خاران میں بھارتی حمایت یافتہ خارجیوں کے حملے ناکام، 12 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
آئی ایس پی آر کے مطابق 15 جنوری 2026 کو بلوچستان کے ضلع خاران میں قریباً 15 سے 20 بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں نے متعدد دہشتگردانہ کارروائیاں کیں۔ دہشتگردوں نے سٹی پولیس اسٹیشن، نیشنل بینک آف پاکستان اور حبیب بینک لمیٹڈ پر حملے کیے، جن کے دوران بینکوں سے 34 لاکھ روپے لوٹے گئے۔
مزید پڑھیں: ڈی جی آئی ایس پی آر کی زبان محتاط تھی، مجھے اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی آزادی ہے، خواجہ آصف
فورسز نے فوری ردعمل دکھایا اور دہشتگردوں سے مقابلہ کیا، جس کے نتیجے میں وہ پسپا ہو گئے۔ بعد ازاں کارروائی کے دوران 3 مختلف مقامات پر 12 دہشتگرد مارے گئے۔ دہشتگردوں کا پولیس اسٹیشن میں یرغمالی صورتحال پیدا کرنے کا منصوبہ بھی ناکام بنادیا گیا۔
آس پاس کے علاقوں میں صفائی اور سرچ آپریشن جاری ہے تاکہ کسی اور بھارتی حمایت یافتہ دہشتگرد کو ختم کیا جا سکے۔
مزید پڑھیں: ڈی جی آئی ایس پی آر نے قوم میں ہلچل مچا دی، جنرل فیض حمید کیس کا آخری باب؟
پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے قومی ایکشن پلان کے ’عزم استحکام‘ کے وژن کے تحت جاری انسداد دہشتگردی مہم کو مکمل رفتار سے جاری رکھیں گے تاکہ ملک سے غیر ملکی حمایت یافتہ دہشتگردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئی ایس پی آر بھارتی حمایت یافتہ خارجی خاران.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی ایس پی ا ر بھارتی حمایت یافتہ خارجی بھارتی حمایت یافتہ آئی ایس پی آر
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک