WE News:
2026-07-24@05:02:16 GMT

گرین لینڈ میں نیٹو افواج کی تعیناتی، روس کا شدید ردعمل

اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT

گرین لینڈ میں نیٹو افواج کی تعیناتی، روس کا شدید ردعمل

گرین لینڈ میں نیٹو افواج کی تعیناتی پر روس نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے جبکہ ڈنمارک کی قیادت میں شروع کیے گئے ’آپریشن آرکٹک اینڈیورنس‘ کے تحت متعدد یورپی ممالک نے آرکٹک خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کا اعلان کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ گرین لینڈ حاصل کرنے پر بضد، یورپی اتحادی ڈنمارک کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوئے

مختلف میڈیا رپورٹس کے مطابق اس پیشرفت نے پہلے سے کشیدہ صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے جس کی بڑی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ کو اپنے کنٹرول میں لینے کے بار بار بیانات ہیں۔

بیلجیئم میں نیٹو ہیڈکوارٹر کے مقام پر قائم روسی سفارتخانے نے ایک بیان میں کہا کہ آرکٹک میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے۔ روس نے نیٹو پر الزام عائد کیا کہ وہ روس اور چین سے مبینہ خطرات کو جواز بنا کر گرین لینڈ میں اپنی فوجی طاقت میں اضافہ کر رہا ہے۔ روسی بیان کے مطابق نیٹو روس اور چین سے بڑھتے ہوئے خطرے کے جھوٹے بہانے کے تحت وہاں اپنی فوجی موجودگی بڑھا رہا ہے۔

آپریشن آرکٹک اینڈیورنس: نیٹو ممالک کی تعیناتی

ڈنمارک کی زیرِ قیادت آپریشن آرکٹک اینڈیورنس کے تحت جرمنی، فرانس، سویڈن اور ناروے نے گرین لینڈ میں فوجی اہلکار تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ افواج گرین لینڈ کے دارالحکومت نوک میں تعینات ہوں گی اور خطے میں سیکیورٹی، نگرانی اور مشترکہ فوجی مشقوں میں حصہ لیں گی۔

مزید پڑھیے: گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول کے علاوہ کچھ بھی قابلِ قبول نہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

گرین لینڈ کے نائب وزیر اعظم ایگیدے نے کہا ہے کہ آنے والے دنوں میں نیٹو فوجی جزیرے پر زیادہ نمایاں ہوں گے۔ ان کے مطابق فوجی پروازوں اور بحری جہازوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا، جبکہ سرگرمیاں زیادہ تر تربیتی نوعیت کی ہوں گی۔

جرمنی، فرانس، سویڈن اور ناروے کا کردار

جرمنی کی وزارت دفاع کے مطابق، بنڈس ویئر کے 13 اہلکاروں پر مشتمل ایک جاسوسی ٹیم ڈنمارک کی دعوت پر نوک روانہ کی جا رہی ہے جو آرکٹک میں ممکنہ فوجی تعاون اور سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لے گی۔ جرمن وزارت نے اس اقدام کو اتحادیوں کے درمیان اتحاد کی مضبوط علامت قرار دیا ہے۔

فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے تصدیق کی ہے کہ فرانسیسی فوجی اہلکار روانہ ہو چکے ہیں جبکہ مزید دستے بھی جلد پہنچیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ افواج اتحادی ممالک کے مشترکہ گروپ کا حصہ ہیں جو ڈنمارک کی فوجی مشقوں کے فریم ورک میں کام کریں گی۔

مزید پڑھیں: فرانس کا گرین لینڈ میں قونصل خانہ کھولنے کا اعلان، کیا یہ امریکا کے لیے کوئی ’خاموش پیغام‘ ہے؟

سویڈن کے وزیرِاعظم الف کرسٹرسن کے مطابق سویڈش مسلح افواج کے کئی افسران ڈنمارک کی درخواست پر گرین لینڈ پہنچ رہے ہیں جبکہ نیٹو کا رکن ملک ناروے بھی خطے میں سیکیورٹی برقرار رکھنے کے لیے فوجی تعاون فراہم کر رہا ہے۔

امریکی عزائم اور سفارتی کشیدگی

یہ فوجی سرگرمیاں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بارہا یہ مؤقف دہرا چکے ہیں کہ گرین لینڈ کو امریکی کنٹرول میں آنا چاہیے ورنہ چین یا روس اس خطے میں اثر و رسوخ حاصل کر سکتے ہیں۔ ان بیانات نے ڈنمارک، گرین لینڈ اور نیٹو کے اندر تشویش پیدا کر دی ہے۔

بدھ کے روز واشنگٹن میں امریکا، ڈنمارک اور گرین لینڈ کے اعلیٰ حکام کے درمیان ہونے والا اجلاس اس بنیادی اختلاف کو ختم کرنے میں ناکام رہا۔

ڈنمارک کی وزیرِاعظم میٹے فریڈرکسن نے واضح کیا ہے کہ گرین لینڈ پر امریکی قبضے کا امکان ناقابل قبول ہے اور ڈنمارک اس طرح کے کسی بھی اقدام کو روکنے کے لیے پرعزم ہے۔

روس اور نیٹو آمنے سامنے

روس کا کہنا ہے کہ آرکٹک میں بڑھتی ہوئی نیٹو سرگرمیاں خطے کے استحکام کے لیے خطرہ ہیں جبکہ نیٹو کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات سیکیورٹی اور نگرانی کے لیے ضروری ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: ٹرمپ کی طرف سے گرین لینڈ پر ممکنہ قبضے کیخلاف امریکی سینیٹ میں بل پیش

ماہرین کے مطابق، برف پگھلنے کے باعث نئے بحری راستوں اور قدرتی وسائل تک رسائی نے آرکٹک کو عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔

دوسری جانب گرین لینڈ کے دارالحکومت نوک میں عوام نے یکجہتی کے اظہار کے طور پر قومی پرچم لہرائے تاہم کئی شہریوں نے بڑی طاقتوں کی کشمکش کے درمیان پھنس جانے پر تشویش بھی ظاہر کی ہے۔

مزید پڑھیں: گرین لینڈ تنازع: ٹرمپ کے ارادوں پر ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا چاہتے ہیں، ڈنمارک

مقامی ٹیچر ویرا اسٹیڈسن کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال خوفناک ہے۔ ہم صرف امن کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتے ہیں اور نہیں چاہتے کہ ہمارا ملک عالمی طاقتوں کے تنازع کا میدان بنے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

روس نیٹو افواج نیٹو افواج گرین لینڈ میں.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: نیٹو افواج گرین لینڈ میں گرین لینڈ کے ڈنمارک کی میں نیٹو کے مطابق کے لیے

پڑھیں:

مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی

ویب ڈیسک : مستونگ میں ہونے والے قاتلانہ حملے میں سیشن جج مستونگ عبدالحکیم کاکڑ اور گن مین شہید ہو گئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری شدید زخمی ہوئے۔

حکومت بلوچستان نے مستونگ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا حکم دے دیاہے۔ معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کا کہنا ہے کہ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کی شہادت انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

 معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کے مطابق وکلاء اور ججز کو نشانہ بنانا ایک گہری سازش کا حصہ ہے،دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا۔

 وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے مستونگ حملے میں زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سے رابطہ کرکے ان کی خیریت دریافت کی اوران کی مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیاہے۔

 وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ قانون کے محافظوں پر حملہ ناقابل برداشت ہے، ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا،حکومت عدلیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ہر قدم پر کھڑی ہے۔ 

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

متعلقہ مضامین

  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل