Nawaiwaqt:
2026-07-24@10:25:22 GMT

بے گناہی ثابت کرنے کیلئے موقع نہ دینا ناانصافی:سپریم کورٹ

اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT

بے گناہی ثابت کرنے کیلئے موقع نہ دینا ناانصافی:سپریم کورٹ

 اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) سپریم کورٹ نے اہل کار کی بحالی کے خلاف ایف سی کی درخواست خارج کردی۔ سپریم کورٹ میں فرنٹیئر کور کے اہلکار کی بحالی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی، جس میں عدالت عظمیٰ نے ایف سی خیبر پی کے کی درخواست خارج کر دی۔ مقدمے کی سماعت جسٹس عائشہ ملک کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کی۔ سماعت کے دوران ایف سی کے وکیل نے مو قف اختیار کیا کہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کی روشنی میں اہلکار کو ملازمت سے برطرف کیا گیا تھا اور ایسا کنڈکٹ کسی ڈسپلن فورس میں قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ جسٹس عائشہ ملک نے دوران سماعت ریمارکس دیے کہ اہلکار کو دفاع کا موقع دیے بغیر ہی نوکری سے برخاست کر دیا گیا جب کہ ادارے کی جانب سے اہلکار کے خلاف ریگولر انکوائری بھی نہیں کروائی گئی۔ جسٹس عائشہ ملک نے مزید کہا کہ فیڈرل ٹربیونل نے بھی انہی وجوہات کی بنیاد پر اہلکار کو ریلیف دیا۔ بے گناہی ثابت کرنے کے لیے موقع نہ دینا ناانصافی کے مترادف ہے۔ واضح رہے کہ ایف سی کی جانب سے اہلکار ہنزلہ کی ملازمت بحالی کے خلاف فیڈرل سروس ٹربیونل کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا، تاہم عدالت نے ایف سی کی درخواست خارج کر دی۔ قبل ازیں فیڈرل سروس ٹربیونل نے تمام مراعات کے ساتھ ہنزلہ کی ملازمت بحال کرنے کا حکم دیا تھا۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا

نیب کیسز سے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سیا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے، نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اس سماعت کا اختیار ہی نہیں، نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔بانی پی ٹی آئی نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی، نیب کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھےجائیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی، نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں، بنچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔درخواستگزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
 

متعلقہ مضامین

  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • فلک جاوید اور صنم جاوید کےخلاف ٹویٹ کیس کی سماعت ملتوی
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست