بسنت 2026 کے لیے لاہور میں سخت سیکیورٹی انتظامات، پولیس نے تفصیلی پلان عدالت میں پیش کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
لاہور میں بسنت منانے کے ممکنہ انعقاد کے تناظر میں پولیس نے جامع سیکیورٹی پلان تیار کر کے لاہور ہائی کورٹ میں جمع کرا دیا ہے، جس میں شہریوں کی جان و مال کے تحفظ، غیر قانونی پتنگ بازی کی روک تھام اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سخت اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:بسنت منانے کی خواہش اوورسیز پاکستانیوں کو بھی لاہور کھینچ لائی
پولیس رپورٹ کے مطابق بسنت 2026 کے لیے گزشتہ 10 سال کے ڈیٹا کی بنیاد پر ممکنہ خطرات کی نشاندہی کی گئی ہے اور لاہور شہر کو لال، پیلے اور ہرے زونز میں تقسیم کیا گیا ہے تاکہ حساس علاقوں میں اضافی سیکیورٹی یقینی بنائی جا سکے۔
لاہور میں بسنت کی تیاریاں جاری ہیں۔۔پتنگ سازوں نے آرڈر لینے بند بھی کردیے ہیں کہتے ہیں وقت بہت کم ملا ہے اور جو آرڈر ملے ہیں وہ ہی پورے کرنے مشکل ہوچکے ہیں۔۔لوگ ہیں کہ ترلے کررہے ہیں کہ ہمارا آرڈر لے لیں۔۔???????????? pic.
— Imran Bhatti (@ReporterBhatti) January 15, 2026
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ پنجاب کائٹ فلائنگ ایکٹ پر مکمل عملدرآمد کرایا جائے گا اور صرف کاٹن ڈور اور رجسٹرڈ پتنگوں کی اجازت ہو گی، جبکہ شیشہ، کیمیکل اور میٹل ڈور کے استعمال کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔ ہر پتنگ اور ڈور کی کیو آر کوڈ رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی ہے تاکہ غیر قانونی سرگرمیوں کی فوری نشاندہی ہو سکے۔
پولیس کے مطابق ڈرونز، سوشل میڈیا مانیٹرنگ اور جدید کنٹرول رومز کے ذریعے پتنگ بازی پر لمحہ بہ لمحہ نظر رکھی جائے گی۔ چھتوں پر شراب نوشی، ہوائی فائرنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ موٹر سائیکل سواروں کے لیے ہیلمٹ اور سیفٹی وائرز کا استعمال لازمی ہو گا، جبکہ ریڈ زون میں اینٹینا کے بغیر داخلے پر پابندی عائد کی جائے گی۔ بسنت کے دنوں میں شہریوں کی سہولت کے لیے 5 ہزار رکشے مفت فراہم کیے جائیں گے، جبکہ ریسکیو، ہیلتھ اور ٹریفک پولیس کو ہائی الرٹ رکھا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب حکومت نے بسنت کو محفوظ بنانے کے لیے اہم فیصلہ کرلیا
یاد رہے کہ یہ رپورٹ لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر جمع کرائی گئی ہے، جہاں ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے پتنگ بازی سے متعلق قانون اور بسنت کی اجازت کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کر رکھا ہے۔ عدالت میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں پولیس نے بسنت کے دوران مکمل نظم و ضبط اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بسنت بسنت لاہور لاہور ہائیکورٹ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بسنت لاہور لاہور ہائیکورٹ
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔