Jasarat News:
2026-07-24@03:15:06 GMT

با اختیار بلدیاتی اداروں کے انتخابات سے فرار کیوں؟

اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260117-03-2

 

جمہوریت میں بلدیاتی ادارے اساسی حیثیت کے حامل ہوا کرتے ہیں مگر وطن عزیز میں بلدیاتی اداروں کو ہمیشہ آمرانہ ادوار حکمرانی ہی میں اہمیت دی گئی اور آمروں نے اپنے اقتدار کو عوام کے لیے قابل قبول بنانے اور اپنے چہرے کو قدرے جمہوری رنگ دینے کے لیے نہ صرف یہ کہ بلدیاتی اداروں کے انتخابات کروانے پر توجہ دی بلکہ ان اداروں کو زیادہ با اختیار اور خود مختار بھی بنایا اسے بدقسمتی کے علاوہ اور کیا نام دیا جائے کہ جب بھی وفاقی اور صوبائی سطح پر ملک میں نام نہاد جمہوری اور منتخب حکومتیں وجود میں آئی ہیں ان کی ہر ممکن کوشش رہی ہے کہ مقامی حکومتیں وجود میں نہ آ سکیں اور تمام تر اختیارات سینیٹ اور قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ارکان اور وزراء کے ہاتھوں میں مرکوز رہیں چنانچہ اوّل تو ان جمہوری ادوار میں بلدیاتی اداروں کے انتخابات ہی نہیں کروائے جاتے اور اگر بفرض محال مجبوراً انتخابات کروانے پڑ ہی جائیں تو بلدیاتی اداروں اور ان کے منتخب نمائندوں کو ان کے جائز، آئینی و قانونی حقوق اور اختیارات سے حتی المقدور محروم رکھا جاتا ہے، موجودہ حکومتوں کا اپنا چہرہ اگرچہ فارم 47 کی وجہ سے خاصا غیر جمہوری ہے اور خود حکمرانوں کی طرف سے بھی یہ اعتراف کرنے میں کوئی شرمندگی محسوس نہیں کی جاتی کہ موجودہ وفاقی ہو یا صوبائی حکومتیں، یہ جمہوری نہیں بلکہ ’’ہائبرڈ‘‘ ہیں بہرحال اس کے باوجود ان حکومتوں کا طرز عمل بھی ماضی کی منتخب کہلانے والی حکومتوں سے مختلف نہیں ہے کہ انہوں نے بھی نہ تو ابھی تک بلدیاتی اداروں کے انتخابات کروائے ہیں اور نہ ہی مستقبل قریب میں اس پر آمادہ دکھائی دیتی ہیں چنانچہ اس وقت صرف صوبہ سندھ میں بلدیاتی ادارے وجود رکھتے ہیں مگر ان کے انتخابات کے دوران بھی پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت نے جس طرح ہر قسم کی دھونس و دھاندلی کو روا رکھا، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں اور حقیقت یہ ہے کہ اس کے نتیجے میں پیپلز پارٹی کے زیر تسلط بلدیاتی اداروں کا چہرہ بری طرح داغ دار ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مقامی حکومتوں کے انتخابات سے گریز اور پس و پیش کی پالیسی کے پیش نظر چند ماہ قبل الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، پنجاب اور بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں اپنے جاری کردہ نظام الاوقات کے مطابق بلدیاتی انتخابات کروانے کا اعلان کیا تھا مگر متعلقہ حکومتوں نے اپنے طرز عمل سے اس اعلان کو غیر موثر بنا دیا ہے اور اس وقت صورت حال یہ ہے کہ کوئٹہ کے انتخابات بلوچستان کی صوبائی حکومت نے سیاسی وجوہات کی بناء پر مقامی حالات کا جواز پیش کر کے ملتوی کر دیے ہیں۔ وفاقی دارالحکومت کی بناء پر مقامی حالات کا جواز پیش کر کے ملتوی کر دیے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں میٹروپولٹین کارپوریشن کے انتخابی شیڈول کا اعلان بھی کیا گیا تھا جس کے مطابق فروری میں انتخابات ہونا تھے مگر وفاقی کابینہ نے مقامی حکومتوں کے قانون میں چودہ ترامیم کے ساتھ وفاقی دارالحکومت کے لیے ایک نیا بلدیاتی ڈھانچہ تجویز کر دیا ہے جس کے تحت میٹروپولٹین کارپوریشن اسلام آباد کو تین ٹائون کارپوریشنوں میں تقسیم کرنے کی تجویز دی گئی ہے اس وقت وفاقی دارالحکومت قومی اسمبلی کے تین حلقوں میں تقسیم ہے۔ مجوزہ ٹائون کارپوریشنیں قومی اسمبلی کے ایک ایک حلقے پر محیط ہو گی۔ اسی طرح رائے دہندگان کی موجودہ تعداد اور حلقہ بندیوں میں ردو بدل کے ذریعے حلقوں کی تعداد بڑھانے کی بھی تجویز ہے یوں اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات بھی التواء کا شکار ہو چکے ہیں حالانکہ انتخابات کے التوا کے اعلان سے قبل امیدوار کاغذات نامزدگی اور بھاری انتخابی فیس بھی جمع کروا چکے ہیں۔ پنجاب حکومت نے بھی بلدیاتی ایکٹ میں ترامیم اور ایک نیا لولا لنگڑا بلدیاتی نظام صوبے میں متعارف کروا کے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے جاری کردہ انتخابی شیڈول کو غیر موثر کر دیا ہے جس کے تحت پنجاب میں مقامی حکومتوں کے انتخابات دسمبر میں کروانے کی ہدایت کی گئی تھی۔ سیاسی، سماجی اور قانونی حلقوں نے نئے بلدیاتی ایکٹ کو کالا قانون قرار دیا ہے تاہم اس کے خلاف منظم احتجاج اور رد عمل جماعت اسلامی کے سوا کسی دوسری جماعت کی طرف سے سامنے نہیں آیا۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی ہدایات کے مطابق اس بلدیاتی قانون کے خلاف زور دار مہم چلائی جا رہی ہے۔ جماعت نے بلدیاتی ایکٹ کو آئین کی دفعہ 140 الف کے منافی قرار دیتے ہوئے عدالت عالیہ لاہور میں چیلنج کیا ہے، جہاں اس کی سماعت جاری ہے۔ قبل ازیں 21 دسمبر کو صوبے بھر میں تمام ڈویژنل مراکز پر احتجاجی دھرنے دیے گئے جن میں جماعت کے کارکنان کے علاوہ سول سوسائٹی، نوجوانوں اور عوام نے بھی بھر پور شرکت کی اور حکومت کو واضح پیغام دیا گیا کہ عوام اپنے آئینی اور قانونی حقوق سے دستبردار ہونے پر تیار نہیں۔ اب پندرہ جنوری سے پنجاب کے تمام اضلاع میں ’’عوامی ریفرنڈم‘‘ کے نام سے رابطہ عوام مہم کا آغاز کیا گیا ہے اور صرف لاہور میں 1400 ریفرنڈم کیمپ لگائے گئے ہیں امیر جماعت حافظ نعیم الرحمن ذاتی طور پر اس ریفرنڈم کی نگرانی کر رہے ہیں انہوں نے پندرہ جنوری کو ٹائون شپ لاہور کے علاقہ میں کالج روڈ بٹ چوک پر کیمپ کا افتتاح کیا۔ ریفرنڈم کیمپوں میں خواتین و حضرات نے زبردست دلچسپی کا اظہار کیا اور بڑی تعداد میں لوگوں نے اپنی رائے کا اظہار کیا اس مقصد کے لیے کمپیوٹرائزڈ اور آن لائن رائے دہی کا اہتمام بھی کیا گیا ہے جس کے ذریعے لوگ گھر بیٹھ کر اپنی رائے دے رہے ہیں۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چاروں صوبائی حکومتیں عوام کو اختیارات دینے کے لیے راضی نہیں، پاکستان کے دل اور ڈیڑھ کروڑ آبادی کے شہر لاہور کی میٹرو پولٹین حیثیت ختم کی جا رہی ہے، پنجاب بیدار ہو گیا، موثر بلدیاتی نظام کے مطالبے کی لہر پورے ملک میں پھیلے گی، نتائج کی روشنی میں پنجاب اسمبلی کا گھیرائو کیا جائے گا، کالے قانون کی واپسی تک گھیرائو جاری رہے گا۔ اسلام آباد میں بلدیاتی قانون پانچ مرتبہ تبدیل کیا گیا، سینیٹ، قومی و صوبائی اسمبلیوں پر انسانوں کی منڈی لگانے والے حکمرانوں نے چار بار ایکٹ میں تبدیلی کی جو ہمیں منظور نہیں۔ امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ پنجاب کا کالا قانون جمہوریت اور عوام کی توہین ہے، اسے واپس لیا جائے اور بلدیاتی انتخاب کی تاریخ کا اعلان کیا جائے، اس کالے قانون کو کسی صورت تسلیم نہیں کریں گے، جمہوریت کے لیے جدوجہد بھر پور طریقے سے جاری رہے گی۔ جماعت اسلامی کا موقف بڑا واضح اور جاندار ہے کہ پنجاب بلدیاتی ایکٹ 2025ء ایک غیر جمہوری قانون ہے جس کے ذریعے بلدیاتی نمائندوں کے اختیارات سلب کر لیے گئے ہیں اور انہیں بیورو کریسی کے تابع کر دیا گیا ہے۔ حکومت کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ عوام کے مطالبات پر توجہ دے۔ غیر جماعتی بلدیاتی انتخابات سیاسی عمل کو کمزور کریں گے اور ان سے انتخابات کی شفافیت متاثر ہو گی حکومت اگر بلدیاتی اداروں کے قیام میں سنجیدہ ہے تو لازم ہے کہ مقامی حکومتوں کے نمائندوں کو با اختیار بنایا جائے۔ مخصوص نشستوں پر نمائندوں کا انتخاب براہ راست کرایا جائے جب کہ یونین کونسل کے چیئرمینوں اور وائس چیئرمینوں کا انتخاب بھی بلا واسطہ اور خفیہ رائے شماری سے کرایا جائے تاکہ عوام کے مسائل نچلی سطح پر بلدیاتی نمائندوں کے ذریعے حل ہو سکیں۔

اداریہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بلدیاتی اداروں کے انتخابات وفاقی دارالحکومت مقامی حکومتوں کے بلدیاتی ایکٹ جماعت اسلامی صوبائی حکومت میں بلدیاتی اسلام ا باد کے ذریعے ہے جس کے کیا گیا دیا ہے کے لیے

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن