مصطفی الرحمان کا کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے خلاف قانونی چارہ جوئی اختیار نہ کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بنگلہ دیش کے مایہ ناز فاسٹ بولر مستفیض الرحمان نے کولکتہ نائٹ رائیڈرز (کے کے آر) کی جانب سے غیر متوقع طور پر ریلیز کیے جانے کے بعد قانونی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، انہیں باضابطہ احتجاج اور قانونی چارہ جوئی کے اختیارات فراہم کیے گئے تھے، لیکن انہوں نے معاملے کو مزید آگے نہ بڑھانے کو ترجیح دی۔
کرکٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن آف بنگلہ دیش (سی ڈبلیو اے بی) کے صدر محمد متھن نے بتایا کہ بین الاقوامی کرکٹرز کی نمائندہ تنظیم ورلڈ کرکٹرز ایسوسی ایشن (ڈبلیو سی اے) اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے تھی اور کے کے آر کے فیصلے کے خلاف کارروائی کے امکانات بھی موجود تھے، کیونکہ مستفیض الرحمان کو اسکواڈ سے نکالنے کی وجہ کھیل یا انجری نہیں تھی۔
تاہم، کھلاڑی نے ذاتی طور پر کسی بھی قانونی یا انتظامی لڑائی میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کیا، جس کے بعد سی ڈبلیو اے بی نے بھی احتجاج ترک کر دیا۔
واضح رہے کہ مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل 2026 کے لیے کے کے آر نے 9 کروڑ 20 لاکھ بھارتی روپے میں منتخب کیا تھا، لیکن بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کے سبب بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کی ہدایت پر فرنچائز کو انہیں اسکواڈ سے خارج کرنا پڑا۔
اس اقدام کے بعد مستفیض آئی پی ایل 2026 میں معاہدہ حاصل کرنے والے واحد بنگلہ دیشی کھلاڑی بھی نہیں رہے، اور اس سیزن میں کوئی بنگلہ دیشی کرکٹر آئی پی ایل میں حصہ نہیں لے گا۔
اس فیصلے پر بنگلہ دیش میں شدید ردِعمل دیکھا گیا۔ حکومت نے آئی پی ایل کی نشریات عارضی طور پر معطل کر دی ہیں، جبکہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر آئی سی سی سے بھارت میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میچز کے مقامات تبدیل کرنے کی درخواست کی ہے۔
کے کے آر نے اپنے موقف میں کہا کہ کھلاڑیوں کو اسکواڈ میں شامل کرنے یا نکالنے کے فیصلے کھیل کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں، تاہم مستفیض الرحمان کے معاملے میں سامنے آنے والے حالات نے اس فیصلے کو متنازع بنا دیا۔ اس سب کے باوجود مستفیض الرحمان نے تحمل اور خاموشی کا راستہ اختیار کیا اور معاملے کو اختتام تک پہنچانے کا فیصلہ کیا، جسے کھیل کے حلقوں میں سمجھداری اور پیشہ ورانہ رویہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مستفیض الرحمان آئی پی ایل بنگلہ دیش کا فیصلہ کے کے آر
پڑھیں:
کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
ٹریفک پولیس کی جانب سے شہریوں کے لیے ’’روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ‘‘ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ٹریفک پولیس نے شہریوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی، روڈ سیفٹی کے فروغ اور عوام دوست پولیسنگ کے وژن کو مزید مؤثر بنانے کے لیے "روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ" قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
روڈ سیفٹی آفیسرز شہر کی اہم اور مصروف شاہراہوں بشمول شاہراہ فیصل ، ماڑی پور روڈ ، کورنگی روڈ اور شاہراہ لیاقت پر تعینات کیے جائیں گے جہاں وہ ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے، شہریوں کو متبادل راستوں اور سفری سہولیات سے متعلق معلومات فراہم کرنے اور بروقت مدد کے فرائض انجام دیں گے۔
ترجمان کے مطابق یونٹ کے قیام سے شہریوں کو محفوظ سفری ماحول میں رہنمائی ملے گی ، یہ یونٹ شہریوں اور ٹریفک پولیس کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ دوران سفر پیش آنے والی مشکلات کے فوری حل اور مؤثر رہنمائی میں اہم کردار ادا کریگا۔
یونٹ کا مقصد ٹریفک قوانین ، روڈ سیفٹی اقدامات اور ذمہ دارانہ طرز ڈرائیونگ کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر اور اس میں مزید اضافہ کرنا ہے۔