سندھ بلڈنگ ،لیاقت آباد میں خلاف ضابطہ کمرشل تعمیرات جاری، حکام خاموش
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
پلاٹ نمبر 518اور 546پر رہائشی علاقے میں تجارتی تعمیرات ، بنیادی سہولیات متاثر
ڈپٹی ڈائریکٹر عمران رضوی پر دفتری ریکارڈ میں گڑبڑ کے سنگین الزامات،رہائشی ناراض
ضلع وسطی کے گنجان آباد علاقے لیاقت آباد کے رہائشی علاقوں میں تنگ گلیوں کے درمیان رہائشی پلاٹوں پر خلاف ضابطہ کمرشل پورشن اور تجارتی یونٹس کی تعمیر نے عوامی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے ۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران کی ملی بھگت سے یہ غیرقانونی تعمیرات دن کے اجالوں میں کھڑی کی جا رہی ہیں۔جرأت سروے ٹیم کو حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق، لیاقت آباد نمبر 4 میں پلاٹ نمبر 518 اور 546 پر بلا اجازت تجارتی تعمیرات کا سلسلہ بلا روک ٹوک تیزی سے جاری ہے ۔یہ دونوں پلاٹ رہائشی زون میں واقع ہیں جہاں اس قسم کی تعمیرات کی قطعی ممانعت ہے ۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ ان غیر قانونی تعمیرات نے گلیوں کی گزرگاہ سمیٹ دی ہے اور بنیادی سہولیات کو شدید متاثر کیا ہے ۔علاقہ مکینوں نے ایس بی سی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر عمران رضوی پر دفتری ریکارڈ میں گڑبڑ کرنے کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ وہ ان غیرقانونی تعمیرات کو جاری رکھنے کے لیے نہ صرف آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں بلکہ ضرورت پڑنے پر دفتری ریکارڈ میں ہیرا پھیری کی راہ ہموار کرتے ہیں۔مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ان تعمیرات کی وجہ سے ایمبولنس اور فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کے لیے رسائی ناممکن ہو چکی ہے ۔ شہری حقوق کے کارکنوں کا مطالبہ ہے کہ وزیر بلدیات فوری طور پر سخت کارروائی کرتے ہوئے عمران رضوی سمیت تمام ملوث افسران کے خلاف انکوائری کریں اور تمام غیرقانونی تعمیرات کو بلا تاخیر منہدم کروائیں ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔
عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔
بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔