17 جنوری: تہاڑ جیل، کشمیر اور انسانیت کا سوال
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260117-03-4
میر بابر مشتاق
کشمیر صرف ایک سرزمین نہیں، یہ ایک زخم ہے، ایک درد ہے، جو تاریخ کی ہر دھڑکن کے ساتھ تازہ ہوتا ہے۔ یہ وہ زخم ہے جو 1846 سے 2026 تک، 180 سال کی تاریخ میں کبھی بھی اتنا مظلوم، اتنا بے سہارا محسوس نہیں ہوا۔ آج جب دنیا 5 جنوری کو یومِ حق ِ خودارادیت مناتی ہے، پاکستان، آزاد کشمیر اور دنیا بھر میں ڈائسپورا تقریریں اور ریلیاں کرتے ہیں، کہیں دور تہاڑ جیل دہلی میں تین کشمیری خواتین آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین اور فہمیدہ آٹھ سال سے اپنی زندگی کی سب سے قیمتی برسیاں جیل کی اندھیری کوٹھڑیوں میں گزار رہی ہیں۔ یہ صرف تین عورتوں کی سزا نہیں، یہ پوری کشمیری قوم کی سزا، اور عالمی انصاف کی ناکامی کی علامت ہے۔ یہ وہ دن ہے جب تاریخ کا فیصلہ نہ صرف کشمیر، بلکہ عورت، انصاف، اور انسانیت کے حق میں یا اس کے خلاف ہوگا۔
دنیا جس بھارت کو سب سے بڑی جمہوریت کہہ کر سراہتی ہے، وہ آج اپنے مکروہ اور منافق چہرے سے دنیا کو بے نقاب کر رہا ہے۔ آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین اور فہمیدہ تین اعلیٰ تعلیم یافتہ، گھر کی بیٹیاں، ماں اور سماجی رہنما اب آٹھ سال سے تہاڑ جیل میں قید ہیں۔ ان پر UAPA اور IPC کے تحت مقدمات چلائے گئے، اور 14 جنوری 2026 کو انہیں مجرم قرار دیا گیا۔ یہ قوانین دہشت گردی کے نام پر انسانیت کو کچلنے کے ہتھیار ہیں، جو کشمیریوں کی آواز کو دبا کر دنیا کو دکھانا چاہتے ہیں کہ یہاں ’’امن‘‘ ہے۔ فہمیدہ، جب گرفتار ہوئی، صرف دسویں جماعت کی طالبہ تھی۔ آج وہ اپنی جوانی، تعلیم اور خوشی جیل کی دیواروں میں قربان کر چکی ہے۔ یہ بھارت کی اصل جمہوریت ہے: عورت پر ظلم۔ حق پر جبر۔ قانون کو جبر کا ہتھیار بنا دینا۔ آواز کو دہشت گردی قرار دینا۔
یہ سب صرف اس لیے کہ کشمیری خاموش رہیں، اور دنیا بس دیکھتی رہے۔ یہ ایک زندہ شکنجہ ہے، ایک مظلوم قوم کی چیخ ہے جو دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہے۔ پاکستان، جو کشمیر کا وارث اور مدعی ہے، آخر کب تک صرف بیانات، تقریریں اور قراردادیں پر اکتفا کرے گا؟ آج بھی پاکستان کی حکومتیں کشمیر کو تقریر میں زندہ رکھتی ہیں، لیکن عملی دباؤ، سفارتی طاقت، اور عالمی فورمز میں آواز بلند کرنا کہیں غائب ہے۔ یہ تین کشمیری خواتین نہ صرف بھارت کے ظلم کا سامنا کر رہی ہیں، بلکہ پاکستان کی خاموشی اور کمزوری بھی ان کی قید کا حصہ بن گئی ہے۔ وارث اگر کمزور پڑ جائے، تو ظالم مضبوط ہو جاتا ہے۔ اور بھارت آج مضبوط ہے، کیونکہ پاکستان کی آواز مصلحت، ڈھکوسلہ اور رسمی بیانات سے آگے نہیں بڑھتی۔ اگر پاکستان نے اب تک بھارت کے خلاف مؤثر عالمی دباؤ نہیں بنایا، اگر اقوامِ متحدہ میں کشمیری حق خودارادیت کی آواز نہیں بلند کی، تو یہ صرف کشمیری عوام کے لیے دھچکا نہیں، بلکہ پورے خطے کے امن اور انسانی اقدار کے لیے خطرہ ہے۔
17 جنوری 2026 صرف تین خواتین کی سزا کا دن نہیں، یہ بھارت کی جمہوریت، عالمی انسانی حقوق اور پاکستانی ضمیر کا امتحان ہے۔ اس دن بھارت یا تو یہ ثابت کرے گا کہ وہ جمہوریت کا علمبردار ہے، یا یہ دکھائے گا کہ جبر اور مکاری اس کی سیاست کا اصل چہرہ ہیں۔ پاکستان یا تو اپنی سیاسی اور اخلاقی ذمے داری نبھائے گا، یا یہ واضح کرے گا کہ صرف بیانات سے کچھ نہیں ہوتا، اور کشمیری قوم کی قربانی ردی کی ٹوکری میں ہے۔ یہ دن تاریخ میں درج ہوگا: یا ظلم جیتے گا۔ یا حق کی آواز کو کوئی نہیں روک سکتا۔ یہ دن ثابت کرے گا کہ دنیا کی جمہوریتیں، انسانی حقوق کے دعوے، اور اقوامِ متحدہ کی مبہم پالیسیاں حقیقی معنوں میں کتنی بے اثر ہیں۔ آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین اور فہمیدہ صرف قیدی نہیں، یہ کشمیری عورتوں کی نمائندگی کرتی ہیں، ان کے حوصلے، قربانی اور انسانی شناخت کی۔ یہ عورتیں ہتھیار نہیں اٹھائیں، بلکہ شعور، تعلیم، اور انسانی حقوق کے علمبردار کے طور پر کھڑی ہوئیں۔ بھارت کو اسی شعور سے ڈر لگتا ہے۔ یہ عورتیں جیل کی اندھیری دیواروں میں زندہ ہیں، مگر ان کی قربانی پوری کشمیری قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہے۔ یہ دن ثابت کرے گا کہ عورت کا حق، انسانی شعور اور تعلیم کا ہتھیار کتنا طاقتور ہو سکتا ہے۔
17 جنوری کو دنیا یہ دیکھے گی کہ اقوامِ متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور عالمی برادری صرف بیانات تک محدود رہیں گی یا عملی دباؤ ڈالیں گی۔ نیلسن منڈیلا رولز کے مطابق، انہیں سری نگر جیل میں رکھا جا سکتا تھا، جہاں خاندان سے ملاقات، علاج اور انسانی زندگی کے کچھ حقوق موجود ہوتے۔ لیکن بھارت نے سب کچھ چھین لیا۔ یہ ظلم صرف بھارت کا نہیں، یہ عالمی برادری کی خاموشی اور پاکستان کی کمزوری کا بھی نتیجہ ہے۔ اگر دنیا نے اب تک کشمیری عوام کی چیخوں کو نظر انداز کیا، تو یہ ایک ایسا سبق ہے کہ مظلوم کی آواز کو دبانے کی قیمت تاریخ میں ہمیشہ ادا کی جاتی ہے۔
77 سال میں حق خودارادیت کے دن آئے، گئے، لیکن آج بھی تین کشمیری عورتیں خاموش قید میں ہیں۔ یہ عورتیں ہماری بہنیں، بیٹیاں، کشمیر کی حقیقی قربانی کی علامت ہیں۔ 17 جنوری ان کی زندگی کا فیصلہ کرے گا، کشمیر کی تاریخ کا فیصلہ کرے گا، اور عالمی انسانی ضمیر کا امتحان لے گا۔ یہ دن صرف ایک سیاسی یا قانونی واقعہ نہیں، یہ انسانی ہمدردی، عورت کی عزت، اور انصاف کی طاقت کا امتحان ہے۔ 17 جنوری 2026 صرف تین خواتین کی زندگی کا فیصلہ نہیں کرے گا، یہ بھارت کی جمہوریت، پاکستان کی ذمے داری اور عالمی ضمیر کا امتحان ہوگا۔ کشمیر سوال کر رہا ہے، تہاڑ جیل کی دیواریں جواب دے رہی ہیں اور ہم سب پر بھاری ذمے داری ہے کہ خاموش نہ رہیں۔ اگر آج ہم خاموش رہیں، تو کل تاریخ یہی لکھے گی: کشمیر جلتا رہا، عورتیں قید رہیں، اور دنیا دیکھتی رہی۔ 17 جنوری، 2026، ظلم اور انصاف، خاموشی اور آواز، مکاری اور حوصلے کا فیصلہ کرے گا۔ یہ دن ثابت کرے گا کہ انسانیت زندہ ہے یا صرف زبانی دعوے۔ یہ دن یاد دلائے گا کہ عالمی برادری کی بے عملی، پاکستان کی کمزوری، اور بھارت کی جبر پر مبنی پالیسیاں کس طرح ایک قوم کی روح کو جکڑ سکتی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ثابت کرے گا کہ پاکستان کی اور انسانی اور عالمی کا امتحان کا فیصلہ بھارت کی تہاڑ جیل کی ا واز ا واز کو قوم کی جیل کی
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم