Nawaiwaqt:
2026-06-02@22:32:23 GMT

بے گناہی ثابت کرنے کیلئے موقع نہ دینا ناانصافی:سپریم کورٹ

اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT

بے گناہی ثابت کرنے کیلئے موقع نہ دینا ناانصافی:سپریم کورٹ

 اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) سپریم کورٹ نے اہل کار کی بحالی کے خلاف ایف سی کی درخواست خارج کردی۔ سپریم کورٹ میں فرنٹیئر کور کے اہلکار کی بحالی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی، جس میں عدالت عظمیٰ نے ایف سی خیبر پی کے کی درخواست خارج کر دی۔ مقدمے کی سماعت جسٹس عائشہ ملک کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کی۔ سماعت کے دوران ایف سی کے وکیل نے مو قف اختیار کیا کہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کی روشنی میں اہلکار کو ملازمت سے برطرف کیا گیا تھا اور ایسا کنڈکٹ کسی ڈسپلن فورس میں قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ جسٹس عائشہ ملک نے دوران سماعت ریمارکس دیے کہ اہلکار کو دفاع کا موقع دیے بغیر ہی نوکری سے برخاست کر دیا گیا جب کہ ادارے کی جانب سے اہلکار کے خلاف ریگولر انکوائری بھی نہیں کروائی گئی۔ جسٹس عائشہ ملک نے مزید کہا کہ فیڈرل ٹربیونل نے بھی انہی وجوہات کی بنیاد پر اہلکار کو ریلیف دیا۔ بے گناہی ثابت کرنے کے لیے موقع نہ دینا ناانصافی کے مترادف ہے۔ واضح رہے کہ ایف سی کی جانب سے اہلکار ہنزلہ کی ملازمت بحالی کے خلاف فیڈرل سروس ٹربیونل کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا، تاہم عدالت نے ایف سی کی درخواست خارج کر دی۔ قبل ازیں فیڈرل سروس ٹربیونل نے تمام مراعات کے ساتھ ہنزلہ کی ملازمت بحال کرنے کا حکم دیا تھا۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا


فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔

سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔

سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ