افغانستان کا اونٹ، کس کی مانیں کس کی نہیں
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260115-03-6
افغانستان کے بارے میں ایک مفتی صاحب کی پوڈ کاسٹ ایک واٹس اپ گروپ میں دیکھی تو ایک فلم نظروں کے سامنے گھوم گئی، سب کچھ اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھا ہے، آپ بھی کچھ حصہ دیکھیں۔ مختلف بیانیے آتے رہے، قوم یقین کرتی رہی۔
پہلا بیانیہ: افغانستان دوست نہیں، پاکستان کو تسلیم نہیں کیا تھا، ڈیورنڈ لائن کا بھی تنازع ہے۔ دوسرا بیانیہ: روس افغانستان کے راستے گرم پانیوں تک پہنچنا چاہتا ہے بے گھر افغان ہمارے بھائی ہیں، ان کی مدد کی جائے۔ تیسرا بیانیہ: افغان مجاہدین پاکستان اور دنیا کا تحفظ کررہے ہیں۔ یہ مجاہدین پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں، دنیا ہمیں (پاکستان) مدد دے، اسلحہ اور مال بھی۔ اور خوب جمع بھی کیا گیا۔ اس دور میں افغان مہاجرین کے لیے آنے والے بٹر آئل کے ڈبے باقاعدہ سرکاری یوٹیلٹی اسٹورز پر فروخت ہوتے تھے اور ڈھٹائی کا یہ عالم تھا کہ ڈبوں پر لکھی عبارت بھی جوں کی توں لکھی رہتی تھی، only for afghan refugies۔ چوتھا بیانیہ: افغانستان میں جہاد نہیں ہورہا، یہ دہشت گرد ہیں، اور اب بیان آگیا ہے کہ جہاں پائو انہیں ماردو۔ چوالیس سالہ صحافت میں افغانستان جاکر بھی دیکھا ہے پاکستان میں ان کی خیمہ بستی میں بھی دیکھی، ان مہاجر بچوں اور بڑوں کو محنت مزدوری کرتے بھی دیکھا۔ افغانستان کے حوالے سے پاکستان جنرل ضیاء الحق کا دور جہاد کا دور تھا، بے نظیر نواز شریف کے ادوار نیمے دروں نیمے بروں، ادھا تیتر ادھا بٹیر، پھر آئے جنرل پرویز مشرف، یہ دور کمال کا رہا کشمیری مجاہد ان کے پہلے سال کے دوران مجاہد رہے دوسرے سال وہ بھی آدھا تیتر آدھا بٹیر رہے پھر غدار، دہشت گرد اور ’’جہاں پائو انہیں مارو‘‘ بنادیے گئے، اسی دور میں ٹی ٹی پی تخلیق کی گئی، ٹی ٹی پی برصغیر، پھر پنجاب اور مزید ٹکڑے دریافت ہوئے۔
اب حقائق بھی جان لیں افغانستان کی پہلی مزاحمت بالکل اصلی اور عوامی تھی، سارے یونیورسٹیوں اور مدارس کے طلبہ اور عام نوجوان تھے، انجینئر حکمت یار سمیت درجنوں رہنما انجینئرنگ کے طلبہ تھے، ابتدائی تمام مزاحمت پاکستان اور ان مجاہدین نے کی، اس وقت ہنری کسنجر نے ماننے سے انکار کیا کہ روس کو افغانستان سے نکالا جاسکتا ہے۔ لیکن جب روس کے قدم پاکستان اور مجاہدین نے روک دیے، تو امریکا بہادر کودا، فنڈز اور اسلحہ دیا پروپیگنڈا مشینری کھول دی گئی اور افغان مجاہدین میں پھوٹ ڈلوا دی گئی، ایک دوسرے کے لیے کھڑے ہونے والوں میں تصادم شروع ہوگئے، اس دوران سفید ریچھ (روس) اتنا زخمی ہوا کہ واپسی کا فیصلہ کرنا پڑا جب روس نے واپسی کا فیصلہ کیا تو افغان مجاہدین نے افغانستان پر کنٹرول حاصل کیا، یہاں سے امریکا اور اس کے نوکروں کی مداخلت شروع ہوئی، اگر مجاہدین کو خود کچھ کرنے دیا جاتا تو خرابی نہ ہوتی انہیں بیرون افغانستان سے کنٹرول کرنا شروع کیا گیا اور اس کا بہت نقصان ہوا۔ کچھ دھڑے گڈ کوپ کچھ بیڈ کوپ قرار پائے، جب بہت فساد ہوگیا ایک دوسرے کی مدد کرکے لڑوا لیا تو امن کی سوجھی، طالبان تخلیق کیے گئے، پھر جنگ ہوئی پھر طالبان فتحیاب ہوئے، حکمت یار صرف یہ کہہ کر افغانستان سے نکل گئے کہ وہ پاکستان سے نہیں لڑ سکتے، یعنی طالبان پاکستان کی پروڈکٹ ہیں اور ہم پاکستان سے نہیں لڑیں گے۔ (یہ میزبانی کا حق ادا کیا گیا، یعنی افغان احسان فراموش نہیں) افغانستان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے پاکستان کو تسلیم نہیں کیا تھا، جی ایسا ہوا تھا، لیکن پاکستان کی جانب سے تو دو تین افغان حکومتوں کو تسلیم نہیں کیا گیا تو پھر شکوہ ختم اسکور ہمارا زیادہ ہے، اور تسلیم نہ کرنے کے باوجود سرحدی تنازعات کے ساتھ مال تجارت کی آمد ورفت جاری ہے، کیا ہوا اگر اس سے مہنگائی ہوجاتی ہے دونوں طرف کے حکمرانوں کو تو فرق نہیں پڑتا۔ آگے چلیں جب یہی طالبان بامیان کے بت توڑنے لگے اور امریکا بہادر ناراضی پر اُتر آیا تو ان طالبان کے خلاف مہم شروع کی گئی، مجاہدین سے دنیا کی جان چھڑانے والے طالبان بھی دہشت گرد قرار پائے اور انہیں افغانستان کی حکمرانی سے محروم کردیا گیا۔ اب وہاں امریکی ایجنٹوں کی حکمرانی ہوگئی۔
اگلا مرحلہ جانیے، یہاں تک کی صورتحال یہ رہی کہ پہلی مرتبہ روس افغانستان میں داخل ہوا تو پاکستان، امریکا، سعودی عرب سمیت ساری دنیا اس کے خلاف رہی اور دس سال بعد بمشکل اسے افغانستان سے نکالا جاسکا، پاکستان کے سارے علماء سیاسی رہنماؤں کی اکثریت اس عمل میں ساتھ تھی، یہ جملہ مشہور ہوا کہ روس کو افغانستان سے اس لیے نکالا جاسکا کہ پیچھے پاکستان تھا اور فلسطین اس لیے آزاد نہیں ہورہا کہ اس کی سرحد پر پاکستان نہیں، اس میں یہ جملہ نہیں تھا کہ کشمیر کی سرحد پر بھی تو پاکستان ہے وہ کیوں آزاد نہیں ہوا۔ دوسری مرتبہ طالبان کو ہٹانے میں پاکستان، امریکا اور ساری دنیا ساتھ تھی، اس کے بعد یہی موجودہ طالبان اور آج کے دہشت گردامریکا سے تنہا لڑتے رہے، ان کی پشت پر پاکستان تھا نہ امریکا، سعودی عرب تھا نہ امارات اور نہ یورپ، لیکن دس کے بجائے بیس سال میں امریکا پٹ پٹ کر نکلنے پر مجبور ہوگیا، اور اسی امارت اسلامیہ افغانستان سے مذاکرات کرکے وہاں سے بھاگتے ہوئے اپنا اسلحہ پاکستان اور اسلام کے دشمن گروہوں کے حوالے کرگیا، جو آج طالبان اور پاکستان دونوں کے لیے دردسر بنے ہوئے ہیں، افغان امارت پاکستان پر اور پاکستان طالبان پر الزام عاید کررہا ہے کہ وہ بدامنی کے ذمے دار ہیں، لیکن اصل کھلاڑی امریکا ہے جو بیس سال افغانوں سے پٹ کر وہاں سے بھاگا ہے اور جہاں سے بھاگا یہی فساد کے بیج بوکر بھاگا۔ ویتنام، عراق اور افغانستان سب سامنے ہیں۔
اب یہ بتائیں کہ ہم عوام کس کی مانیں، ہمارے سارے علماء یا ان کی اکثریت افغان جہاد اور پھر طالبان کی حامی تھی، اب وہ والے پیچھے چلے گئے ہیں اور نئے آگے آئے یا لائے گئے ہیں، اب وہ گڈ کوپ، بیڈ کوپ ہوگئے ہیں۔ تو بھائی لوگو افغان جیسے پہلے تھے ویسے ہی ہیں، ہمارے اور ان کے پاس ایک جیسے علما ہیں ان سے دونوں طرف کے مقتدر طبقے مرضی کا بیان دلوا سکتے ہیں، یہ کھیل 1979 سے چل رہا ہے، اور صرف افغانستان میں نہیں ساری دنیا میں کھیلا جارہا ہے۔ مزید جانیے 1960 میں امریکا کو پاکستان کی ضرورت تھی 1958 میں ایوب خان لائے گئے، کسی خان کا امریکا میں ایسا استقبال نہیں ہوا جیسا ایوب خان کا ہوا تھا۔ یعنی دوسال قبل سے تیاری تھی، 79 میں روس افغانستان میں داخل ہوتا ہے، دوسال قبل جنرل ضیاء الحق آجاتے ہیں، 2000 میں امریکا کو افغانستان میں داخل ہونا تھا، 1999 میں جنرل مشرف آجاتے ہیں، یعنی پہلے سے تیاری ہوتی ہے۔ اب بھی ہم افغانوں کو، سعودی ایران کو، یمنی سعودی عرب کو اور ہر مظلوم یا امریکا کا ہر شکار اپنے ہی پڑوسی کو برا کہتا اور لڑتا ہے۔ آج بھی سمجھ لیں تو ریورس گیئر لگ سکتا ہے، ورنہ داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: افغانستان میں افغانستان سے افغانستان کے پاکستان اور ان مجاہدین پاکستان کی تسلیم نہ کیا گیا اور اس
پڑھیں:
امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لندن (آئی پی ایس )امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کے لیے برطانوی ائیربیس کے استعمال پر ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی دی ہے۔برطانوی میڈیا کے مطابق نئے وزیراعظم اینڈی برنہم کے عہدہ سنبھالنیکے بعد امریکی فوج نے گلوسیسٹرشائر میں واقع رائل ائیر فورس کے آر اے ایف فیئرفورڈ فضائی اڈے سے ایران کے خلاف B-1 اسٹریٹجک بمبار طیاروں سے بمباری کی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق اس حملے میں امریکی طیاروں نے ایران عراق سرحدی علاقے شلمچہ بارڈرکراسنگ کو نشانہ بنایا جس میں 2 افراد شہید اور 11 زخمی ہوئے۔ ایران نے اس کے جواب میں آنکھ کے بدلے آنکھ کی بنیاد پر جوابی کارروائیوں کی دھمکی دی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نیکہا کہ ہماری دفاعی پالیسی واضح ہے، آنکھ کے بدلے آنکھ۔ جو لوگ کسی بھی قسم کی مدد کے ذریعے ایران کیخلاف جارحیت میں شریک ہوں گے، انہیں بھی جائز ہدف سمجھا جائیگا۔اب ایرانی پاسداران انقلاب نے امریکی طیاروں کے برطانوی فضائی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو خبردار کیا ہے۔
پاسداران انقلاب کا کہنا ہیکہ حالیہ کارروائیوں میں امریکی افواج نے ابتدا میں بحر ہند میں موجود بحری جہازوں سے کروز میزائل داغے اور جب ان کے ذخائر کم ہوگئے تو برطانیہ کے آر اے ایف فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہیکہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز فوجی ہدف سمجھا جائے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرجدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا اگلی خبرآزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم