امریکہ نے وینزویلا کے تیل کی فروخت شروع کردی: گرین لینڈ میں ڈینش فوج کی تعیناتی
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
واشنگٹن ماسکو پیرس (نوائے وقت رپورٹ+ این این آئی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ کی قومی سلامتی کیلئے ہمیں گرین لینڈ کی ضرورت ہے۔ ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ڈنمارک کے ساتھ ہمارے اچھے تعلقات ہیں، تاہم گرین لینڈ سے متعلق ڈنمارک پر اعتماد نہیں کر سکتا، دیکھتے ہیں گرین لینڈ کے معاملے پر آگے کیا ہوتا ہے۔ دوسری جانب گرین لینڈ اور ڈنمارک کے وزرائے خارجہ نے امریکی حکام سے ملاقات کی، وزارت خارجہ گرین لینڈ کا کہنا تھا کہ امریکا کے ساتھ تعاون بڑھانا چاہتے ہیں، گرین لینڈ امریکی ملکیت نہیں بننا چاہتا۔ ڈنمارک نے نیٹو اتحادیوں کیساتھ ملکر گرین لینڈ میں فوج تعیناتی شروع کر دی۔ فرانس کے صدر عمانوئل میکرون نے گرین لینڈ سے متعلق بیانات پر ردعمل دیتے کہا ایسے بیانات کو ہرگز معمولی یا غیر سنجیدہ نہیں لینا چاہئے، روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ امریکہ کی وینزویلا میں کارروائی بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے اور واشنگٹن اپنے ہی بنائے ہوئے عالمی اصولوں کو پامال کر رہا ہے۔ امریکہ کی تجارتی پابندیوں اور غیر منصفانہ ڈیوٹیوں کا سلسلہ اس بات کی علامت ہے کہ واشنگٹن کی عالمی پوزیشن کمزور پڑ رہی ہے۔ روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے واضح کیا ہے کہ امریکہ کا 500 فیصد تک درآمدی ڈیوٹی عائد کرنے کا خیال مضحکہ خیز ہے، تاہم ماسکو اپنے شراکت داروں کے ساتھ کیے گئے تجارتی اور اقتصادی معاہدوں پر قائم رہے گا، امریکہ کا خود اپنی عالمی گلوبلائزیشن پالیسی سے پیچھے ہٹ جانا، اسے ناقابلِ اعتماد بنا رہا ہے۔ امریکہ نے باضابطہ طور پر وینزویلا کے تیل کی فروخت شروع کر دی، امریکی اہلکار نے بتایا 500 ملین ڈالر کی پہلی کھیپ فروخت کی ہے۔ دوسری جانب امریکی سینٹ نے صدر ٹرمپ کو وینزویلا کے خلاف مزید کارروائی کا اختیار دے دیا۔ امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ کا اقدام کا نگریس سے مشروط کرنے کا بل50 کے مقابلے میں51 ووٹ سے مسترد کر دیا گیا، 3 ریپبلکن ارکان سینٹ نے تمام ڈیموکریٹس ارکان کے ساتھ مل کر ووٹ دیا تھا۔ امریکی میڈیا نے مزید بتایا کہ امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے ٹرمپ کے حق میں فیصلہ کن ووٹ ڈالا۔ امریکی سینٹ کی دو خواتین ارکان نے ایک ایسی قانون سازی کی تجوز پیش ہے جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو پارٹنر ملک کی منظوری کے بغیر نیٹوکے کسی بھی اتحادی کی سرزمین پر کسی بھی طرح قبضے، الحاق یا کنٹرول حاصل کرنے سے روک دے گی۔ یہ تجویز، جو ریپبلکن سینیٹر لیزا مرکووسکی اور ڈیموکریٹک سینیٹر جین شاہین نے مرکووسکی اور شاہین نے خبردار کیا ہے کہ گرین لینڈ پر قبضے کی کوئی بھی کوشش نیٹو معاہدے کی خلاف ورزی ہو گی۔ اتحاد کے استحکام کو کمزور کرے گی اور روس و چین کی جانب سے درپیش خطرات کا مقابلہ کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچائے گی۔ ابتدائی طور پر یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اس بل کے سینٹ اور پھر ایوانِ نمائندگان سے منظور ہونے کے کوئی حقیقی امکانات ہیں یا نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔
قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔
ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،
وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،