عمران خان کا رویہ مشکلات کا سبب، سندھ حکومت سے شکایت نہیں: رانا ثناء
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کا رویہ ملکی سیاست کیلئے مشکلات کا سبب بنتا ہے، اپوزیشن لیڈر کی تقرری ایک اچھی پیش رفت ہوگی، صوبوں کے اتفاق رائے سے ہی وسائل کی تقسیم کے معاملے پر آگے بڑھا جاسکتا ہے، سندھ حکومت کی کارکردگی سے کوئی شکایت نہیں۔وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ محمود خان اچکزئی کا بطور اپوزیشن لیڈر نوٹیفکیشن آج ہو جائے گا، بلاول بھٹو زرداری کو سندھ کا مقدمہ ایوان صدر میں پیش نہیں کرنا چاہئے تھا، اگر 8 فروری کے بعد 8 مئی کے احتجاج کی کال نہ آئی تو بانی تحریک انصاف سے ملاقات والا مسئلہ حل ہوجائے گا۔رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی تمام تر سیاسی سرگرمیاں بانی پی ٹی آئی کی مرہون منت ہے، بانی پی ٹی آئی جب حکومت میں تھے تو اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنے کیلئے تیار نہیں تھے، یہ اپوزیشن میں ہوکر بھی حکومت کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں۔انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی مسائل کو ٹیبل پر بیٹھ کر حل کرنے کے حامی نہیں، بانی پی ٹی آئی اپنی اس پالیسی پر2011سے کاربند ہیں، ان کی پارٹی اورریاست کو مشکلات درپیش آتی رہیں، پی ٹی آئی دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ بات کرنے پر یقین نہیں رکھتی۔انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا رویہ ملکی سیاست کیلئے مشکلات کا سبب بنتا ہے، پی ٹی آئی اراکین نے اسٹینڈنگ کمیٹی سے استعفے دیئے ہوئے ہیں، یہ اسمبلی اجلاس میں بھی صرف احتجاج کرنے آتے ہیں، اپوزیشن لیڈر کی تقرری ایک اچھی پیش رفت ہوگی۔رانا ثناء اللہ نے کہا کہ وسائل کی تقسیم پرمختلف جگہوں پرگفتگو ہوتی رہی اورآگے بھی ہوتی رہے گی، وفاقی اورصوبائی سطح پر وسائل کی تقسیم پر بات ہوتی رہے گی، ملک پر قرضوں کی واپسی کا عمل بہت متاثرہورہا ہے، دفاع کے اخراجات میں اضافہ بھی سکیورٹی کیلئے ضروری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ تمام صوبوں کے اتفاق رائے سے ہی وسائل کی تقسیم کے معاملے پر آگے بڑھا جاسکتا ہے، جب تک سارے صوبے متفق نہیں ہوتے گفتگو ہوتی رہنی چاہیے تاکہ نئے آئیڈیازسامنے آتے رہیں، ایسی پریشانی کی بات نہیں، بلاول بھٹو زرداری نے شاید مختلف باتوں سے متاثر ہوکر ایسی بات کی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ ہمیں سندھ حکومت کی کارکردگی سے کوئی شکایت نہیں، وزیراعظم نے ہمیشہ سندھ حکومت پر اعتماد کا اظہار کیا، سندھ حکومت نے بھی وزیراعظم پر اعتماد کا اظہار کی، جمہوری دور میں سب ہی کے پاس تنقید کا اختیار ہوتا ہے، سندھ حکومت جمہوری گورنمنٹ ہے وہ وفاق پر تنقید کرسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ لوگ سندھ حکومت پر بھی تنقید کرتے ہیں، وفاق پر بھی تنقید کی جاتی ہے، پنجاب حکومت پر کونسی کوئی تنقید نہیں ہوتی، بلوچستان اورخیبرپختونخوا گورنمنٹ پر بھی تنقید ہوتی ہے، کسی پر مثبت تنقید بھی ہوتی ہے، وفاقی حکومت یا مسلم لیگ ن سندھ حکومت کی کارکردگی پر تنقید نہیں کررہی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
چولپون آتا (کرغزستان): ایران نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں یکطرفہ پالیسیوں، بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی اور طاقت کے غیر قانونی استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کو موجودہ عالمی حالات میں ناگزیر قرار دیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کرغزستان کے سیاحتی شہر چولپون آتا میں جاری اجلاس کے موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران شنگھائی تعاون تنظیم اور اس جیسے دیگر کثیرالجہتی فورمز کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی یکطرفہ پالیسیاں، ریاستوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی خلاف ورزیاں اور طاقت کا غیر قانونی استعمال بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی قانونی نظام کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔
اگرچہ اسماعیل بقائی نے کسی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے ماضی میں بھی اسی نوعیت کے بیانات میں امریکا کی خارجہ پالیسی اور اس کے اقدامات پر تنقید کی ہے۔
ایران 2023 میں شنگھائی تعاون تنظیم کا باقاعدہ رکن بنا تھا۔ یہ تنظیم چین اور روس کی قیادت میں قائم ایک اہم یوریشیائی سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی فورم ہے، جس میں پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک شامل ہیں۔
وزرائے خارجہ کا یہ اجلاس تنظیم کے آئندہ سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سربراہ اجلاس میں علاقائی سلامتی، تجارتی روابط، اقتصادی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان شراکت داری کے فروغ جیسے اہم موضوعات پر غور کیا جائے گا۔
We are in Cholpon-Ata, Kyrgyzstan, to participate in the meeting of the Council of Foreign Ministers of the Shanghai Cooperation Organization (SCO) Member States.
Iran attaches great importance to the SCO and similar multilateral arrangement, which represent a vital force for… pic.twitter.com/CCGd7mxcL8
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر ہونے والی یہ ملاقاتیں خطے میں سفارتی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔