پاکستان اور امریکا کی مشترکہ فوجی مشق جاری، نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر پبی میں تقریب کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
پاکستان اور امریکا کی انسداد دہشتگردی پر مبنی مشترکہ فوجی مشقیں جاری ہیں۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان آرمی اور امریکی فوج کے درمیان انسداد دہشتگردی پر مبنی مشترکہ فوجی مشق انسپائرڈ گیمبٹ 8 جنوری 2026 سے 16 جنوری 2026 تک منعقد کی جا رہی ہے، یہ مشق 1995 سے جاری اس دوطرفہ تربیتی سلسلے کا 13واں مرحلہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور امریکا کی دوطرفہ 13ویں جنگی مشقوں کا آغاز
مشق کے سلسلے میں 15 جنوری 2026 کو نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر پبی میں ڈسٹنگوئشڈ وزیٹرز ڈے کی تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب میں پاکستان میں امریکا کی ناظم الامور نتالی بیکر، سینیئر امریکی عسکری حکام اور کمانڈر راولپنڈی کور نے شرکت کی۔
مہمانوں کو مشق کے دائرہ کار، مقاصد اور عملی سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر پاکستان آرمی اور امریکی فوج کے شرکا نے اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت، نظم و ضبط اور عملی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا، جسے آنے والے معزز مہمانوں نے سراہا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی جنگی مشق ’ترشول‘ کے اعلان پر پاکستان کا انتہائی سخت ردعمل، فضائی حدود میں عبوری پابندیوں کا نفاذ
یہ مشترکہ مشق دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون کو فروغ دینے، انسداد دہشت گردی کے تجربات کے تبادلے، آپریشنل طریقہ کار کو بہتر بنانے اور باہمی ہم آہنگی کو مضبوط کرنے کے لیے منعقد کی جا
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news امریکا پاکستان پبی فوجی مشق.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا پاکستان فوجی مشق امریکا کی فوجی مشق
پڑھیں:
ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
واشنگٹن:امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
https://t.co/Wtbk84dEsc
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔