کنیز فاطمہ سوسائٹی سوا ارب کے پلاٹوں میں ہیر پھیر پر نیب انکوائری تیز
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260117-08-10
کراچی (اسٹاف رپورٹر) کنیز فاطمہ سوسائٹی کے سواارب کے53 پلاٹوں کی بندر بانٹ پر قومی احتساب بیورو(نیب) نے انکوئری تیز کردی، پلاٹوں کی ہیر پھیر میں سابق سوسائٹی انتظامیہ، 5 صوبائی سیکرٹری، 8 سرکاری ایڈ منسٹریٹر و دیگر افراد شامل ہیں جن میں قمر رضا بلوچ ندیم چنا، ندیم شیخ بھی شامل ہیں، نیب نے ہاؤسنگ سوسائٹی کے پلاٹوں پر قبضوں کے حوالے سے سوسائٹی کے صدر و سیکرٹری سے معلومات حاصل کر لیں۔تفصیلات کے مطابق نیب نے سوسائٹی کے صدر دسیکرٹری سے سوا ارب روپے مالیت کے 53 پلاٹوں کا ریکارڈ حاصل کر لیا ہے۔ سابقہ انتظامیہ بھی ملزمان کی فہرست میں شامل ہیں۔ اس حوالے سے نیب کے ڈپنی ڈائریکٹر امتیاز احمد رک نے کنیزفاطمہ سوسائٹی کے صدر اور سیکرٹری کو ایک خط بھجوایا جس میں 53 پلاٹس کے نمبر اور پلاٹ سا ئیزکے ساتھ ریکارڈ طلب کیا ہے، ذرائع کے مطابق ان 53 پلاٹوں میں ایک پبلک بلڈنگ کا رفاعی پلاٹ ہے جس کے 400، 400 مربع گز کے 4 غیر قانونی پلاٹ کاٹے گئے ہیں۔ ایک اسٹیٹ ایجنٹ کے مطابق 120 گز کے پلاٹ کی قیمت پونے 2 کروڑ روپے، 200 گز کے پلاٹ کی قیمت ڈھائی کروڑ روپے اور 400 گز کے رہائشی پلاٹ کی قیمت ساڑھے 3 کروڑ روپے بنتی ہے جس میں باقی پلاٹوں کی قیمت شامل کریں تو مجموعی طور پر تقریبا ایک ارب 25 کروڑ روپے بنتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق کنیزفاطمہ سوسائٹی میں رفاعی و دیگر پلاٹوں کی غیر قانونی الائمنٹ اور فروخت کا سلسلہ کافی عرصہ سے چل رہا ہے جس کے ذمہ داروں میں موجودہ صوبائی سیکرٹری کو آپریٹو ڈیپارٹمنٹ قمر رضا بلوچ سمیت 4 سابق صوبائی سیکرٹری شامل ہیں جنہوں نے گزشتہ ڈھائی برس میں سوسائٹی کے 8 انچارج کمیٹی ایڈ منسٹریٹر تعینات کئے جنہوں نے سوسائٹی ممبران کے پلاٹوں کی الا ٹمنٹ منسوخ کیںاور نئی جعلی فائلیں بنا کر پلاٹ بیچ ڈالے ہیں۔ مذکورہ خبر کے حوالے سے جسارت نے صوبائی سیکرٹری کو آپریٹو قمر رضا بلوچ سے انکا موقف جانے کیلیے انہیں واٹس ایپ پر پیغام بھیجا لیکن انہوں نے جواب نہیں دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: صوبائی سیکرٹری سوسائٹی کے پلاٹوں کی کروڑ روپے شامل ہیں کے مطابق کے پلاٹ کی قیمت
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔