Jasarat News:
2026-06-02@23:13:28 GMT

افغانستان کا اونٹ، کس کی مانیں کس کی نہیں

اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260115-03-6
افغانستان کے بارے میں ایک مفتی صاحب کی پوڈ کاسٹ ایک واٹس اپ گروپ میں دیکھی تو ایک فلم نظروں کے سامنے گھوم گئی، سب کچھ اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھا ہے، آپ بھی کچھ حصہ دیکھیں۔ مختلف بیانیے آتے رہے، قوم یقین کرتی رہی۔

پہلا بیانیہ: افغانستان دوست نہیں، پاکستان کو تسلیم نہیں کیا تھا، ڈیورنڈ لائن کا بھی تنازع ہے۔ دوسرا بیانیہ: روس افغانستان کے راستے گرم پانیوں تک پہنچنا چاہتا ہے بے گھر افغان ہمارے بھائی ہیں، ان کی مدد کی جائے۔ تیسرا بیانیہ: افغان مجاہدین پاکستان اور دنیا کا تحفظ کررہے ہیں۔ یہ مجاہدین پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں، دنیا ہمیں (پاکستان) مدد دے، اسلحہ اور مال بھی۔ اور خوب جمع بھی کیا گیا۔ اس دور میں افغان مہاجرین کے لیے آنے والے بٹر آئل کے ڈبے باقاعدہ سرکاری یوٹیلٹی اسٹورز پر فروخت ہوتے تھے اور ڈھٹائی کا یہ عالم تھا کہ ڈبوں پر لکھی عبارت بھی جوں کی توں لکھی رہتی تھی، only for afghan refugies۔ چوتھا بیانیہ: افغانستان میں جہاد نہیں ہورہا، یہ دہشت گرد ہیں، اور اب بیان آگیا ہے کہ جہاں پائو انہیں ماردو۔ چوالیس سالہ صحافت میں افغانستان جاکر بھی دیکھا ہے پاکستان میں ان کی خیمہ بستی میں بھی دیکھی، ان مہاجر بچوں اور بڑوں کو محنت مزدوری کرتے بھی دیکھا۔ افغانستان کے حوالے سے پاکستان جنرل ضیاء الحق کا دور جہاد کا دور تھا، بے نظیر نواز شریف کے ادوار نیمے دروں نیمے بروں، ادھا تیتر ادھا بٹیر، پھر آئے جنرل پرویز مشرف، یہ دور کمال کا رہا کشمیری مجاہد ان کے پہلے سال کے دوران مجاہد رہے دوسرے سال وہ بھی آدھا تیتر آدھا بٹیر رہے پھر غدار، دہشت گرد اور ’’جہاں پائو انہیں مارو‘‘ بنادیے گئے، اسی دور میں ٹی ٹی پی تخلیق کی گئی، ٹی ٹی پی برصغیر، پھر پنجاب اور مزید ٹکڑے دریافت ہوئے۔

اب حقائق بھی جان لیں افغانستان کی پہلی مزاحمت بالکل اصلی اور عوامی تھی، سارے یونیورسٹیوں اور مدارس کے طلبہ اور عام نوجوان تھے، انجینئر حکمت یار سمیت درجنوں رہنما انجینئرنگ کے طلبہ تھے، ابتدائی تمام مزاحمت پاکستان اور ان مجاہدین نے کی، اس وقت ہنری کسنجر نے ماننے سے انکار کیا کہ روس کو افغانستان سے نکالا جاسکتا ہے۔ لیکن جب روس کے قدم پاکستان اور مجاہدین نے روک دیے، تو امریکا بہادر کودا، فنڈز اور اسلحہ دیا پروپیگنڈا مشینری کھول دی گئی اور افغان مجاہدین میں پھوٹ ڈلوا دی گئی، ایک دوسرے کے لیے کھڑے ہونے والوں میں تصادم شروع ہوگئے، اس دوران سفید ریچھ (روس) اتنا زخمی ہوا کہ واپسی کا فیصلہ کرنا پڑا جب روس نے واپسی کا فیصلہ کیا تو افغان مجاہدین نے افغانستان پر کنٹرول حاصل کیا، یہاں سے امریکا اور اس کے نوکروں کی مداخلت شروع ہوئی، اگر مجاہدین کو خود کچھ کرنے دیا جاتا تو خرابی نہ ہوتی انہیں بیرون افغانستان سے کنٹرول کرنا شروع کیا گیا اور اس کا بہت نقصان ہوا۔ کچھ دھڑے گڈ کوپ کچھ بیڈ کوپ قرار پائے، جب بہت فساد ہوگیا ایک دوسرے کی مدد کرکے لڑوا لیا تو امن کی سوجھی، طالبان تخلیق کیے گئے، پھر جنگ ہوئی پھر طالبان فتحیاب ہوئے، حکمت یار صرف یہ کہہ کر افغانستان سے نکل گئے کہ وہ پاکستان سے نہیں لڑ سکتے، یعنی طالبان پاکستان کی پروڈکٹ ہیں اور ہم پاکستان سے نہیں لڑیں گے۔ (یہ میزبانی کا حق ادا کیا گیا، یعنی افغان احسان فراموش نہیں) افغانستان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے پاکستان کو تسلیم نہیں کیا تھا، جی ایسا ہوا تھا، لیکن پاکستان کی جانب سے تو دو تین افغان حکومتوں کو تسلیم نہیں کیا گیا تو پھر شکوہ ختم اسکور ہمارا زیادہ ہے، اور تسلیم نہ کرنے کے باوجود سرحدی تنازعات کے ساتھ مال تجارت کی آمد ورفت جاری ہے، کیا ہوا اگر اس سے مہنگائی ہوجاتی ہے دونوں طرف کے حکمرانوں کو تو فرق نہیں پڑتا۔ آگے چلیں جب یہی طالبان بامیان کے بت توڑنے لگے اور امریکا بہادر ناراضی پر اُتر آیا تو ان طالبان کے خلاف مہم شروع کی گئی، مجاہدین سے دنیا کی جان چھڑانے والے طالبان بھی دہشت گرد قرار پائے اور انہیں افغانستان کی حکمرانی سے محروم کردیا گیا۔ اب وہاں امریکی ایجنٹوں کی حکمرانی ہوگئی۔

اگلا مرحلہ جانیے، یہاں تک کی صورتحال یہ رہی کہ پہلی مرتبہ روس افغانستان میں داخل ہوا تو پاکستان، امریکا، سعودی عرب سمیت ساری دنیا اس کے خلاف رہی اور دس سال بعد بمشکل اسے افغانستان سے نکالا جاسکا، پاکستان کے سارے علماء سیاسی رہنماؤں کی اکثریت اس عمل میں ساتھ تھی، یہ جملہ مشہور ہوا کہ روس کو افغانستان سے اس لیے نکالا جاسکا کہ پیچھے پاکستان تھا اور فلسطین اس لیے آزاد نہیں ہورہا کہ اس کی سرحد پر پاکستان نہیں، اس میں یہ جملہ نہیں تھا کہ کشمیر کی سرحد پر بھی تو پاکستان ہے وہ کیوں آزاد نہیں ہوا۔ دوسری مرتبہ طالبان کو ہٹانے میں پاکستان، امریکا اور ساری دنیا ساتھ تھی، اس کے بعد یہی موجودہ طالبان اور آج کے دہشت گردامریکا سے تنہا لڑتے رہے، ان کی پشت پر پاکستان تھا نہ امریکا، سعودی عرب تھا نہ امارات اور نہ یورپ، لیکن دس کے بجائے بیس سال میں امریکا پٹ پٹ کر نکلنے پر مجبور ہوگیا، اور اسی امارت اسلامیہ افغانستان سے مذاکرات کرکے وہاں سے بھاگتے ہوئے اپنا اسلحہ پاکستان اور اسلام کے دشمن گروہوں کے حوالے کرگیا، جو آج طالبان اور پاکستان دونوں کے لیے دردسر بنے ہوئے ہیں، افغان امارت پاکستان پر اور پاکستان طالبان پر الزام عاید کررہا ہے کہ وہ بدامنی کے ذمے دار ہیں، لیکن اصل کھلاڑی امریکا ہے جو بیس سال افغانوں سے پٹ کر وہاں سے بھاگا ہے اور جہاں سے بھاگا یہی فساد کے بیج بوکر بھاگا۔ ویتنام، عراق اور افغانستان سب سامنے ہیں۔

اب یہ بتائیں کہ ہم عوام کس کی مانیں، ہمارے سارے علماء یا ان کی اکثریت افغان جہاد اور پھر طالبان کی حامی تھی، اب وہ والے پیچھے چلے گئے ہیں اور نئے آگے آئے یا لائے گئے ہیں، اب وہ گڈ کوپ، بیڈ کوپ ہوگئے ہیں۔ تو بھائی لوگو افغان جیسے پہلے تھے ویسے ہی ہیں، ہمارے اور ان کے پاس ایک جیسے علما ہیں ان سے دونوں طرف کے مقتدر طبقے مرضی کا بیان دلوا سکتے ہیں، یہ کھیل 1979 سے چل رہا ہے، اور صرف افغانستان میں نہیں ساری دنیا میں کھیلا جارہا ہے۔ مزید جانیے 1960 میں امریکا کو پاکستان کی ضرورت تھی 1958 میں ایوب خان لائے گئے، کسی خان کا امریکا میں ایسا استقبال نہیں ہوا جیسا ایوب خان کا ہوا تھا۔ یعنی دوسال قبل سے تیاری تھی، 79 میں روس افغانستان میں داخل ہوتا ہے، دوسال قبل جنرل ضیاء الحق آجاتے ہیں، 2000 میں امریکا کو افغانستان میں داخل ہونا تھا، 1999 میں جنرل مشرف آجاتے ہیں، یعنی پہلے سے تیاری ہوتی ہے۔ اب بھی ہم افغانوں کو، سعودی ایران کو، یمنی سعودی عرب کو اور ہر مظلوم یا امریکا کا ہر شکار اپنے ہی پڑوسی کو برا کہتا اور لڑتا ہے۔ آج بھی سمجھ لیں تو ریورس گیئر لگ سکتا ہے، ورنہ داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں۔

مظفر اعجاز سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: افغانستان میں افغانستان سے افغانستان کے پاکستان اور ان مجاہدین پاکستان کی تسلیم نہ کیا گیا اور اس

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار