صفائی کے نظام کوبہتر ‘گاڑیوں کی تعدا د بڑھائی جائے‘فرازحسیب
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) چیئر مین لیاقت آباد ٹاؤن فرازحسیب نے ٹاؤن میونسپل کارپوریشن لیاقت آباد کے مر کز ی دفتر میں سندھ سالڈ ویسٹ کے جنرل منیجر حسین اور منیجنگ ڈائریکٹر طارق نظامی کے ہمراہ میٹنگ کا انعقاد کیا۔ جس میں لیاقت آباد ٹاؤن میں کچرے کی بروقت اٹھان، صفائی ستھرائی کے نظام کی بہتری اور درپیش مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اجلاس میں، ڈپٹی ڈائریکٹر سینی ٹیشن طفزل، سینی ٹیشن اعظم ودیگر افسران بھی موجود تھے۔ اجلاس کے دوران چیئرمین لیاقت آباد ٹاؤن فراز حسیب نے علاقے میں صفائی کے موجودہ حالات، کچرے کے ڈھیر، بروقت گاڑیوں کی عدم دستیابی اور بعض مقامات پر صفائی کے ناقص انتظامات کی نشاندہی کی۔چیئرمین فراز حسیب نے سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے حکام پر زور دیا کہ لیاقت آباد جیسے گنجان آباد علاقے میں صفائی کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جائے، کچرا اٹھانے والی گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے اور روزانہ کی بنیاد پر مانیٹرنگ کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو صاف ستھرا ماحول فراہم کیا جا سکے۔سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر طارق نظامی اور جنرل منیجر حسین نے چیئرمین لیاقت آباد ٹاؤن کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ لیاقت آباد میں صفائی کے نظام کو مزید بہتر بنانے کیلیے عملی اقدامات کیے جائیں گے اور نشاندہی کردہ مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: لیاقت ا باد ٹاو ن صفائی کے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔