کی وجہ سے ایم کیو ایم کو شدید نقصان پہنچا اور اردو بولنے والوں کا ووٹ پی ٹی آئی کی طرف راغب ہوا ہے۔
کراچی اور حیدرآباد میں پی ٹی آئی کا ووٹ بینک ضرور ہے مگر اندرون سندھ اس کا ووٹ بینک برائے نام ہے۔ مسلم لیگ ن کی طرح پی ٹی آئی نے بھی اپنے اقتدار میں سندھ پر کوئی توجہ نہیں دی صرف پیپلز پارٹی نے کراچی سے زیادہ توجہ حیدرآباد اور اندرون سندھ پر دی جس کی وجہ سے پیپلز پارٹی کو سندھ، مسلم لیگ (ن) کو پنجاب اور پی ٹی آئی کو کے پی سے انتخابی کامیابی کی وجہ تینوں پارٹیوں پر خصوصی توجہ ہے اور تینوں اپنے صوبوں سے زیادہ نشستیں جیت کر زیادہ تر اپنے صوبوں میں ہی مقبول ہیں اور ملک کا سب سے بڑا اور کما کر دینے والا شہر کراچی توجہ سے محروم ہے اور انھیں کراچی کے مسائل سے زیادہ اپنے اپنے صوبوں کی فکر اور وہیں ان کی توجہ زیادہ ہے۔
جے یو آئی (ف) اندرون سندھ پیپلز پارٹی کے بعد دوسری بڑی سیاسی پارٹی ہے جس کے پاس اندرون سندھ کے شہروں کے علاوہ دیہی علاقوں میں بھی مذہبی ووٹ ہے اور اس کے اندرون سندھ لاتعداد مدارس اور مساجد بھی جے یو آئی کے علما کے پاس ہیں۔ پیپلز پارٹی نے اندرون سندھ پیر پگاڑا کی مسلم لیگ (ف) کو سب سے زیادہ سیاسی نقصان پہنچایا اور پیر پگاڑا مرحوم کے بعد (ف) لیگ کے رہنما پی پی میں شامل ہوئے اور 2024 میں پی پی کے ٹکٹ پر ہی منتخب ہوئے تھے۔ 2024 کے الیکشن میں جے یو آئی (ف) نے اندرون سندھ زیادہ امیدوار کھڑے کیے جنھوں نے لاکھوں ووٹ حاصل کیے۔
جے یو آئی دیو بندی مسلک کی جماعت ہے مگر پہلی بار دیگر مسالک کے رہنماؤں نے جے یو آئی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا مگر کامیاب تو نہیں ہوئے مگر انھوں نے اندرون سندھ جے یو آئی کا ووٹ بڑھا کر اسے اندرون سندھ پیپلز پارٹی کا متبادل ضرور بنا دیا اور مولانا فضل الرحمن نے بھی خود اندرون سندھ کو ترجیح دی اورکامیاب انتخابی جلسے کیے تھے اور وہ ویسے بھی اندرون سندھ جا کر بڑے جلسے کرتے رہتے ہیں جہاں ان کا پکا مذہبی ووٹ ہے اور پی پی سے مایوس لوگ جے یو آئی کو پی پی کا سیاسی متبادل قرار دے رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: منتخب ہوئے تھے کے الیکشن میں میں پی ٹی آئی پیپلز پارٹی پی ٹی آئی کے ایم کیو ایم اردو بولنے کراچی میں جیکب آباد جے یو آئی سے زیادہ تھا اور ہے مگر اور پی کی وجہ ہے اور کے بعد کا ووٹ سے بھی
پڑھیں:
کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار
اسکرین گریب/ ایکسکراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون کو گرفتار کرلیا گیا۔
سولجر بازار کے علاقے میں پولیس نے کارروائی کرکے موٹر سائیکل لفٹنگ میں ملوث خاتون ملزمہ کو گرفتار کیا ہے، پولیس کے مطابق خفیہ اطلاع پر کارروائی کرکے ملزمہ کو گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ کی گرفتاری سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے عمل میں آئی ہے، ملزمہ اپنے شوہر کے ہمراہ موٹر سائیکل لفٹنگ کی درجنوں وارداتوں میں ملوث رہی ہے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج میں دونوں میاں بیوی کو موٹر سائیکل لے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، ملزمہ کے قبضے سے ایک موٹر سائیکل بھی برآمد کی گئی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمہ اور فرار شوہر کے خلاف ضابطے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا مزید تفتیش جاری ہے۔