سندھ حکومت نے ہر شعبے میں نمایاں بہتری لائی، تنقید حقائق کے برعکس ہے: بلاول بھٹو زرداری
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سندھ حکومت مسلسل ہر شعبے میں بہتری کے لیے اقدامات کر رہی ہے، مگر ایک خاص ایجنڈے کے تحت یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ پیپلز پارٹی نے کچھ نہیں کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اختیارات اگر اسلام آباد کو دیے جائیں تو وفاقی منصوبوں کی ذمہ داری بھی وفاق ہی کو نبھانی ہوگی، سندھ حکومت وہ سڑکیں نہیں بناسکتی جو وفاق کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں۔
ایوان صدر میں سفیروں، کاروباری شخصیات اور میڈیا نمائندوں کو ’’سندھ کی تبدیلی کی کہانی‘‘ کے عنوان سے بریفنگ دیتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے 2008 سے 2025 تک سندھ میں صحت، تعلیم، موسمیاتی تبدیلی، پانی، امن و امان، سماجی تحفظ، معیشت، توانائی اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں ہونے والی پیش رفت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے صوبے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جامع اور مؤثر حکمت عملی اپنائی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سندھ کے مواصلاتی انفراسٹرکچر پر تنقید کی جاتی ہے حالانکہ سندھ حکومت 50 ہزار کلو میٹر سے زائد سڑکیں تعمیر کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں پہلی بار الیکٹرک بسیں متعارف کروائی گئیں اور خواتین کے لیے پنک بس سروس شروع کی گئی، جبکہ پیپلز پارٹی پر تنقید کرنے والوں کو تھرپارکر کی ترقی ایک واضح جواب ہے۔
انہوں نے کہا کہ تھرپارکر کا کوئلہ یہاں کے عوام کا قیمتی اثاثہ ہے اور اس کے ذخائر سعودی عرب کے تیل کے برابر ہیں، مگر ماضی میں ان وسائل کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ تھر کے کوئلے کی بدولت علاقے میں سماجی انقلاب آیا ہے اور حکومتی سرمایہ کاری سے صحت کے اداروں کا جال بچھایا گیا ہے۔ بلاول کا کہنا تھا کہ تھرپارکر کی ترقی سندھ کی مجموعی ترقی کے لیے ناگزیر ہے اور یہ پیپلز پارٹی کی اولین ترجیح ہے۔
صحت کے شعبے پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے بتایا کہ سندھ میں صحت کا بجٹ 2.
انہوں نے بتایا کہ سندھ میں کینسر کا مہنگا ترین علاج بھی مفت فراہم کیا جا رہا ہے اور این آئی سی وی ڈی طرز کے 11 ہسپتال قائم کیے گئے ہیں۔ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ میں بستروں کی تعداد بڑھا کر 5,750 کر دی گئی ہے جو دنیا میں کسی ایک اسپتال میں سب سے زیادہ ہے۔ ایس آئی یو ٹی میں ہزاروں گردوں کی پیوندکاریاں ہو چکی ہیں جبکہ غلام محمد مہر انسٹیٹیوٹ میں جگر کی پیوندکاری کا کامیاب سلسلہ جاری ہے۔
تعلیم کے شعبے کا ذکر کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 1947 سے 2008 تک سندھ میں صرف 10 جامعات تھیں، جبکہ 2025 تک یہ تعداد بڑھ کر 30 جامعات اور 18 کیمپس تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 129 نئے کالجز قائم کیے گئے ہیں، ہر سال چار ہزار میرٹ پر مبنی وظائف دیے جا رہے ہیں اور آٹزم کے لیے خصوصی مراکز بھی بنائے گئے ہیں۔
سماجی تحفظ اور خواتین کی فلاح سے متعلق بلاول نے کہا کہ رورل سپورٹ آرگنائزیشن کے ذریعے 14 لاکھ خواتین کو غربت سے نکالا گیا اور بلا سود قرضوں کی وصولی کی شرح 98 فیصد ہے۔ 2022 کے سیلاب کے بعد سندھ حکومت نے 21 لاکھ مکانات کی تعمیر شروع کی جو خواتین کے نام پر دنیا کا سب سے بڑا ہاؤسنگ منصوبہ ہے۔
توانائی کے شعبے میں پیش رفت بیان کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سندھ حکومت ونڈ انرجی کے ذریعے 1,845 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہی ہے، جبکہ لاکھوں خاندانوں کو سولر یونٹس فراہم کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے لیے مزید سولر منصوبے بھی زیر تکمیل ہیں اور خصوصی اقتصادی زونز قائم کیے گئے ہیں۔
ٹیکس وصولی کے حوالے سے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سندھ حکومت نے سروسز پر سیلز ٹیکس وصولی کو 16.6 ارب سے بڑھا کر 307 ارب روپے تک پہنچا دیا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ صوبے ٹیکس وصولی میں زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں کو اضافی ٹیکس آمدن اپنے پاس رکھنے کی ترغیب دی جانی چاہیے۔
دریں اثنا بلاول بھٹو زرداری سے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ اور قائم مقام صدر مملکت سید یوسف رضا گیلانی نے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں باہمی دلچسپی کے امور اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے بلاول بھٹو زرداری نے کہ انہوں نے کہا کہ کہ سندھ حکومت پیپلز پارٹی گئے ہیں ہے اور کے لیے
پڑھیں:
آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
تصویر سوشل میڈیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے۔
وزیراعظم کی زیرِ صدارت آئی ٹی کے شعبے کی اسٹریٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ اجلاس ہوا۔
اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
شہباز شریف نے ہدایت کی کہ آئی ٹی کے شعبے کے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
اعلامیہ کے مطابق انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔
اجلاس کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025 میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی۔
وزیراعظم کو ’’کنیکٹ پاکستان وژن 2030‘‘ کے اجراء کی تیاریوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا۔
بریفنگ کے مطابق جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دیے گئے۔