بسنت کے موقع پر لاہور میں چار روزہ تعطیلات کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور میں بسنت کے روایتی جشن کے موقع پر شہریوں کو ایک ساتھ چار روزہ تعطیلات ملنے کا امکان ہے، جس سے نہ صرف عوام کو تفریح کا موقع میسر آئے گا بلکہ شہر میں ٹریفک کا دباؤ بھی نمایاں طور پر کم ہونے کی توقع ہے۔
ذرائع کے مطابق جمعرات 5 فروری کو یومِ کشمیر کی سرکاری تعطیل پہلے سے ہی طے شدہ ہے جبکہ ہفتہ اور اتوار کی ہفتہ وار چھٹیاں بھی معمول کے مطابق ہوں گی، اس کے علاوہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جمعہ کے روز اضافی تعطیل کی تجویز بھی زیر غور ہے، جس کی منظوری کی صورت میں لاہور میں مسلسل چار دن کی تعطیلات ہو جائیں گی۔
انتظامی ذرائع کا کہنا ہے کہ چار روزہ تعطیلات کے باعث شہر میں ٹریفک کا دباؤ معمول سے کم رہنے کا امکان ہے۔ سڑکوں پر گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی تعداد میں کمی متوقع ہے جس سے شہریوں کو آمد و رفت میں آسانی ہوگی۔ خاص طور پر کاروباری علاقوں اور مرکزی شاہراہوں پر رش کم رہنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب لاہور میں بسنت کے جشن کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق 6، 7 اور 8 فروری کو شہر کے مختلف علاقوں میں بسنت کی تقریبات منعقد کیے جانے کا امکان ہے۔ روایتی طور پر بسنت کے موقع پر پتنگ بازی، ثقافتی سرگرمیوں اور نجی تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے، جس کے لیے شہریوں میں خاصا جوش و خروش پایا جا رہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ بسنت کے دوران شہریوں کی حفاظت اولین ترجیح ہوگی۔ انتظامیہ کی جانب سے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جشن کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور ٹریفک قوانین کی مکمل پابندی کریں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ اس حوالے سے بسنت کے دنوں میں اضافی ٹریفک پولیس تعینات کرنے اور خصوصی انتظامات کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق پتنگ بازی کے دوران دھاتی ڈور اور دیگر خطرناک مواد کے استعمال کی سخت نگرانی کی جائے گی جبکہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انتظامیہ نے شہریوں سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہوار کو خوش اسلوبی اور ذمہ داری کے ساتھ منایا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: لاہور میں کا امکان کے مطابق بسنت کے
پڑھیں:
اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی(bushra bibi) کے درمیان ہفتہ وار ملاقات کرائی گئی، جو تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی۔
جیل ذرائع کے مطابق ملاقات جیل کے کانفرنس روم میں ہوئی جہاں دونوں نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات جیل حکام کی نگرانی میں مقررہ ضابطوں کے مطابق کرائی گئی۔
دوسری جانب ملاقات کے دن کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے کسی وکیل یا خاندان کے دیگر افراد کی ملاقات نہ ہو سکی۔ جیل ذرائع کے مطابق معمول کی ملاقاتوں کے حوالے سے سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات برقرار رہے۔
ادھر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے نامزد نمائندے اور صوبائی حکومت کے بعض عہدیدار بھی اظہارِ یکجہتی کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے، تاہم انہیں بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔
مزید پڑھیں:فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
اسی دوران بانی پی ٹی آئی کی بہنیں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی اڈیالہ جیل پہنچیں، تاہم پولیس نے انہیں فیکٹری ناکے سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ ذرائع کے مطابق سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر انہیں جیل تک رسائی نہیں دی گئی۔