ٹرمپ گرین لینڈ حاصل کرنے پر بضد، یورپی اتحادی ڈنمارک کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوئے
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
بدھ کے روز واشنگٹن میں امریکا، ڈنمارک اور گرین لینڈ کے اعلیٰ حکام کے درمیان ہونے والی ملاقات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گرین لینڈ پر قبضے کے ارادے کو ٹھنڈا کرنے میں ناکام رہی۔
اس ملاقات کے بعد یہ خدشہ مزید بڑھ گیا ہے کہ کوپن ہیگن اور واشنگٹن کے تعلقات میں طویل عرصے تک کشیدگی برقرار رہ سکتی ہے۔
یہ ملاقات وائٹ ہاؤس میں ہوئی، جس میں ڈنمارک کے وزیر خارجہ لارس لوکے راسموسن، گرین لینڈ کی وزیر خارجہ ویویان موٹزفیلڈٹ، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو شریک تھے۔
ورکنگ گروپ تو بنا، مگر مؤقف برقرارملاقات کے بعد لارس راسموسن نے بتایا کہ امریکا اور ڈنمارک نے گرین لینڈ سے متعلق مختلف معاملات پر بات چیت کے لیے ایک مشترکہ ورکنگ گروپ بنانے پر اتفاق کیا ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ امریکا اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹا۔
راسموسن کے مطابق ’ہم امریکی مؤقف تبدیل نہیں کر سکے۔ یہ بالکل واضح ہے کہ صدر ٹرمپ گرین لینڈ پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔‘
ڈنمارک اور گرین لینڈ دونوں نے اس مطالبے کو ناقابلِ قبول اور خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
ٹرمپ کا مؤقف: قومی سلامتی کا معاملہصدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اسٹریٹجک محلِ وقوع اور قیمتی معدنی وسائل کی وجہ سے گرین لینڈ امریکا کی قومی سلامتی کے لیے نہایت اہم ہے۔ ان کے مطابق امریکا کو گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنا ہوگا تاکہ روس یا چین وہاں قدم نہ جما سکیں۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اس مقصد کے لیے تمام آپشنز میز پر ہیں، جس سے نیٹو اتحاد میں بے چینی پھیل گئی ہے۔
سوشل میڈیا پر متنازع بیاناتملاقات سے قبل ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ اگر گرین لینڈ امریکا کے پاس ہو تو نیٹو کہیں زیادہ مضبوط اور مؤثر ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے کم کچھ بھی قابلِ قبول نہیں۔
ایک اور پوسٹ میں روس اور چین کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرمپ نے نیٹو کو مخاطب کر کے کہا کہ ڈنمارک سے کہو کہ انہیں یہاں سے نکالو، فوراً! 2 ڈاگ سلیڈز کافی نہیں ہوں گی، صرف امریکا ہی یہ کر سکتا ہے!
گرین لینڈ برائے فروخت نہیںڈنمارک اور گرین لینڈ نے واضح طور پر کہا ہے کہ گرین لینڈ فروخت کے لیے نہیں اور طاقت کے استعمال کی دھمکیاں غیر ذمہ دارانہ ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی خدشات کو اتحادی ممالک کے درمیان بات چیت سے حل کیا جانا چاہیے۔
یورپی یونین کے اہم ممالک نے ڈنمارک کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے۔
یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈر لیئن نے کہا کہ گرین لینڈ کے عوام ہم پر بھروسہ کر سکتے ہیں۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے بھی خبردار کیا کہ اگر کسی یورپی ملک کی خودمختاری متاثر ہوئی تو اس کے اثرات غیر معمولی ہوں گے۔
صرف یہی نہیں بلکہ فرانس 6 فروری کو گرین لینڈ کے دارالحکومت نوک میں اپنا قونصل خانہ کھولنے جا رہا ہے۔
ڈنمارک اور گرین لینڈ نے اعلان کیا ہے کہ وہ نیٹو اتحادیوں کے ساتھ مل کر گرین لینڈ اور اس کے اطراف میں فوجی موجودگی بڑھا رہے ہیں۔
ڈنمارک کی وزارتِ دفاع کے مطابق 2026 میں آرکٹک خطے میں مختلف فوجی مشقیں بھی کی جائیں گی۔
حالیہ دنوں میں گرین لینڈ کی قیادت نے اپنی حکمتِ عملی میں واضح تبدیلی دکھائی ہے۔ پہلے وہ آزادی کے راستے پر زور دے رہے تھے، لیکن اب ڈنمارک کے ساتھ اتحاد کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔
گرین لینڈ کے وزیر اعظم جینس فریڈرک نیلسن نے کہا کہ جب کوئی دوسرا ملک ہمیں اپنے قبضے میں لینے کی بات کر رہا ہو تو یہ وقت اپنے حقِ خود ارادیت پر جوا کھیلنے کا نہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایمانوئل میکرون ڈنمارک ڈونلڈ ٹرمپ فرانس گرین لینڈ یورپی یونین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایمانوئل میکرون ڈونلڈ ٹرمپ گرین لینڈ یورپی یونین ڈنمارک اور گرین لینڈ گرین لینڈ کے کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
لاہور میں نجی کوریئر کمپنی کی وین کے ڈرائیور سے بدتمیزی کرنے پر ٹریفک وارڈن کو معطل کر دیا گیا۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی صدر کو انکوائری کا حکم دے دیا۔
ٹریفک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی ہوگی، شہریوں سے حسنِ سلوک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سی ٹی او لاہور نے ٹریفک پولیس میں نظم و ضبط اور عوامی احترام اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی، انکوائری مکمل ہونے پر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔
شہری کے مطابق ٹریفک وارڈن نے رکنے کا اشارہ کیا لیکن اشارہ نظر نہیں آیا، تاہم آگے جا کر رکا جس پر ٹریفک وارڈن نے گاڑی کے اندر سوار ہو کر تشدد کا نشانہ بنایا اور گالم گلوچ کی۔ موقع پر وارڈن نے آن لائن چالان بھی جمع کروایا۔