پنجاب کے بلدیاتی قانون پر ریفرنڈم کا دوسرا روز،پولنگ کیمپس پر بھرپور گہما گہمی
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور(نمائندہ جسارت) پنجاب کے بلدیاتی قانون پر جماعت اسلامی کے زیر اہتمام 4 روزہ عوامی ریفرنڈم کے دوسرے روز صوبے بھر میں بڑی تعداد میں عوام نے رائے کا اظہار کیا ، لاہور اور صوبے کے دیگر تمام اضلاع میں قائم کیے گئے ہزاروں پولنگ کیمپس پر مردو خواتین نے دن کے آغاز پر ہی ووٹ ڈالنا شروع کیے اور یہ سلسلہ بغیر وقفے کے جاری رہا۔تفصیلات کے مطابق امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی طرف سے اعلان کردہ پنجاب کے بلدیاتی قانون پر ریفرنڈم کے دوسرے روز بھی عوام کی جانب سے بھرپور جوش اور گہما گہمی سے رائے دہی کا سلسلہ جاری رہا۔ جماعت اسلامی نے شفاف رائے دہی کے لیے تمام اضلاع میں آزاد الیکشن کمیشن تشکیل دیے ہیں۔ بڑی تعداد میں ردعمل کے حصول کے لیے چوکوں ، چوراہوں ، گلیوں ، مارکیٹوں، تعلیمی اداروں اور دیگر عوامی مقامات پر کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔ 4 روزہ ریفرنڈم کے
اختتام پر ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع ہوگا اور نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نتائج کی روشنی میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ تاہم انہوں نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ عوام نے بلدیاتی قانون کو مسترد کیا تو جماعت اسلامی پنجاب اسمبلی کے گھیراؤ کا اعلان کرے گی اور کالے قانون کی واپسی تک گھیراؤ جاری رہے گا۔ حافظ نعیم الرحمن نے اس امر پر بھی اطمینان کا اظہار کیا ہے کہ جمہوریت اور آئین دشمن بلدیاتی قانون کے خلاف پنجاب میں بڑے پیمانے پر بیداری کی لہر ہے اور مؤثر بلدیاتی نظام کے مطالبے کی لہر پورے ملک میں پھیلے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پنجاب کا عوام دشمن قانون واپس لیا جائے اور صوبے میں بلدیاتی انتخاب کی حتمی تاریخ کا اعلان کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے عوام گزشتہ 10 برس سے نچلی سطح پر حق حکمرانی سے محروم ہیں۔ بلدیاتی قانون میں باربار تبدیلی کی گئی ، اسلام آباد میں بلدیاتی قانون 5 مرتبہ تبدیل کیا گیا۔ صوبائی حکومتیں اختیارات پر قابض ہیں ، پنجاب کے علاوہ دیگر صوبوں میں بھی بلدیاتی نظام نہ ہونے کے برابر ہے۔ حکمران خاندان نہیں چاہتے کہ عوام بااختیار ہوں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بلدیاتی قانون جماعت اسلامی پنجاب کے کا اعلان
پڑھیں:
لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
لاہور: بلدیاتی الیکشن کے لیے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی. لاہور میں مجموعی طور پر 433 یونین کونسلز بنائی گئی ہیں۔ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر پنجاب نے لاہورکی یونین کونسل کی حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کردی.فہرست کےمطابق لاہور کو نو ٹاؤن میں تقسیم کیا گیا جس میں راوی ٹاؤن 52، شالیمار میں 72، واہگہ ٹاؤن میں 25 یونین کونسلز قائم کی گئی ہیں۔ماڈل ٹاؤن میں 77، نشتر ٹاؤن میں 40، صدر کینٹ میں 29 یونین کونسل بنائی گئیں، رائے ونڈ سٹی میں 32، لاہور سٹی میں 69 اور علامہ اقبال ٹاؤن میں 37 یونینز بنائی گئیں۔شہری 23 جون تک حلقہ بندیوں پر اعتراضات دائرکرسکتے ہیں. 24 جولائی تک اعتراضات پر فیصلہ سنایا جائےگا. تمام حلقہ بندیوں کی حتمی فہرست 10اگست 2026 کو جاری ہوگی۔