ایرانی عوام متحد ہوکر امریکہ و اسرائیل کی چال کو ناکام بنائیں، محبوبہ مفتی
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلٰی نے امریکہ پر الزام عائد کیا کہ وہ جمہوریت کی بحالی کے نام پر مختلف ممالک پر حملے کرکے قدرتی وسائل کا استحصال کرتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر اور جموں کشمیر کی سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز امریکہ پر الزام عائد کیا کہ وہ جمہوریت کی بحالی کے نام پر مختلف ممالک پر حملے کرکے قدرتی وسائل کا استحصال کرتا ہے۔ محبوبہ مفتی نے ایرانی عوام سے یک جُٹ ہوکر امریکہ اور اسرائیل کی چال کو ناکام بنانے کا مشورہ دیا وہیں انہوں نے ایرانی حکومت سے بھی عوامی شکایات کا ازالہ کرنے کی وکالت کی۔ سرینگر میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ امریکہ کا یہ ایک مستقل طریقہ کار بن چکا ہے کہ وہ دنیا کے مختلف خطوں میں جمہوری تبدیلی کے بہانے سے فوجی مداخلت کرتا ہے، خواتین کے حقوق بحال کرنے جیسے بہانے بنا کر ملکوں کو تباہ کر دیتا ہے لیکن اصل مقصد ان ممالک کے وسائل پر قبضہ جمانا ہوتا ہے۔
محبوبہ مفتی کو یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ لوگ امریکہ کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایسے احتجاج بھارت بھر میں ہونے چاہئیں تھے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ایران تاریخی طور پر بھارت کا ایک اچھا دوست رہا ہے، لیکن بی جے پی کی پالیسیوں کے باعث حالیہ برسوں میں صورتحال بدل گئی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے لوگ اپنی صورتحال کو نہیں سمجھتے تو ان کے حالات شام سے بھی بدتر ہو سکتے ہیں اور بیرونی مداخلت کے خلاف بھی تنبیہ کی، جو ان کے بقول "ممالک کو غیر مستحکم کرنے کا سبب بنتی ہے"۔
پی ڈی پی کی سربراہ نے مزید الزام عائد کیا کہ امریکہ اور اسرائیل مسلم مخالف ممالک ہیں اور کہا کہ امریکہ کا اصل مقصد حکومتوں کی تبدیلی کے نام پر وسائل کا استحصال کرنا ہے۔ حالیہ مظاہروں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ کشمیر کے لوگ ایران کی حمایت میں ہیں اور عالمی ناانصافی کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: محبوبہ مفتی نے کہا کہ کیا کہ
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔