اسلام آباد:

پاورسیکٹر کی ایکویٹی گزشتہ مالی سال کے دوران 800 ارب روپے منفی ہوگئی ہے، جس کی بنیادی وجوہات بجلی کی فروخت میں کمی،6 بجلی کی تقسیم کارکمپنیوں (ڈسکوز) کے مسلسل نقصانات، بجلی چوری،کم ریکوریز اور سرکلر ڈیٹ کا بڑھتابوجھ ہیں۔

یہ انکشاف وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری سالانہ کارکردگی رپورٹ میں کیاگیاہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال میں پاورسیکٹرکے کل واجبات 9.

2 کھرب روپے تک پہنچ گئے،جبکہ اثاثے 8.4 کھرب روپے رہے۔

منفی ایکویٹی کی بڑی وجوہات میں ڈسکوزکے نقصانات، بجلی کی چوری،جنریشن کمپنیوں کی ری پرائسنگ،سرکلر ڈیٹ اور غیر پائیدارکاروباری ماڈل شامل ہیں۔ بجلی کے شعبے کوچلانے کیلیے حکومت نے گزشتہ مالی سال کے دوران ایک کھرب سے زائدکی سبسڈی دی،جس میں صرف تقسیم کارکمپنیوں کیلیے 552 ارب روپے شامل تھے۔

 رپورٹ کے مطابق 10 میں سے 6 ڈسکوز اب بھی خسارے میں رہیں،جبکہ 4 کمپنیوں نے مجموعی طور پر 39 ارب منافع ظاہرکیا۔ منافع کمانے والی کمپنیوں میں گوجرانوالہ الیکٹرک پاورکمپنی 13.6ارب اور قبائلی الیکٹرک سپلائی کمپنی 9.4 ارب شامل ہیں،جنہیں سبسڈی کافائدہ حاصل ہوا۔فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی نے بہتروصولیوں کے باعث 9.6 ارب منافع کمایا،جبکہ ملتان الیکٹرک پاورکمپنی نے 4.5 ارب منافع رپورٹ کیا، تاہم بجلی چوری پر قابو پانے کی ضرورت پر زوردیاگیا۔

مزید پڑھیں

بجلی کی کراس سبسڈی میں 123 ارب روپے کی کمی لائی گئی ہے، پاور ڈویژن

دوسری جانب 6کمپنیوں نے مجموعی طور پر 258 ارب کاخسارہ کیا،جبکہ ان کے مجموعی نقصانات 3 کھرب تک پہنچ چکے ہیں۔کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی 113ارب کے سالانہ نقصان کے ساتھ دوسرے بڑے خسارے کی حامل ادارہ رہی،جس کے نقصانات 825 ارب روپے ہوچکے ہیں۔ رپورٹ میں کہاگیاکہ کوئٹہ میں ساختی مسائل،کم وصولیاں اورشدیدبجلی چوری بڑے چیلنجز ہیں۔

پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی نے 93 ارب کانقصان کیا،جبکہ مجموعی نقصانات 764 ارب روپے تک پہنچ گئے۔سکھر،حیدرآباد،لاہور اوراسلام آبادکی بجلی کمپنیوں نے بھی اربوں روپے کے نقصانات رپورٹ کیے۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق بجلی کے شعبے کی آمدن 3.9 کھرب رہی جوگزشتہ سال کے مقابلے میں 4 فیصدکم ہے،جس کی وجہ ٹیرف میں تاخیر،سرکلرڈیٹ اور وصولیوں کے مسائل ہیں۔سرکاری ملکیتی اداروں کے نقصانات میں 300 فیصداضافہ ہوااورانہیں 2.1 کھرب روپے کی سالانہ حکومتی معاونت دی گئی۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: الیکٹرک سپلائی کمپنی کے نقصانات ارب روپے بجلی کی

پڑھیں:

میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا

چین کی معروف الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکل ساز کمپنی ’بی وائی ڈی ‘ نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے غارو میں قائم کیا جانے والا اس کا 150 ملین ڈالر مالیت کا اسمبلنگ پلانٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

جبکہ کمپنی پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے کام تیز کر رہی ہے۔

کمپنی کے مطابق پلانٹ میں تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اس وقت جدید مشینری کی تنصیب، کمیشننگ اور دیگر تکنیکی مراحل جاری ہیں تاکہ عالمی معیار کے مطابق پیداوار کا آغاز کیا جا سکے۔

پلانٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25 ہزار گاڑیاں ہوگی

بی وائی ڈی پاکستان، میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی ) کے وائس پریزیڈنٹ سیلز اینڈ اسٹریٹجی، دانش خالق نے بتایا کہ تقریباً 2 سال سے بھی کم عرصے میں تیار ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے تیز ترین آٹو مینوفیکچرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی

انہوں نے کہا کہ پلانٹ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 25 ہزار نیو انرجی وہیکلز اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔

پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی جلد متعارف کرانے کا ہدف

دانش خالق کے مطابق کمپنی کی اولین ترجیح پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد صارفین تک پہنچانا ہے۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ باقاعدہ پیداوار شروع کرنے سے قبل مشینری کی جانچ، پیداواری آزمائش اور معیار کی تصدیق کے متعدد مراحل مکمل کیے جائیں گے تاکہ ہر گاڑی کمپنی کے عالمی معیار پر پوری اترے۔

2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی سب سے بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئی

اس پیش رفت سے قبل بی وائی ڈی پاکستان نے گزشتہ ہفتے بحری جہاز کے ذریعے 2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ درآمد کی۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اس درآمد کا مقصد صارفین کو بروقت گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنانا اور ملک بھر میں موجود ڈیلر نیٹ ورک میں مطلوبہ تعداد میں گاڑیاں دستیاب رکھنا ہے۔

ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہ

بی وائی ڈی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران نیو انرجی وہیکلز میں صارفین کی دلچسپی مسلسل بڑھی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔

مزید پڑھیں:چین کی سب سے بڑی کارساز کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کے لیے پُرعزم

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بی وائی ڈی گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات روایتی پیٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں 75 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں، جبکہ حفاظت، کارکردگی اور قابلِ اعتماد معیار بھی برقرار رہتا ہے۔

چارجنگ انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری جاری

دانش خالق نے بتایا کہ بی وائی ڈی پاکستان نے ہبکو گرین پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ جی ایل) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ملک بھر میں نیو انرجی وہیکلز کے لیے چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب تک کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل روٹ پر 19 پبلک ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں مزید شہروں، اہم شاہراہوں اور دوسرے درجے کے شہری مراکز تک اس نیٹ ورک کو توسیع دی جائے گی۔

بی وائی ڈی نے 2024 میں مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے پاکستان کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر قدم رکھا تھا۔

گزشتہ سال کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی جولائی یا اگست 2026 تک متعارف کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 2030 تک فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی

ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکلز کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔

حکومت کی جانب سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بہتری ایسے عوامل ہیں جو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور صارفین کی دلچسپی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔

بی وائی ڈی کا غارو پلانٹ بھی اسی بدلتے ہوئے رجحان کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الیکٹر گاڑیوں الیکٹرک گاڑیاں ایندھن بی وائی ڈی پیداواری ٹیکنالوجی نیو انرجی وہیکلز

متعلقہ مضامین

  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار