مشرق وسطیٰ ایک بار پھر شدید کشیدگی کی لپیٹ میں آ گیا ہے، جہاں ایران پر ممکنہ امریکی حملے سے متعلق خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگی ہیں۔

برطانوی خبر ایجنسی نے مغربی فوجی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ تمام شواہد اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ ایران پر عنقریب حملہ ہو سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مغربی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ غیر متوقع اقدامات امریکی عسکری حکمتِ عملی کا اہم حصہ ہوتے ہیں، اسی لیے صورتحال کو جان بوجھ کر غیر واضح رکھا جا رہا ہے۔ اس پیش رفت کے ساتھ ہی سفارتی سطح پر بھی غیر معمولی سرگرمیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ نے ایران سے اپنا تمام سفارتی عملہ واپس بلا لیا ہے جبکہ برطانوی سفیر کو بھی تہران سے وطن واپس طلب کر لیا گیا ہے۔ اس اقدام کو ممکنہ فوجی کارروائی سے جوڑا جا رہا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو مظاہرین پر تشدد اور پھانسیوں کے معاملے پر پہلے ہی سنگین نتائج کی دھمکی دے چکے ہیں۔

مزید پڑھیں

ایران میں پُرتشدد مظاہرے رک گئے، صدر ٹرمپ نے بھی تسلیم کر لیا

ایران پر کن اہداف کو نشانہ بنانا ہے؛ پینٹاگون نے ٹرمپ کو فہرست تھما دی

ایران کی سعودیہ، قطر، امارات میں امریکی فوجی اڈے تباہ کرنے کی جوابی دھمکی

وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں گزشتہ رات ایک پریس بریفنگ میں امریکی صدر نے اعتراف کیا کہ ایران میں مظاہرین پر طاقت کے استعمال میں کمی آئی ہے۔

اسرائیلی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران پر حملہ کچھ دن کے لیے مؤخر کر دیا گیا ہے کیونکہ اب تہران سے مظاہرین کی ہلاکتوں کی خبروں میں کمی آ گئی ہے۔

امریکی حملے کے خدشے کے باعث اسپین، پولینڈ، اٹلی، بھارت سمیت کئی ممالک نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

علاقائی سطح پر بھی خطرے کی فضا برقرار ہے اطلاعات کے مطابق مشرق وسطیٰ میں واقع امریکی ایئر بیسز سے فوجیوں کا انخلا شروع ہو چکا ہے۔

 ادھر ایران نے بھی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے حملہ کیا تو خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے محفوظ نہیں رہیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ایران پر

پڑھیں:

انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران

ایران کی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محسن رضاعی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا ردعمل شدید اور وسیع ہوگا۔

ایرانی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے انفرا اسٹرکچر پر مزید حملے کیے تو ایران کا جوابی اقدام شدید اور بتدریج وسیع ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ شلمچہ میں زائرین پر حملہ اور انفرا اسٹرکچر پر حملوں کی امریکی دھمکیاں مایوسی اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی