جرمن ایئر لائن کا اسرائیل کیلئے رات کی پروازیں بند کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
جرمن ایئر لائن نے اسرائیل کے لیے رات کی پروازیں بند کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
جرمن ایئر لائن کے مطابق اسرائیل کے لیے رات کی پروازیں 19 جنوری تک بند رہیں گی۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق یہ فیصلہ بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے باعث کیا گیا ہے۔
اس حوالے سے ایئر لائن کے ترجمان نے کہا ہے کہ علاقائی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور آنے والے دنوں میں اس حوالے سے دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔
دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ قطر میں امریکی فوجی ایئر بیس العدید سے کچھ اہلکاروں کو نکلنے کا حکم دے چکی ہے جبکہ برطانیہ نے بھی قطر کے امریکی فوجی اڈے سے اپنا عملہ نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔
علاوہ ازیں امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران میں امن قائم ہے، صورت حال مکمل قابو میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ جون جیسی غلطی دوبارہ نہ دہرائیں، ورنہ وہی نتیجہ نکلے گا جو پہلے نکلا تھا، عزم کو بمباری سے توڑا نہیں جا سکتا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ایئر لائن
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔