پی ایس ایل 11 کا 26 مارچ سے آغاز، فرنچائزز کو اوپن آکشن فارمولہ اپنانے کی تجویز
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے فرنچائزز کو اوپن آکشن فارمولہ اپنانے کی تجویز دے دی، اس حوالے سے گورننگ کونسل میٹنگ میں ہفتے کو بھی بات چیت ہوگی،ارکان نے 11 ویں ایڈیشن کا 26 مارچ کو ہی آغاز کرنے پر اتفاق کر لیا، ریٹینشن سمیت اہم امور پر بھی تبادلہ خیال جاری رہے گا۔
تفصیلات کے مطابق پی ایس ایل گورننگ کونسل کا اجلاس گزشتہ دنوں منعقد ہوا،دونوں نئی ٹیموں کے مالکان بھی شریک ہوئے، ذرائع کے مطابق ارکان نے 11 ویں ایڈیشن کا 26 مارچ کو ہی آغاز کرنے پر اتفاق کر لیا، اس سے قبل23 تاریخ کو افتتاح کی تجویز سامنے آئی تھی۔
میٹنگ میں سب سے اہم معاملہ ڈرافٹ یا آکشن کے حوالے سے تھا، چیئرمین بورڈ محسن نقوی نے ٹیم اونرز کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ اوپن آکشن فارمولے کو اپنایا جائے،اس کا کھلاڑیوں کو بہت فائدہ ہو گا، بعض اونرز اس سے متفق نظر آئے جبکہ دیگر ڈرافٹ کے ہی خواہاں ہیں۔
مزید پڑھیںپی ایس ایل: کھلاڑیوں کی ڈائریکٹ سائننگ، ڈرافٹ یا آکشن؟ سلمان نصیر نے بتادیا
اس معاملے پر بات چیت جاری رہے گی، پلیئرز ریٹینشن پر بھی مزید تبادلہ خیال ہوگا،موجودہ نظام 8 کھلاڑیوں کو برقرار رکھنے کا ہے، تاہم 2 نئی ٹیموں کے اضافے سے ایسا ممکن نہیں رہا، اسی لیے پی سی بی چاہتا ہے کہ 3 پلیئرز فی ٹیم ریٹین ہوں، البتہ نئی فرنچائز صفر ریٹینشن کی حامی ہیں، پرانی ٹیمیں 5 کے حق میں ہیں۔
گزشتہ روز6 فرنچائز کے ارکان آن لائن شریک ہوئے، 2 فرنچائز کے نمائندے میٹنگ میں موجود رہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔