وزیراعظم نے ماہرین سے ریلویز کےلیے عملی اقدامات کا روڈ میپ مانگ لیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت اسلام آباد میں پاکستان ریلوے کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے اور جاری اصلاحات و ترقیاتی کاموں کے حوالے سے نجی شعبے کے ماہرین کے ساتھ مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس کے موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ معیشت کی مجموعی ترقی، صنعت و تجارت اور دیگر شعبہ جات کی بہتری میں نجی شعبے کے ماہرین سے مشاورت حکومت کے معاشی اصلاحات کا حصہ ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ریلوے قلیل وسائل کے باوجود نہایت تندہی اور محنت سے مؤثر کارکردگی دکھا رہا ہے، جس پر وفاقی وزیر ریلوے اور ان کی پوری ٹیم لائق تحسین ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ریلوے میں ادارہ جاتی اور انتظامی اصلاحات دہائیوں سے ناگزیر تھیں اور ان اصلاحات کے ذریعے ادارے کو مزید منافع بخش بنایا جا سکتا ہے، جو ملکی صنعت و تجارت کے فروغ اور سرمایہ کاروں کی سہولت میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ پاکستان ریلوے تمام متعلقہ اکائیوں اور اداروں سے بامعنی مشاورت کے بعد عملی اقدامات پر مشتمل جامع روڈ میپ اگلے ہفتے پیش کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ریلوے کی معاشی ترقی اور علاقائی تعاون میں اہمیت کے پیش نظر حکومت نے انقلابی اقدامات کا سلسلہ شروع کیا ہے، جن کے اطمینان بخش نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
وزیراعظم نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ریلوے سے متعلق ترقیاتی منصوبوں کے لیے حکومتی فنڈز کی دستیابی کو دہائیوں تک نظر انداز کیا گیا، تاہم اگلے سال کے پی ایس ڈی پی میں ریلوے کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے متناسب بجٹ فراہم کیا جائے گا۔
انہوں نے پاکستان ریلوے کو عالمی معیار کے کمرشل مواصلاتی نظام کا حصہ بنانے کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا اور کہا کہ معیاری ریلوے نظام ملکی آمدنی میں اضافے اور معاشی ترقی میں قابل قدر کردار ادا کر سکتا ہے۔
وزیراعظم نے ریلوے کے ڈھانچے کے منافع بخش کمرشل استعمال کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے امکانات کا بھرپور جائزہ لینے اور پاکستان ریلوے کے منظم نظم و نسق اور کمرشل سطح پر مؤثر استعمال کے لیے جامع اور قابل عمل حکمت عملی جلد مرتب کرنے کی خصوصی ہدایات دیں۔
اجلاس میں شریک نجی شعبے کے ماہرین نے پاکستان ریلوے کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے اور اس کے کمرشل استعمال کے حوالے سے مختلف سفارشات پیش کیں، جن پر وزیراعظم نے اظہار تشکر کیا۔
اجلاس میں وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر، نیشنل کوآرڈینیٹر ایس آئی ایف سی لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) سرفراز احمد، متعلقہ وزارتوں کے سیکریٹریز، دیگر سرکاری عہدیداران اور نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین زید بشیر، پیر سعد احسان الدین اور دیگر نے شرکت کی۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل کہ پاکستان ریلوے وفاقی وزیر کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
سٹی 42: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت سرمایہ کاری میں اضافے، صنعتی ترقی اور معیشت کی بہتری کے حوالے سے اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف شعبوں میں اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر غور کیا گیا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت و حرفت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ صنعتی پیداوار اور برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر اور دیرپا پالیسی اقدامات کو ترجیح دی جائے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
وزیراعظم نے کہا کہ صنعت، تجارت اور معیشت کے مختلف شعبوں میں اصلاحات عوامی فلاح اور طویل المدتی معاشی استحکام پر مرکوز ہونی چاہئیں۔ انہوں نے متبادل توانائی کے ذرائع کے فروغ اور مستقبل کی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے جامع حکمت عملی پر تیزی سے عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے مؤثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ جدید ٹیکنالوجی کو مختلف شعبوں میں متعارف کرانے کے لیے وزارتوں اور ماہرین کے درمیان مؤثر مشاورت یقینی بنائی جائے۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ، وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وزیر توانائی اویس لغاری، وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔