مودی حکومت بھارتی معیشت کیلئے خطرہ قرار،اخباروال اسٹریٹ جرنل
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
50 فیصد ٹیرف نے بھارت کی ریگولیٹڈ معیشت کی کمزوریوں کو بے نقاب کیا
بینکاری نظام ،لیبراصلاحات میں عدم دلچسپی بھارت کی بڑی ناکامیوں میں شامل
معروف عالمی اخبار نے مودی حکومت کی معاشی اصلاحات پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے بھارتی معیشت کے لئے خطرہ قرار دے دیا ہے ۔اخباروال اسٹریٹ جرنل کے مطابق بھارت میں مودی حکومت آزاد منڈی کا واضح وژن پیش کرنے میں ناکام رہی اور گزشتہ چند سال میں متعارف کی گئی اصلاحات دلیرانہ یا جامع نہیں تھیں۔اگست 2025 میں امریکہ کی جانب سے عائد کیے گئے 50 فیصد ٹیرف نے بھارت کی ریگولیٹڈ معیشت کی کمزوریوں کو بے نقاب کیا اوراقتصادی ماہرین کے مطابق مودی حکومت نے ان مسائل کا بروقت حل پیش نہیں کیا۔اخبار نے مزید کہا کہ جی ایس ٹی کے ناقص نفاذ، غیرمستحکم بینکاری نظام اور لیبراصلاحات میں عدم دلچسپی بھارت کی بڑی ناکامیوں میں شامل ہیں۔اس کے علاوہ زرعی اصلاحات سیاسی دبا کی وجہ سے واپس لے لی گئیں اور زمین، لیبر اور سبسڈی اصلاحات مسلسل مخر ہوتی رہیں۔ اخبار کے مطابق بلند ٹیرف اور تحفظ پسند پالیسیاں مسابقت کو نقصان پہنچا رہی ہیں جبکہ خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی نجکاری نہیں ہو سکی، حکومت جزوی اقدامات اور نمائشی اصلاحات پرانحصار کر رہی ہے جبکہ بحران سے پہلے کی تنقید مسلسل نظراندازکی گئی، بیوروکریسی میں صرف ظاہری اورمعمولی تبدیلیاں کی گئیں۔وال اسٹریٹ جرنل کا کہنا ہے کہ بھارت کو اپنے معاشی ڈھانچے کا مکمل اوورہال کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عالمی معیشت میں اس کی مسابقت برقرار رہ سکے اورملک میں حقیقی ترقی کے مواقع پیدا ہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: مودی حکومت بھارت کی
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔