صحت کارڈ اجرا عوامی خدمت کا تسلسل، دہشتگردوں کو بحر ہند میں ڈبو دیں گے: وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی +نوائے وقت رپورٹ) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے گٹھ جوڑ کے ٹھوس ثبوت ہیں۔ قومی پیغام امن کمیٹی کے ارکان سے گفتگو میں شہباز شریف نے کہا کہ دہشتگردی کا ناسور دوبارہ سر اٹھا رہا ہے، 2018 کی طرح دہشتگردی کا سر کچل دیں گے، دہشتگردوں کو پاکستان کی سرحدوں سے اٹھاکر بحرہند میں ڈبو دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے گٹھ جوڑ کے ٹھوس ثبوت ہیں اور دشمن کی طرف سے انہیں ہر طرح کے وسائل فراہم کیے جارہے ہیں۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ تمام مکتبہ فکر کے جید علماء کا یہاں ہونا اچھی بات ہے، قومی یکجہتی کی جتنی آج ضرورت ہے پہلے شاید کبھی نہ تھی، مل بیٹھ کر معاملات طے کرنے کی ضرورت ہے۔علاوہ ازیں وزیر اطلاعات و نشریات عطاء تارڑ نے کہا ہے کہ دہشتگردی کیخلاف قومی بیانیئے کی تشکیل کیلئے قومی امن کمیٹی نے کم وقت میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کمیٹی کے تحت ملک بھر میں صوبائی اور ضلعی امن کمیٹیاں قائم کی جائیں۔ دہشتگردی کیخلاف بیانیئے کی جنگ میں اتحاد ضروری ہے۔ امن کمیٹی کی کاوشیں قابل ستائش ہیں۔ دریں اثناء وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں صحت کارڈ کے اجراء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحت ہر شہری کا بنیادی حق ہے، آج ہم سب کیلئے ایک اہم دن ہے، حکومت عوام کو صحت سہولیات کا حق دہلیز پر فراہم کر رہی ہے۔ نواز شریف نے 2016ء میں صحت کا یہ پروگرام شروع کیا تھا۔ صحت کارڈ پروگرام صوبوں میں پھیلا، لاکھوں خاندان مستفید ہوئے۔ صحت کارڈ کا اجراء عوامی خدمات کا تسلسل ہے۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کو سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ وزیراعظم صحت کارڈ کا اجراء عوامی فلاح کے عزم کا تسلسل ہے۔ علاج اور صحت کی سہولت ہر پاکستانی کا بلاتفریق حق ہے۔ وزیر صحت اور پوری ٹیم مبارکباد کے مستحق ہیں۔ تھرڈ پارٹی کے ذریعے پروگرام میں شفافیت یقینی بنائی جائے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ کمزور طبقے کا سہارا بنے۔ ریاست عام شہری کیلئے علاج کی ذمہ داری نبھا رہی ہے۔ پنجاب میں صحت کارڈ پروگرام تیزی سے جاری ہے۔ خیبر پی کے اور بلوچستان میں بھی صحت سے متعلق پروگرام موجود ہیں۔ علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے اپیل کی ہے کہ شب معراج جو عظیم الشان روحانی اور ایمانی اہمیت کی حامل رات ہے، میں پاکستان میں امن و استحکام اور ترقی و خوشحالی کیلئے خصوصی دعائیں کی جائیں۔ شب معراج پر اپنے پیغام میں وزیر اعظم نے کہا کہ وہ پاکستان اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو شب معراج کے بابرکت اور روح پرور موقع پر دل کی گہرائیوں سے ہدیہ تہنیت پیش کرتے ہیں ۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالی اس مبارک شب کی مذہبی اہمیت اور روحانی قدر و منزلت سے مسلمانوں کو مستفید ہونے کی سعادت عطا فرمائے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ شب معراج امت مسلمہ کے لیے عظیم الشان روحانی اور ایمانی اہمیت کی حامل رات ہے۔دریں اثناء وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایکس پر پیغام میں خادم حرمین شریفین کے طبی معائنے کیلئے ہسپتال داخل ہونے کی خبر پر اظہار تشویش کیا۔ اپنے پیغام میں کہا کہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز کیلئے دعا گو ہیں۔ اللہ ان کو جلد صتحیابی عطا فرمائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: شہباز شریف نے امن کمیٹی نے کہا کہ صحت کارڈ صحت کا
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔