سعودی عرب: اعضا عطیہ کرنے والے 200 افراد کو شاہی اعزازات سے نوازا گیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ریاض:سعودی عرب میں اعضا عطیہ کرنے والے 200 افراد کے لیے شاہی اعزازات کا اعلان کیا گیا ہے۔ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز نے اعضا عطیہ کرنے والے شہریوں کو کنگ عبدالعزیز میڈل (تھرڈ کلاس) سے نوازنے کی منظوری دی ہے۔ یہ اعزاز انسانی ہمدردی کے جذبے کو سراہنے اور دیگر شہریوں کو بھی اعضا عطیہ کرنے کی ترغیب دینے کے لیے دیا جا رہا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کےمطابق یہ اقدام ملک میں انسانی ہمدردی، سماجی فلاح اور صحت کے شعبے میں شعور بڑھانے کے لیے اٹھایا گیا ہے، کنگ عبدالعزیز میڈل عطیہ کرنے کا مقصد معاشرے میں خیرسگالی کے جذبے کو اجاگر کرنا اور شہریوں میں عضو عطیہ کرنے کے حوالے سے شعور پیدا کرنا ہے۔
سعودی میڈیا کے مطابق یہ اعزازات اعضا عطیہ کرنے والوں کے لیے ایک بڑی شناخت کے طور پر پیش کیے جا رہے ہیں۔ میڈل حاصل کرنے والے شہریوں میں مختلف عمر کے افراد شامل ہیں، جنہوں نے انسانی جانوں کی حفاظت اور زندگیوں کو بچانے کے لیے اعضا عطیہ کیے۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام معاشرتی ذمہ داری اور انسانی ہمدردی کو فروغ دینے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
شاہی اعزازات کے اعلان پرمتعدد شہریوں نے کہا کہ یہ اقدام ایک مثبت مثال ہے جو سماجی شعور کو بڑھانے اور انسانیت کی خدمت کے جذبے کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اعضا عطیہ کرنے کرنے والے کے لیے
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔