با اختیار بلدیاتی اداروں کے انتخابات سے فرار کیوں؟
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260117-03-2
جمہوریت میں بلدیاتی ادارے اساسی حیثیت کے حامل ہوا کرتے ہیں مگر وطن عزیز میں بلدیاتی اداروں کو ہمیشہ آمرانہ ادوار حکمرانی ہی میں اہمیت دی گئی اور آمروں نے اپنے اقتدار کو عوام کے لیے قابل قبول بنانے اور اپنے چہرے کو قدرے جمہوری رنگ دینے کے لیے نہ صرف یہ کہ بلدیاتی اداروں کے انتخابات کروانے پر توجہ دی بلکہ ان اداروں کو زیادہ با اختیار اور خود مختار بھی بنایا اسے بدقسمتی کے علاوہ اور کیا نام دیا جائے کہ جب بھی وفاقی اور صوبائی سطح پر ملک میں نام نہاد جمہوری اور منتخب حکومتیں وجود میں آئی ہیں ان کی ہر ممکن کوشش رہی ہے کہ مقامی حکومتیں وجود میں نہ آ سکیں اور تمام تر اختیارات سینیٹ اور قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ارکان اور وزراء کے ہاتھوں میں مرکوز رہیں چنانچہ اوّل تو ان جمہوری ادوار میں بلدیاتی اداروں کے انتخابات ہی نہیں کروائے جاتے اور اگر بفرض محال مجبوراً انتخابات کروانے پڑ ہی جائیں تو بلدیاتی اداروں اور ان کے منتخب نمائندوں کو ان کے جائز، آئینی و قانونی حقوق اور اختیارات سے حتی المقدور محروم رکھا جاتا ہے، موجودہ حکومتوں کا اپنا چہرہ اگرچہ فارم 47 کی وجہ سے خاصا غیر جمہوری ہے اور خود حکمرانوں کی طرف سے بھی یہ اعتراف کرنے میں کوئی شرمندگی محسوس نہیں کی جاتی کہ موجودہ وفاقی ہو یا صوبائی حکومتیں، یہ جمہوری نہیں بلکہ ’’ہائبرڈ‘‘ ہیں بہرحال اس کے باوجود ان حکومتوں کا طرز عمل بھی ماضی کی منتخب کہلانے والی حکومتوں سے مختلف نہیں ہے کہ انہوں نے بھی نہ تو ابھی تک بلدیاتی اداروں کے انتخابات کروائے ہیں اور نہ ہی مستقبل قریب میں اس پر آمادہ دکھائی دیتی ہیں چنانچہ اس وقت صرف صوبہ سندھ میں بلدیاتی ادارے وجود رکھتے ہیں مگر ان کے انتخابات کے دوران بھی پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت نے جس طرح ہر قسم کی دھونس و دھاندلی کو روا رکھا، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں اور حقیقت یہ ہے کہ اس کے نتیجے میں پیپلز پارٹی کے زیر تسلط بلدیاتی اداروں کا چہرہ بری طرح داغ دار ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مقامی حکومتوں کے انتخابات سے گریز اور پس و پیش کی پالیسی کے پیش نظر چند ماہ قبل الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، پنجاب اور بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں اپنے جاری کردہ نظام الاوقات کے مطابق بلدیاتی انتخابات کروانے کا اعلان کیا تھا مگر متعلقہ حکومتوں نے اپنے طرز عمل سے اس اعلان کو غیر موثر بنا دیا ہے اور اس وقت صورت حال یہ ہے کہ کوئٹہ کے انتخابات بلوچستان کی صوبائی حکومت نے سیاسی وجوہات کی بناء پر مقامی حالات کا جواز پیش کر کے ملتوی کر دیے ہیں۔ وفاقی دارالحکومت کی بناء پر مقامی حالات کا جواز پیش کر کے ملتوی کر دیے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں میٹروپولٹین کارپوریشن کے انتخابی شیڈول کا اعلان بھی کیا گیا تھا جس کے مطابق فروری میں انتخابات ہونا تھے مگر وفاقی کابینہ نے مقامی حکومتوں کے قانون میں چودہ ترامیم کے ساتھ وفاقی دارالحکومت کے لیے ایک نیا بلدیاتی ڈھانچہ تجویز کر دیا ہے جس کے تحت میٹروپولٹین کارپوریشن اسلام آباد کو تین ٹائون کارپوریشنوں میں تقسیم کرنے کی تجویز دی گئی ہے اس وقت وفاقی دارالحکومت قومی اسمبلی کے تین حلقوں میں تقسیم ہے۔ مجوزہ ٹائون کارپوریشنیں قومی اسمبلی کے ایک ایک حلقے پر محیط ہو گی۔ اسی طرح رائے دہندگان کی موجودہ تعداد اور حلقہ بندیوں میں ردو بدل کے ذریعے حلقوں کی تعداد بڑھانے کی بھی تجویز ہے یوں اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات بھی التواء کا شکار ہو چکے ہیں حالانکہ انتخابات کے التوا کے اعلان سے قبل امیدوار کاغذات نامزدگی اور بھاری انتخابی فیس بھی جمع کروا چکے ہیں۔ پنجاب حکومت نے بھی بلدیاتی ایکٹ میں ترامیم اور ایک نیا لولا لنگڑا بلدیاتی نظام صوبے میں متعارف کروا کے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے جاری کردہ انتخابی شیڈول کو غیر موثر کر دیا ہے جس کے تحت پنجاب میں مقامی حکومتوں کے انتخابات دسمبر میں کروانے کی ہدایت کی گئی تھی۔ سیاسی، سماجی اور قانونی حلقوں نے نئے بلدیاتی ایکٹ کو کالا قانون قرار دیا ہے تاہم اس کے خلاف منظم احتجاج اور رد عمل جماعت اسلامی کے سوا کسی دوسری جماعت کی طرف سے سامنے نہیں آیا۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی ہدایات کے مطابق اس بلدیاتی قانون کے خلاف زور دار مہم چلائی جا رہی ہے۔ جماعت نے بلدیاتی ایکٹ کو آئین کی دفعہ 140 الف کے منافی قرار دیتے ہوئے عدالت عالیہ لاہور میں چیلنج کیا ہے، جہاں اس کی سماعت جاری ہے۔ قبل ازیں 21 دسمبر کو صوبے بھر میں تمام ڈویژنل مراکز پر احتجاجی دھرنے دیے گئے جن میں جماعت کے کارکنان کے علاوہ سول سوسائٹی، نوجوانوں اور عوام نے بھی بھر پور شرکت کی اور حکومت کو واضح پیغام دیا گیا کہ عوام اپنے آئینی اور قانونی حقوق سے دستبردار ہونے پر تیار نہیں۔ اب پندرہ جنوری سے پنجاب کے تمام اضلاع میں ’’عوامی ریفرنڈم‘‘ کے نام سے رابطہ عوام مہم کا آغاز کیا گیا ہے اور صرف لاہور میں 1400 ریفرنڈم کیمپ لگائے گئے ہیں امیر جماعت حافظ نعیم الرحمن ذاتی طور پر اس ریفرنڈم کی نگرانی کر رہے ہیں انہوں نے پندرہ جنوری کو ٹائون شپ لاہور کے علاقہ میں کالج روڈ بٹ چوک پر کیمپ کا افتتاح کیا۔ ریفرنڈم کیمپوں میں خواتین و حضرات نے زبردست دلچسپی کا اظہار کیا اور بڑی تعداد میں لوگوں نے اپنی رائے کا اظہار کیا اس مقصد کے لیے کمپیوٹرائزڈ اور آن لائن رائے دہی کا اہتمام بھی کیا گیا ہے جس کے ذریعے لوگ گھر بیٹھ کر اپنی رائے دے رہے ہیں۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چاروں صوبائی حکومتیں عوام کو اختیارات دینے کے لیے راضی نہیں، پاکستان کے دل اور ڈیڑھ کروڑ آبادی کے شہر لاہور کی میٹرو پولٹین حیثیت ختم کی جا رہی ہے، پنجاب بیدار ہو گیا، موثر بلدیاتی نظام کے مطالبے کی لہر پورے ملک میں پھیلے گی، نتائج کی روشنی میں پنجاب اسمبلی کا گھیرائو کیا جائے گا، کالے قانون کی واپسی تک گھیرائو جاری رہے گا۔ اسلام آباد میں بلدیاتی قانون پانچ مرتبہ تبدیل کیا گیا، سینیٹ، قومی و صوبائی اسمبلیوں پر انسانوں کی منڈی لگانے والے حکمرانوں نے چار بار ایکٹ میں تبدیلی کی جو ہمیں منظور نہیں۔ امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ پنجاب کا کالا قانون جمہوریت اور عوام کی توہین ہے، اسے واپس لیا جائے اور بلدیاتی انتخاب کی تاریخ کا اعلان کیا جائے، اس کالے قانون کو کسی صورت تسلیم نہیں کریں گے، جمہوریت کے لیے جدوجہد بھر پور طریقے سے جاری رہے گی۔ جماعت اسلامی کا موقف بڑا واضح اور جاندار ہے کہ پنجاب بلدیاتی ایکٹ 2025ء ایک غیر جمہوری قانون ہے جس کے ذریعے بلدیاتی نمائندوں کے اختیارات سلب کر لیے گئے ہیں اور انہیں بیورو کریسی کے تابع کر دیا گیا ہے۔ حکومت کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ عوام کے مطالبات پر توجہ دے۔ غیر جماعتی بلدیاتی انتخابات سیاسی عمل کو کمزور کریں گے اور ان سے انتخابات کی شفافیت متاثر ہو گی حکومت اگر بلدیاتی اداروں کے قیام میں سنجیدہ ہے تو لازم ہے کہ مقامی حکومتوں کے نمائندوں کو با اختیار بنایا جائے۔ مخصوص نشستوں پر نمائندوں کا انتخاب براہ راست کرایا جائے جب کہ یونین کونسل کے چیئرمینوں اور وائس چیئرمینوں کا انتخاب بھی بلا واسطہ اور خفیہ رائے شماری سے کرایا جائے تاکہ عوام کے مسائل نچلی سطح پر بلدیاتی نمائندوں کے ذریعے حل ہو سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بلدیاتی اداروں کے انتخابات وفاقی دارالحکومت مقامی حکومتوں کے بلدیاتی ایکٹ جماعت اسلامی صوبائی حکومت میں بلدیاتی اسلام ا باد کے ذریعے ہے جس کے کیا گیا دیا ہے کے لیے
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
اویس کیانی: گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے وفاقی حکومت نے جامع سیکیورٹی پلان کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت مختلف سیکیورٹی اداروں کے ہزاروں اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کیلئے پاک فوج، سول آرمڈ فورسز، پنجاب پولیس، اسلام آباد پولیس، پنجاب رینجرز، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور جی بی اسکاؤٹس کے اہلکار فرائض سرانجام دیں گے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
حکومتی منظوری کے بعد پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 220 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت عمل میں لائی جائے گی۔
سیکیورٹی پلان کے تحت پاک فوج کے 985 جوان، پنجاب پولیس کے 6 ہزار اہلکار، اسلام آباد پولیس کے 1500 اہلکار، پنجاب رینجرز کے 2 ہزار جوان، ایف سی کے ایک ہزار اہلکار جبکہ جی بی اسکاؤٹس کے 1500 اہلکار انتخابی ڈیوٹی انجام دیں گے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
ذرائع کا کہنا ہے کہ حساس پولنگ اسٹیشنز اور اہم مقامات پر خصوصی سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے تاکہ ووٹرز محفوظ ماحول میں اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔