data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

نیویارک: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر ایک اہم اور غیر معمولی اجلاس منعقد ہوا، جس کے دوران عالمی طاقتوں کے درمیان سخت سفارتی مؤقف سامنے آئے اور اجلاس کا ماحول خاصا کشیدہ رہا۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق اجلاس میں ایران کے داخلی حالات، انسانی حقوق، خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی امن کو درپیش خطرات پر تفصیلی گفتگو کی گئی، جس میں امریکا، روس اور پاکستان کے مستقل مندوبین نے کھل کر اپنے اپنے مؤقف کا اظہار کیا۔

اجلاس کے دوران امریکی مستقل مندوب نے ایران کی داخلی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایرانی عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور ایران میں جاری مظاہروں کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

امریکی مندوب نے کہا کہ ایک خاتون کو سر نہ ڈھانپنے کے الزام میں قتل کیے جانے کا واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران میں جبر اور تشدد کا سلسلہ جاری ہے، جو نہ صرف داخلی بلکہ بین الاقوامی امن کے لیے بھی خطرہ بنتا جا رہا ہے۔

امریکی مندوب نے مزید کہا کہ امریکا محض بیانات نہیں بلکہ عملی اقدامات پر یقین رکھتا ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ واضح کر چکے ہیں کہ خطے میں عدم استحکام کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے ماضی میں حزب اللہ اور حماس جیسی تنظیموں کی معاونت کی، جس کے باعث خطے میں کشیدگی بڑھی۔ امریکی مؤقف کے مطابق ایرانی حکومت کمزور ہو چکی ہے اور اپنی گرفت برقرار رکھنے کے لیے طاقت کا استعمال کر رہی ہے جب کہ لاکھوں ایرانی شہری حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔

دوسری جانب روس کے مستقل مندوب نے امریکی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ملک کے داخلی معاملات میں بیرونی مداخلت ناقابل قبول ہے۔ روسی مندوب نے کہا کہ ایران سمیت کسی بھی خودمختار ریاست کے اندرونی معاملات میں مداخلت خطے کو مزید عدم استحکام سے دوچار کر سکتی ہے اور عالمی طاقتوں کو اس طرز عمل سے گریز کرنا چاہیے۔

پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے متوازن اور اصولی مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک مستحکم اور پرامن ایران کو اپنے قومی مفاد کے عین مطابق سمجھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران پاکستان کا برادر ہمسایہ ملک ہے ۔ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور سفارتی تعلقات موجود ہیں۔

عاصم افتخار نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کا چارٹر طاقت کے استعمال کی مخالفت کرتا ہے ۔ تمام تنازعات کا حل مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے خطے کی مجموعی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایران اور خطے میں ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کرتے ہوئے کہ ایران کہا کہ ہے اور

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار