حکومت ایس ایم ایز کے قرض میں بطور گارنٹر شامل ہو‘ پیاف
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (کامرس ڈیسک) پاکستان انڈسٹری اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن فرنٹ (پیاف ) کے پیٹرن انچیف میاں سہیل نثار ،چیئرمین سید محمود غزنوی، سینئر وائس چیئرمین مدثر مسعود چوہدری اور وائس چیئرمین راجہ وسیم حسن نے کہا ہے کہ کئی ممالک اپنی ایس ایم ایز کو ویلیو ایڈیشن کے ذریعے مضبوط بنا کر پاکستان کے مجموعی برآمدی حجم سے کہیں زیادہ برآمدات کر رہے ہیں، ہمارے ایک ہمسایہ ملک کی ایس ایم ایز کی گزشتہ مالی سال کی برآمدات 150ارب ڈالر رہیں جبکہ ہم مجموعی طورپر35سے40ارب ڈالر کے اردگرد چکر لگا رہے ہیں،اگر اس سیکٹر کو مکمل حکومتی سرپرستی ، توانائی کی قیمتوںاور ٹیکسز میں ریلیف اور جدید ٹیکنالوجی سے روشناس کرایا جائے تو اسے چند سالوں میں 40 سے 60ارب ڈالر تک پہنچایاجا سکتا ہے۔ اپنے مشترکہ بیان میں انہوںنے کہا کہ تجویز ہے بینکنگ سیکٹر قرضوںکے اجراء میں نصف سے زیادہ ایس ایم ایز کے لیے مختص کرے اور حکومت مارک اپ کی ادائیگی میں تعاون کرے تاکہ پیداواری لاگت کم ہو۔ ایس ایم ایز نہ صرف ملکی ضروریات پوری کرتی ہیں جس سے درآمدی بل کم ہوتا ہے بلکہ یہ شعبہ بڑے پیمانے پر روزگار کی فراہمی کا بھی ذریعہ ہے ،اگر حکومت اسے ویلیو ایڈیشن کی طرف منتقل کرنے میں معاونت کرے تو ہماری برآمدات بھی بڑھ سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایم ایز میں دستاویزات کمزور اورضمانت محدود ہوتی اور وصولی غیر یقینی ہوتی ہے، اس لیے بینکنگ اس سیکٹر کو قرضے دینے میں دلچسپی نہیں لیتے اس لیے حکومت آگے بڑھے اور ایسی پالیسی لائی جائے جس میں حکومت ایس ایم ایز کے قرض میں بطور گارنٹر شامل ہو ،اصلاحات کے بغیر ایس ایم ای فنانس کریڈٹ سسٹم میں محدود رہے گا،اگر پالیسی ساز واقعی استحکام کو پائیدار ترقی میں تبدیل کرنے کے سنجیدہ ہیں تو ایس ایم ایز سیکٹر صرف تقریری ترجیح نہیں ہونا چاہیے بلکہ عملی اقدامات اٹھانا ہوں گے، انہیں ادارہ جاتی ترجیح بننا ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایس ایم ایز
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔