بلاول کو سندھ کا مقدمہ ایوان صدر میں پیش نہیں کرنا چاہیے تھا، راناثنا
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ بلاول زرداری کو سندھ کا مقدمہ ایوان صدر میں پیش نہیں کرنا چاہیے تھا، بانی تحریک انصاف کا رویہ
ملکی سیاست کیلیے مشکلات کا سبب بنتا ہے، اگر 8 فروری کے بعد 8 مئی کے احتجاج کی کال نہ آئی تو بانی تحریک انصاف سے ملاقات والا مسئلہ حل ہوجائے گا، صوبوں کے اتفاق رائے سے ہی وسائل کی تقسیم کے معاملے پر آگے بڑھا جاسکتا ہے، سندھ حکومت کی کارکردگی سے کوئی شکایت نہیں۔ وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ وسائل کی تقسیم پرمختلف جگہوں پرگفتگو ہوتی رہی اور آگے بھی ہوتی رہے گی، وفاقی اور صوبائی سطح پر وسائل کی تقسیم پر بات ہوتی رہے گی، ملک پر قرضوں کی واپسی کا عمل بہت متاثرہورہا ہے، دفاع کے اخراجات میں اضافہ بھی سکیورٹی کیلئے ضروری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ تمام صوبوں کے اتفاق رائے سے ہی وسائل کی تقسیم کے معاملے پر آگے بڑھا جاسکتا ہے، جب تک سارے صوبے متفق نہیں ہوتے گفتگو ہوتی رہنی چاہیے تاکہ نئے آئیڈیازسامنے آتے رہیں، ایسی پریشانی کی بات نہیں، بلاول بھٹو زرداری نے شاید مختلف باتوں سے متاثر ہوکر ایسی بات کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہمیں سندھ حکومت کی کارکردگی سے کوئی شکایت نہیں، وزیراعظم نے ہمیشہ سندھ حکومت پر اعتماد کا اظہار کیا، سندھ حکومت نے بھی وزیراعظم پر اعتماد کا اظہار کی، جمہوری دور میں سب ہی کے پاس تنقید کا اختیار ہوتا ہے، سندھ حکومت جمہوری گورنمنٹ ہے وہ وفاق پر تنقید کرسکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وسائل کی تقسیم سندھ حکومت
پڑھیں:
پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
اسلام آباد، وزیراعظم شہباز شریف(shahbaz shrif) نے ملکی معیشت کی پائیدارترقی کیلئے صنعت وپیداوار کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر قرار دیا ہے۔ کہا برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات حکومت پالیسی ترجیحات کا حصہ ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ملکی معیشت پر اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اوربہترین کارکردگی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
صنعت و تجارت اور معیشت کے مختلف شعبہ جات میں اصلاحات طویل المدتی معاشی افادیت اور عوامی فلاح پر مرکوز ہونا چاہیے۔
وزیراعظم نے کہا توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے جامع اور موثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں:مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
وزیراعظم نے مختلف شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کی شمولیت کے لئے تمام وزارتوں اور ماہرین کو بامعنی مشاورت یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔