امریکا سے مذاکرات ناکام،ڈنمارک نے ناٹو اتحادیوں کیساتھ گرین لینڈ میں فوجی تعیناتی شروع کر دی
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260116-08-27
واشنگٹن‘ کوپن ہیگن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا کی جانب سے گرین لینڈ خرید نے کی بار بار خواہش کے اظہار کے بعد امریکا، ڈنمارک اور گرین لینڈ کے درمیان ہونے والا اعلیٰ سطحی سہ فریقی اجلاس بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہو گیا، جس کے فوراً بعد ڈنمارک نے نیٹو اتحادیوں کے ساتھ مل کر گرین لینڈ میں فوجی تعیناتی شروع کر دی۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق ڈنمارک کی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ ’’آپریشن آرکٹک اینڈیورنس‘‘ کے تحت گرین لینڈ اور اس کے گرد و نواح میں فوجی موجودگی کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔ اس آپریشن میں جرمنی، فرانس، ناروے اور سویڈن سمیت کئی نیٹو ممالک شریک ہیں۔ ڈنمارک کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد آرکٹک خطے میں دفاعی صلاحیت بڑھانا، اہم انفرااسٹرکچر کا تحفظ، مقامی خودمختار حکومت کی معاونت، فضائی اور بحری آپریشنز کو بہتر بنانا ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق اس فوجی سرگرمی کو امریکا کی جانب سے گرین لینڈ پر دعوے کے تناظر میں طاقت کا مظاہرہ سمجھا جا رہا ہے۔دوسری جانب وائٹ ہاؤس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ڈنمارک کے وزیر خارجہ لارس لوکے راسموسن اور گرین لینڈ کی وزیر خارجہ ویوین موٹسفیلڈ سے ملاقات کی، جس میں گرین لینڈ کی سلامتی اور تعاون پر بات ہوئی، تاہم خودمختاری کے معاملے پر شدید اختلافات برقرار رہے۔ملاقات کے بعد ڈنمارک کے وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ گرین لینڈ کی خودمختاری’’سرخ لکیر‘‘ ہے جس پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا جبکہ گرین لینڈ کی وزیر خارجہ نے بھی کہا کہ امریکا کے ساتھ تعاون خوش آئند ہے لیکن گرین لینڈ امریکا کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کی ناکامی کے باوجود اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ گرین لینڈ امریکا کے نئے میزائل دفاعی نظام ’’گولڈن ڈوم‘‘ کے لیے انتہائی اہم ہے اور عندیہ دیا کہ امریکا ہر آپشن پر غور کر سکتا ہے۔ان بیانات کے بعد یورپ اور امریکا کے درمیان گرین لینڈ کے معاملے پر سفارتی اور عسکری کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: گرین لینڈ کی
پڑھیں:
فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہےکہ میں، فیلڈ مارشل اور پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت، برادر عوام کے ساتھ مضبوطی، عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں وزیراعظم نے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے بزدلانہ حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔
وزیراعظم نے محمد بن سلمان سے گفتگو میں کہا کہ ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں، یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، ایسے اقدامات جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور ایسے اقدامات علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
وزیراعظم نے برادر ملک سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ میں، فیلڈ مارشل اور پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت، برادر عوام کے ساتھ مضبوطی، عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور خوشحالی کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان امن وسلامتی اور استحکام کے لیے مملکت و عالمی برادری کےساتھ تعاون جاری رکھے گا، پاکستان بحیرہ احمر، آبنائےہرمز اور سمندری تجارت کی بلاتعطل روانی کے لیے قریبی تعاون جاری رکھے گا۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
وزیراعظم نےخادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان کے لیے نیک خواہشات اور خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کیا جب کہ اس موقع پر سعودی ولی عہد نے پاکستان کی مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قریبی برادرانہ تعلقات کو سراہا۔
مزید :