Jasarat News:
2026-06-02@23:53:29 GMT

17 جنوری: تہاڑ جیل، کشمیر اور انسانیت کا سوال

اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260117-03-4

 

میر بابر مشتاق

کشمیر صرف ایک سرزمین نہیں، یہ ایک زخم ہے، ایک درد ہے، جو تاریخ کی ہر دھڑکن کے ساتھ تازہ ہوتا ہے۔ یہ وہ زخم ہے جو 1846 سے 2026 تک، 180 سال کی تاریخ میں کبھی بھی اتنا مظلوم، اتنا بے سہارا محسوس نہیں ہوا۔ آج جب دنیا 5 جنوری کو یومِ حق ِ خودارادیت مناتی ہے، پاکستان، آزاد کشمیر اور دنیا بھر میں ڈائسپورا تقریریں اور ریلیاں کرتے ہیں، کہیں دور تہاڑ جیل دہلی میں تین کشمیری خواتین آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین اور فہمیدہ آٹھ سال سے اپنی زندگی کی سب سے قیمتی برسیاں جیل کی اندھیری کوٹھڑیوں میں گزار رہی ہیں۔ یہ صرف تین عورتوں کی سزا نہیں، یہ پوری کشمیری قوم کی سزا، اور عالمی انصاف کی ناکامی کی علامت ہے۔ یہ وہ دن ہے جب تاریخ کا فیصلہ نہ صرف کشمیر، بلکہ عورت، انصاف، اور انسانیت کے حق میں یا اس کے خلاف ہوگا۔

دنیا جس بھارت کو سب سے بڑی جمہوریت کہہ کر سراہتی ہے، وہ آج اپنے مکروہ اور منافق چہرے سے دنیا کو بے نقاب کر رہا ہے۔ آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین اور فہمیدہ تین اعلیٰ تعلیم یافتہ، گھر کی بیٹیاں، ماں اور سماجی رہنما اب آٹھ سال سے تہاڑ جیل میں قید ہیں۔ ان پر UAPA اور IPC کے تحت مقدمات چلائے گئے، اور 14 جنوری 2026 کو انہیں مجرم قرار دیا گیا۔ یہ قوانین دہشت گردی کے نام پر انسانیت کو کچلنے کے ہتھیار ہیں، جو کشمیریوں کی آواز کو دبا کر دنیا کو دکھانا چاہتے ہیں کہ یہاں ’’امن‘‘ ہے۔ فہمیدہ، جب گرفتار ہوئی، صرف دسویں جماعت کی طالبہ تھی۔ آج وہ اپنی جوانی، تعلیم اور خوشی جیل کی دیواروں میں قربان کر چکی ہے۔ یہ بھارت کی اصل جمہوریت ہے: عورت پر ظلم۔ حق پر جبر۔ قانون کو جبر کا ہتھیار بنا دینا۔ آواز کو دہشت گردی قرار دینا۔

یہ سب صرف اس لیے کہ کشمیری خاموش رہیں، اور دنیا بس دیکھتی رہے۔ یہ ایک زندہ شکنجہ ہے، ایک مظلوم قوم کی چیخ ہے جو دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہے۔ پاکستان، جو کشمیر کا وارث اور مدعی ہے، آخر کب تک صرف بیانات، تقریریں اور قراردادیں پر اکتفا کرے گا؟ آج بھی پاکستان کی حکومتیں کشمیر کو تقریر میں زندہ رکھتی ہیں، لیکن عملی دباؤ، سفارتی طاقت، اور عالمی فورمز میں آواز بلند کرنا کہیں غائب ہے۔ یہ تین کشمیری خواتین نہ صرف بھارت کے ظلم کا سامنا کر رہی ہیں، بلکہ پاکستان کی خاموشی اور کمزوری بھی ان کی قید کا حصہ بن گئی ہے۔ وارث اگر کمزور پڑ جائے، تو ظالم مضبوط ہو جاتا ہے۔ اور بھارت آج مضبوط ہے، کیونکہ پاکستان کی آواز مصلحت، ڈھکوسلہ اور رسمی بیانات سے آگے نہیں بڑھتی۔ اگر پاکستان نے اب تک بھارت کے خلاف مؤثر عالمی دباؤ نہیں بنایا، اگر اقوامِ متحدہ میں کشمیری حق خودارادیت کی آواز نہیں بلند کی، تو یہ صرف کشمیری عوام کے لیے دھچکا نہیں، بلکہ پورے خطے کے امن اور انسانی اقدار کے لیے خطرہ ہے۔

17 جنوری 2026 صرف تین خواتین کی سزا کا دن نہیں، یہ بھارت کی جمہوریت، عالمی انسانی حقوق اور پاکستانی ضمیر کا امتحان ہے۔ اس دن بھارت یا تو یہ ثابت کرے گا کہ وہ جمہوریت کا علمبردار ہے، یا یہ دکھائے گا کہ جبر اور مکاری اس کی سیاست کا اصل چہرہ ہیں۔ پاکستان یا تو اپنی سیاسی اور اخلاقی ذمے داری نبھائے گا، یا یہ واضح کرے گا کہ صرف بیانات سے کچھ نہیں ہوتا، اور کشمیری قوم کی قربانی ردی کی ٹوکری میں ہے۔ یہ دن تاریخ میں درج ہوگا: یا ظلم جیتے گا۔ یا حق کی آواز کو کوئی نہیں روک سکتا۔ یہ دن ثابت کرے گا کہ دنیا کی جمہوریتیں، انسانی حقوق کے دعوے، اور اقوامِ متحدہ کی مبہم پالیسیاں حقیقی معنوں میں کتنی بے اثر ہیں۔ آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین اور فہمیدہ صرف قیدی نہیں، یہ کشمیری عورتوں کی نمائندگی کرتی ہیں، ان کے حوصلے، قربانی اور انسانی شناخت کی۔ یہ عورتیں ہتھیار نہیں اٹھائیں، بلکہ شعور، تعلیم، اور انسانی حقوق کے علمبردار کے طور پر کھڑی ہوئیں۔ بھارت کو اسی شعور سے ڈر لگتا ہے۔ یہ عورتیں جیل کی اندھیری دیواروں میں زندہ ہیں، مگر ان کی قربانی پوری کشمیری قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہے۔ یہ دن ثابت کرے گا کہ عورت کا حق، انسانی شعور اور تعلیم کا ہتھیار کتنا طاقتور ہو سکتا ہے۔

17 جنوری کو دنیا یہ دیکھے گی کہ اقوامِ متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور عالمی برادری صرف بیانات تک محدود رہیں گی یا عملی دباؤ ڈالیں گی۔ نیلسن منڈیلا رولز کے مطابق، انہیں سری نگر جیل میں رکھا جا سکتا تھا، جہاں خاندان سے ملاقات، علاج اور انسانی زندگی کے کچھ حقوق موجود ہوتے۔ لیکن بھارت نے سب کچھ چھین لیا۔ یہ ظلم صرف بھارت کا نہیں، یہ عالمی برادری کی خاموشی اور پاکستان کی کمزوری کا بھی نتیجہ ہے۔ اگر دنیا نے اب تک کشمیری عوام کی چیخوں کو نظر انداز کیا، تو یہ ایک ایسا سبق ہے کہ مظلوم کی آواز کو دبانے کی قیمت تاریخ میں ہمیشہ ادا کی جاتی ہے۔

77 سال میں حق خودارادیت کے دن آئے، گئے، لیکن آج بھی تین کشمیری عورتیں خاموش قید میں ہیں۔ یہ عورتیں ہماری بہنیں، بیٹیاں، کشمیر کی حقیقی قربانی کی علامت ہیں۔ 17 جنوری ان کی زندگی کا فیصلہ کرے گا، کشمیر کی تاریخ کا فیصلہ کرے گا، اور عالمی انسانی ضمیر کا امتحان لے گا۔ یہ دن صرف ایک سیاسی یا قانونی واقعہ نہیں، یہ انسانی ہمدردی، عورت کی عزت، اور انصاف کی طاقت کا امتحان ہے۔ 17 جنوری 2026 صرف تین خواتین کی زندگی کا فیصلہ نہیں کرے گا، یہ بھارت کی جمہوریت، پاکستان کی ذمے داری اور عالمی ضمیر کا امتحان ہوگا۔ کشمیر سوال کر رہا ہے، تہاڑ جیل کی دیواریں جواب دے رہی ہیں اور ہم سب پر بھاری ذمے داری ہے کہ خاموش نہ رہیں۔ اگر آج ہم خاموش رہیں، تو کل تاریخ یہی لکھے گی: کشمیر جلتا رہا، عورتیں قید رہیں، اور دنیا دیکھتی رہی۔ 17 جنوری، 2026، ظلم اور انصاف، خاموشی اور آواز، مکاری اور حوصلے کا فیصلہ کرے گا۔ یہ دن ثابت کرے گا کہ انسانیت زندہ ہے یا صرف زبانی دعوے۔ یہ دن یاد دلائے گا کہ عالمی برادری کی بے عملی، پاکستان کی کمزوری، اور بھارت کی جبر پر مبنی پالیسیاں کس طرح ایک قوم کی روح کو جکڑ سکتی ہیں۔

 

میر بابر مشتاق.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ثابت کرے گا کہ پاکستان کی اور انسانی اور عالمی کا امتحان کا فیصلہ بھارت کی تہاڑ جیل کی ا واز ا واز کو قوم کی جیل کی

پڑھیں:

ناتمام (آخری قسط)

ہارون صاحب کی کتاب ’’ناتمام‘‘ میں کچھ غیر معمولی شخصیات کے بارے میں لکھی گئی تحریریں بے حد دلنشین ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں ’’کبھی کبھی یہ طالب علم سوچتا ہے سیدنا علی بن عثمان ہجویریؒ کے بعد شاید اقبالؔ ہی وہ مفکر تھے، جنھوں نے امت کے ادبار پر دل سوزی کے ساتھ پیہم تدبر کیا، جس برصغیر میں وہ پیدا ہوئے تھے، اسے الوداع کہا تو وہ بدل چکا تھا، مسلم برصغیر کو امید اور امکان کی راہ دکھانے میں ان کا حصہ کسی بھی شخص سے زیادہ تھا، یہ اقبالؔ ہی تھے، جنھوں نے کہا تھا: جہاں کہیںجہاں میں روشنی ہے، مصطفیؐ کے طفیل ہے یا مصطفی ؐ کی تلاش میں! ۔۔۔۔‘‘

’’سیّد ابوالاعلیٰ نے آخری دنوں میں اقبالؔ سے فیض پایا۔ ان کی وفات پر اپنے مضمون ’’اقبالؔ، میرا نفسیاتی سہارا‘‘ میں لکھا ’قرآنِ کریم ان کے لیے ایک شاہ کلید تھا، تمام بند دروازے جس سے کھل جاتے‘آج کل کے دانشور کیا ہیں کہ مغرب کی چکاچوند نے جنھیں اندھا کردیا، جو یہ نہیں سمجھتے کہ ترقی، علم اور ارتقا، تقلید میں نہیں ہوتا، جہاں جو چیز اچھی ہے، وہ لے لی جاتی ہے اور جو ناقص ہو، وہ ترک کردینی چاہیے اور یہ عالمانِ دین ہیں کہ اکیسویں صدی میں قبائلی عہد میں زندہ رہنے پر مصر ہیں، جنھیں سرکارؐ کا پڑھایا ہوا اولین سبق ہی یاد نہیں۔ غوروفکر، حسنِ کلام، حکمت اور دلیل کے ساتھ مکالمہ، دردمندی اور دل سوزی کے ساتھ تفکّر اور تدبّر درکار ہے۔‘‘

مصنّف قائد اور اقبالؒ کا پھر ایک کالم میں ذکر کرتے ہیں ’’یہ قوم اپنے دو عظیم رہنماؤں کو بھول گئی۔ جناح ایسے تھے کہ عمر بھر تین باتوں کا طعنہ انھیں کبھی نہ دیا گیا۔ کبھی وعدہ نہ توڑا، کبھی مالی بے قاعدگی نہیں، کبھی جھوٹ نہ بولا۔ اقبالؔ ایسے کہ تمام فکری تعصبات سے اوپر اٹھ کر سوچ بچار کیا اور پیہم کیا، تمام خلوص، تمام صلابتِ کردار۔۔ نہیں، فقط سیاست سے ہماری زندگی نہیں بدلے گی، تعلیم، غوروفکر اور حسنِ کردار۔ حضورؐ نے ارشاد فرمایا تھا: اللہ جسے ہدایت دینا چاہے، اپنی آنکھ اس پر کھول دیتا ہے۔ دوسروں کے عیب چننے سے نہیں، حیات اپنی اصلاح سے ثمر بار ہوتی ہے۔‘‘ مصنّف نے کیا دلپذیر باتیں لکھی ہیں جو ہرشعبۂ حیات کے لیڈر کو پڑھنی چاہئیں۔

 ناتمام میں مصنف نے بھٹوصاحب کا بھی تجزیہ کیا ہے، لکھتے ہیں ’’بھٹو حیرت انگیز خامیوں اور خوبیوں کا مجموعہ تھے۔ 1965کی جنگ کے ہنگام وہ ایک قوم پرست بن کر ابھرے، جب بھارت کے خلاف ہزار سالہ جنگ کا انھوں نے نعرہ لگایا، غریب آدمی کے احساسات کا انھوں نے ادراک کیا، سندھ اور پنجاب میں وہ ایک مقبول رہنما بن کر ابھرے مگر 1970 کے انتخابی نتائج کو عملاً انھوں نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ شیخ مجیب الرحمٰن کو واضح اکثریت حاصل ہوئی تو جنرل یحییٰ سے انھوں نے گٹھ جوڑ کرلیا اور انتقالِ اقتدار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے، ان دو آدمیوں کی ہوسِ اقتدار نے پاکستان کے دولخت ہونے کی بنیاد فراہم کی۔‘‘

پھر لکھتے ہیں ’’ایک راز بھٹو نے پالیا تھا۔ لیڈر وہ شخص ہوتا ہے، جو کسی قوم کی عمیق ترین، سب سے بنیادی اور سب سے بڑی آرزو کو پوری طرح پہچان لے۔ جنگِ ستمبر تک، وہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے درباری تھے، کبھی اسے صلاح الدین قرار دیتے اور کبھی ایشیا کا ڈیگال۔ جنگِ ستمبر میں پہلی بار دلوں میں یہ امید جاگی کہ کشمیر پہ دشمن بھارت کا تسلّط تمام ہوسکتا ہے، بھٹو نے اس نجیب آرزو کو پہچانا اور اس کا مظہر بن گئے، اقوامِ متحدہ میں جاری مباحث کے دوران، جن کا ایک ایک لفظ غور سے پڑھا اور سنا جایا کرتا، بھٹو نے بھارت کے ’’میسنے‘‘ وزیرِ خارجہ سردار سورن سنگھ کو مخاطب کرکے کہا: لڑنا پڑا تو کشمیر کے لیے ایک ہزار برس تک بھی ہم لڑیں گے، تبھی وہ ہیرو بن کر ابھرے۔ ہاں! مگر ان کا کوئی عقیدہ نہ تھا، قوم پرست وہ یقیناً تھے اور بے شک انھوں نے پہلی بار Anti Estabhishment پارٹی تشکیل دی مگر خود پسند، اقتدار کے حریص اور نرگسیت کے مارے۔ باقی سب تاریخ ہے"

پاکستانی سیاست کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’ پاکستانی سیاست اور معاشرے کا مرض یہ ہے کہ سائنسی اندازِ فکر سے وہ محروم ہے۔ تعصّبات اور جذبات کا غلبہ اس قدر ہے کہ کبھی نفرت چھا جاتی ہے اور کبھی محبت۔ بھٹو صاحب کے مداحوں سے عرض کیجیے کہ بے شک مقبول وہ بہت تھے۔

بجا کہ ملک کو انھوں نے دستور عطا کیا، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، جذباتی توازن سے مگر وہ محروم تھے اور پرلے درجے کے انتقام پسند۔ دوسروں کا تو ذکر ہی کیا، اپنی پارٹی کے سیکریٹری جنرل جے رحیم کو پٹوایا۔ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رکنِ اسمبلی ملک سلیمان اور ان کے خاندان کی تذلیل کی، اپنے وزیرِ اعلیٰ حنیف رامے کو شاہی قلعے میں قید رکھا۔ پارٹی کے ایک دوسرے لیڈر احمد رضا قصوری پر قاتلانہ حملے میں ان کے والد مارے گئے۔ کوئی نہیں سنتا، کوئی نہیں مانتا۔‘‘

کتاب کے مصنّف، عمران خان کے سب سے بڑے سپورٹر تھے اور شاید اب بھی ہیں مگر اس کتاب میں انھوں نے اس کی خامیاں بھی چھپانے کی کوشش نہیں کی، لکھتے ہیں ’’لاہور میں موسم بہار کی ایک سویر جب میں زمان پارک میں اسے ملنے گیا تو وہ ورزش میں مصروف تھا۔ کچھ دیر کے بعد وہ نمودار ہوا اور ضرورت سے زیادہ پُراعتماد لہجے میں کہا’’اپنے جسم پر بھی آدمی کو سرمایہ کاری کرنی چاہیے‘‘ ۔ ’’جی ہاں‘‘۔ عرض کیا ’’اپنے ذہن پر بھی‘‘۔ اسے دھچکا لگا ’’تمہارا مطلب یہ ہے کہ میں نے ذہن پہ سرمایہ کاری نہیں کی‘‘۔ ہاں! میں نے جواب دیا ’’میرا مطلب یہی ہے‘‘۔ بدمزہ نہیں، وہ کچھ حیران سا ہوا اور ناشتے میں جُت گیا، پھل، دہی، ڈبل روٹی کے دو ٹکڑے اور بہت سا جوس۔ مجال ہے کہ ایسے میں دوسروں کو وہ دعوت دے‘‘۔

 پھر لکھتے ہیں ’’عمران خان اپنی پہاڑ سی غلطیوں کو بھلا کر ظفرمندی کے خواب کا اسیر تھا، 11 مئی کی صبح احسن رشید سے کہا کہ انتخابی نتائج سنتے ہی شوکت خانم اسپتال آجانا کہ جشن منایا جاسکے۔ اپنے بچوں سے لندن میں کہہ آیا تھا کہ اگلی بار وزیراعظم کی حیثیت سے برطانیہ آئے گا۔ نتیجہ نکلا تو صرف اس کی نہیں، پارٹی کے تمام بزر جمہروں کی رائے یہ تھی کہ قبول کرلینا چاہیے۔

الجھے ہوئے ذہن کے ساتھ کئی ماہ وہ مخمصے کا شکار رہا، پارٹی کو ان دنوں دو تین گھنٹے سے زیادہ وقت نہ دیا کرتا۔ شاطروں نے سمجھ لیا کہ اسے الّو بنانے میں کامیاب رہے‘‘۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں ’’ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ دس حلقے کھولنے کی شرط کے ساتھ مفاہمت پہ آمادگی کے بعد تحریکِ انصاف کے سربراہ وزیراعظم کے استعفیٰ کی تاریخیں کیوں دینے لگے؟ نوبت پھر تھرڈ امپائر کی انگلی تک پہنچی، بلا استثنیٰ سبھی کا تاثر یہ تھا کہ کپتان کا اشارہ عسکری قیادت کی طرف ہے۔ کئی دن بعد کپتان نے اعلان کیا کہ ان کی مراد اللہ تعالیٰ سے تھی۔ اللہ تعالیٰ امپائر نہیں، وہ کائنات اور زندگی کا خالق ہے۔ حیات کی تمام حرکیات اور قوانین کا، وہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ ذاتِ باری تعالیٰ کو کرکٹ کے امپائر سے تشبیہہ دینا پرلے درجے کی بدذوقی اور سطحیت تھی۔ کپتان اگر انھی لوگوں کے زیرِ اثر رہا، جن کے زیرِ اثر ہے تو مستقبل میں بھی اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے‘‘۔

کچھ دوسرے لیڈروں کے بارے میں لکھتے ہیں ’’چوہدری نثار علی میں صلاحیّت بے پایاں تھی مگر روحانی جہت معمولی۔ کھٹ سے اللہ کی رحمت کا دروازہ کھلتا مگر بن مانگے تو گاہے وہ گھاس بھی نہیں دیتا، چہ جائیکہ عظمت ورفعت۔ یوں بھی عظمت غریبوں، دکھ جھیلنے اور ایثار کرنے والوں کے لیے ہوتی ہے۔ چوہدری کہاں، شریف برادران کہاں، ان کے مقاصد محدود ہیں۔ اقتدار کا انبساط، جو دنیا کا سب سے تباہ کن نشہ ہے، جان چھوڑتا ہی نہیں، عزتِ نفس اور شان وشوکت کا ایک سطحی سا تصور۔عمران خان سمیت سبھی کا حال پتلا ہے۔ پانی پت کی تیسری جنگ لڑنے جاتے ہیں اور لشکر سراج الدولہ سے بدتر۔ رہے علّامہ طاہرالقادری تو جرأت ہی نہیں، جسارت ہی نہیں، فقط زورِ خطابت۔ کوئی دن میں غبارہ پھٹ جائے گا‘‘۔

’’اچھی حکمرانی کی بے تاب تمنا بھی بجا۔ بحث بہت ہوچکی۔ سیاست کے قرینوں سے اب ہم آگاہ ہیں مگراس کے لیے سیاست کافی نہیں زندگی جوڑ توڑ سے بہت بڑی ہے۔ علم اور اخلاق کے بغیر معاشرے، اقوام نہیں، ریوڑ ہوتے ہیں۔ علم، اخلاق اور تربیت۔ قرآن کریم اور اس کا صاحب انوار شارع۔۔ اور ہاں جدید علم!‘‘

ہر طبقۂ فکر کے لوگوں خصوصاً سیاست میں دلچسپی رکھنے والوں کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی