دیکھنا ہے بسنت سے متعلق سیکیورٹی کے کیا انتظامات کیے گیے ہیں؟ لاہور ہائیکورٹ
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ دیکھنا ہے بسنت سے متعلق سیکیورٹی کے کیا انتظامات کیے گیے ہیں؟
لاہور ہائی کورٹ میں پنجاب ریگولیشن آف کائٹ فلائنگ ایکٹ 2026 کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ جسٹس اویس خالد نے اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی۔
عدالت کا اپنے ریمارکس میں کہنا تھا کہ بادی النظر میں25 سال بعد کائیٹ فلائنگ کا تہوار منایا جارہا ہے۔
محکمہ داخلہ کے مطابق پنجاب میں پتنگ سازی اور پتنگ بازی پر پابندی برقرار ہے، پتنگ بازی پر 5 سال قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا۔
عدالت نے ایڈیشنل سیکریٹری ہوم کو ریکارڈ سمیت طلب کر کے درخواست پر سماعت 22 جنوری تک ملتوی کردی۔
عدالت نے درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے اور سرکاری وکیل کو ہدایات لے کر پیش ہونے کی بھی ہدایت کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔