KHARAN:

بلوچستان کے ضلع خاران میں فتنۃ الہندوستان کے دہشت گردوں نے متعدد کارروائیوں کے دوران سٹی تھانے اور بینکوں پر حملہ اور لاکھوں روپے کی ڈکیتی کی تاہم سیکیورٹی فورسز نے بھرپور کارروائی کرتے ہوئے 12 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق فتنۃ الہندوستان کے 15 سے 20 دہشت گردوں نے ضلع خاران کے علاقے خاران سٹی میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیاں کی۔

بیان میں کہا گیا کہ دہشت گردوں نے اس دوران سٹی پولیس اسٹیشن، نیشنل بینک اور حبیب پر حملہ کیا اور اس دوران بینکوں سے 34 لاکھ روپے لوٹ لیے۔

آئی ایس پی آر نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے بھرپور جواب دیا اور دہشت گردوں کو پسپا ہونے پر مجبور کردیا اور کلیئرنس آپریشن کے دوران 3 مختلف مقامات پر 12 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔

آئی ایس پی آر نے بتایا کہ دہشت گرد پولیس اسٹیشن پر لوگوں کو یرغمال بنانے جیسی صورت حال پیدا کرنے کا منصوبہ بنایا تاہم اس کو مؤثر انداز میں ناکام بنا دیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ مذکورہ علاقے اور اطراف میں دہشت گردوں کی موجودگی کے شائبے کو ختم کرنے کے لیے کارروائی کی جارہی ہے۔

آئی ایس پی آر نے بتایا کہ عزمِ استحکام کے وژن کے تحت پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک انسداد دہشت گردی کی یہ مہم پوری قوت سے جاری رہے گی۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل آئی ایس پی آر

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا