دہشتگردوں کو پاکستان سے اٹھا کر بحرِ ہند میں ڈبو دیا جائے گا: وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے کے درمیان گٹھ جوڑ موجود ہے اور ان کے خلاف تمام شواہد ہمارے پاس ہیں، دہشتگرد تنظیموں کو دشمنوں کی جانب سے وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں۔دہشتگردوں کو پاکستان سے اٹھا کر بحرِ ہند میں ڈبو دیا جائے گا۔
قومی پیغامِ امن کمیٹی کے اراکین سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اس وقت ملک میں قومی پیغامِ امن کمیٹی کا کردار انتہائی اہم ہے اور اس پلیٹ فارم کے ذریعے اتحاد، رواداری اور ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔قیامِ پاکستان میں علما ءکرام اور اقلیتی برادری نے بھرپور کردار ادا کیا جبکہ آزادی کے وقت لاکھوں لوگوں نے وطن کی خاطر قربانیاں دیں۔ پاکستان کے قیام کا مقصد یہ تھا کہ بلا امتیاز سب کو برابر حقوق حاصل ہوں، آج پاکستان ترقی اور خوشحالی کی جانب گامزن ہے اور اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بے پناہ قدرتی وسائل سے نوازا ہے جن کی مالیت کھربوں ڈالرز میں ہے، ان وسائل کو بروئے کار لا کر ملک سے غربت اور بے روزگاری کا خاتمہ اور قرضوں سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے جو اگرچہ مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔
مذاق کرنا ہے تو اپنی ناکام شادی پر کریں: بشری انصاری کے طنز پر جاوید شیخ کا کرارا جواب
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مئی 2025 میں ایک معرکہ پیش آیا جس میں افواجِ پاکستان نے معرکۂ حق میں بھارت کو شکستِ فاش دی، افواجِ پاکستان نے اپنی جرات، اعلیٰ ترین تربیت اور بہترین حکمتِ عملی کے باعث یہ کامیابی حاصل کی اور اس معرکے کی قیادت فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کی۔آج پاکستان کو سب سے بڑا چیلنج دہشتگردی کا سامنا ہے، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ایک لاکھ پاکستانی شہید ہو چکے ہیں اور چاروں صوبوں کے شہداء نے اپنے خون سے اس وطن کی آبیاری کی ہے، پاکستان نے نہ صرف خود قربانیاں دیں بلکہ دنیا کو بھی دہشتگردی سے محفوظ بنانے میں کردار ادا کیا، اس پر دنیا کو پاکستان کا شکر گزار ہونا چاہیے۔
اکشے کمار کا مداح کے ساتھ برتاؤ ،ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
وزیر اعظم نے کہا کہ ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے کے درمیان گٹھ جوڑ موجود ہے اور ان کے خلاف تمام شواہد ہمارے پاس ہیں، دہشتگرد تنظیموں کو دشمنوں کی جانب سے وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں تاہم ماضی میں جس طرح دہشتگردی کے ناسور کو ختم کیا گیا، آج بھی اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا جبکہ دہشتگردوں کو پاکستان کی سرحدوں سے اٹھا کر بحرِ ہند میں ڈبو دیا جائے گا۔
مزید برآں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آج جتنا اتحاد اور یکجہتی درکار ہے، اس کی پہلے کبھی اتنی ضرورت نہیں تھی، پیچیدہ قومی معاملات کو مل بیٹھ کر حل کرنا ہوگا تاکہ پاکستان امن، ترقی اور خوشحالی کی راہ پر تیزی سے آگے بڑھتا رہے۔
9 مئی سے متعلق پنجاب فارنزک لیب کی رپورٹ غیر قانونی ہے: سلمان اکرم
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کو پاکستان جائے گا ہے اور دیا جا
پڑھیں:
دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے خطاب کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے تک فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کوششیں، عوام کی غیرمتزلزل حمایت کے ساتھ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کو یقینی بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی، پاکستان میں جہاں بھی دہشت گردوں کا انفرا اسٹرکچر ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بنے گا، اسے ختم کرنے کے لیے اپنے غیرمتزلزل عزم پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے پراکسی عناصر مسلسل بلوچستان میں بدامنی، عدم استحکام اور امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم مسلح افواج عوام کی یک جہتی اور ثابت قدمی کے ساتھ ان مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بلوچستان کو پاکستان کا فخر قرار دیا اور کہا کہ یہ صوبہ بے پناہ قدرتی وسائل، محب وطن، باصلاحیت اور باہمت عوام سے مالا مال ہے، جو بلوچستان کی اصل طاقت ہیں۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے عوام دوست اور جامع منصوبوں پر عمل پیرا ہیں، جن کا مقصد صوبے کی تقدیر بدلنا ہے۔
انہوں نے قومی یک جہتی کے فروغ میں سول سوسائٹی، جامعات، میڈیا اور نوجوانوں کے مثبت کردار کو سراہا اور کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے کے لیے قومی اتحاد، استقلال اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق جی ایچ کیو میں تقریب کے اختتام پر شرکا کے ساتھ تفصیلی سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں شرکا نے پاکستان کے استحکام، ترقی، امن اور خودمختاری کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔