data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ایران میں جاری احتجاجی مظاہروں اور امریکی صدر کی جانب سے مظاہرین کی حمایت میں مداخلت کی دھمکیوں کے باعث خطے میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس تناظر میں غیر ملکی خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران میں مداخلت کر سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر امریکا نے اپنے فوجی اڈوں سے بعض اہلکاروں کا انخلا شروع کر دیا ہے، جسے ممکنہ امریکی کارروائی کی واضح پیشگی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ یہ اقدام احتیاطی تدبیر کے طور پر کیا جا رہا ہے کیونکہ ایران نے پڑوسی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ امریکی حملے کی صورت میں خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔

ایک اور امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ صورتحال کے پیش نظر خطے کے اہم فوجی مراکز سے کچھ عملہ واپس بلایا جا رہا ہے۔ اسی سلسلے میں برطانیہ بھی قطر میں واقع ایک فضائی اڈے سے اپنے بعض اہلکار نکال رہا ہے۔

رائٹرز سے بات کرتے ہوئے ایک مغربی فوجی عہدیدار نے کہا کہ موجودہ تمام اشارے اس بات کی طرف ہیں کہ امریکی حملہ کسی بھی وقت ہو سکتا ہے۔ دو یورپی عہدیداروں نے بھی خبررساں ایجنسی کو بتایا کہ امریکی فوجی مداخلت آئندہ 24 گھنٹوں کے اندر ممکن ہے، جبکہ ایک اسرائیلی عہدیدار کے مطابق ایسا تاثر ہے کہ صدر ٹرمپ مداخلت کا فیصلہ کر چکے ہیں، اگرچہ اس کے وقت اور دائرہ کار کے بارے میں حتمی وضاحت تاحال سامنے نہیں آئی۔

ویب ڈیسک مقصود بھٹی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: رہا ہے

پڑھیں:

امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔

ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔

واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان